ماں قسط نمبر10 Mother novel 138

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 8

Spread the love

اس پریشان کن شام کے تقریباًایک مہینے کے بعد پولیس والے آپہنچے۔ نکولائی وسوف شیکوف پاویل اور آندری سے ملنے آیا تھا۔ اورتینوں اخبار کے متعلق باتیں کر رہے تھے۔ کافی دیر ہو گئی تھی۔ تقریباً آدھی رات کا وقت تھا۔ ماں سونے کے لئے جا چکی تھی اور ہلکی سی غنودگی کے عالم میں اس کے کان ان کی کچھ دھیمی دھیمی، فکر مند آوازیں آئیں۔ اور اس کے بعد آندری پنجوں کے بل چلتا ہوا باورچی خانے سے ہو کر گیا اور دروازہ بند کرتا گیا۔ ایک گھڑا گرنے کی آواز آئی۔ دروازہ کھل گیا اور خوخول باورچی خانے میں داخل ہوا۔(ماں گورکی قسط 8)

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 7

’’مہمیزوں کی آوازیں آرہی ہیں‘‘ اس نے سرگوشی کے انداز میں زور سے کہا۔

ماں بستر پر سے اچھل کر کھڑی ہو گئی اور کانپتے ہوئے ہاتھوں سے کپڑے پہننے لگی لیکن پاویل دروازے میںنمودار ہوا اور آہستہ سے بولا:

’’جائو۔ سو جائو۔ تمہاری طبیعت اچھی نہیں ہے۔‘‘

ڈیوڑھی میں سر سراہٹ سنائی دی۔ پاویل دروازے کے پاس پہنچا اور اسے کھولتا ہوا بولا:

’’کون ہے۔۔۔‘‘

فوراً ہی ایک طویل قامت بھورے لباس میں ملبوس شخص نمودار ہوا۔ اس کے پیچھے ایک اور شخص تھا اور دو خفیہ پولیس کے سپاہی پاویل کو الگ دھکیل کر اس کے دونوں طرف کھڑے ہو گئے۔

’’ہم وہ نہیں ہیں جن کا انتظار کر رہے تھے۔ کیوں؟‘‘ایک بھاری مذاق اڑاتی ہوئی آواز آئی۔

جس شخص نے یہ بات کہی وہ ایک دبلا سوکھا سا افسر تھا، جس کی مونچھیں چھدری اور سیاہ تھیں۔ ایک مقامی سپاہی جس کا نام فید یاکن تھا، ماں کے بستر کے پاس پہنچا۔

’’حضور، یہ اس کی ماںہے‘‘ ایک ہاتھ سے اس نے افسر کو سلام کیا اور دوسرے سے پلاگیا کی طرف اشارہ کیا۔ ’’اور یہ وہ خود ہے‘‘ پاویل کی طرف اشارہ کر کے بولا۔

’’پاویل ولاسوف‘‘افسر نے آنکھیںسکیڑتے ہوئے دریافت کیا۔

پاویل نے اثبات میں سر ہلایا۔

’’مجھے تمہارے مکان کی تلاشی لینی ہے‘‘ افسر نے مونچھوں پر تائو دیتے ہوئے بات جاری رکھی۔ ’’اے عورت اٹھ، اور وہاں کون ہے؟‘‘ دروازے سے جھانکنے کے بعد وہ دوسرے کمرے میں چلا گیا۔

’’تمہارے نام‘‘ اس کی آواز آئی۔

ڈیوڑھی کے دروازے میں دو گواہ نظر آئے ایک تو صفار خانے کا پرانا مزدور توریاکوف تھا، اور دوسرا بھئی جھونکنے والا ریبن تھا۔ وہ بھاری بھر کم سیاہ سا انسان تھا اور توریاکوف کے مکان میں ایک کمرہ کرائے پر لے کر رہتا تھا۔

’’آداب نلوونا!‘‘ اس نے ماں سے بڑی روکھی اور بھاری آواز میںکہا۔

ماں کپڑے پہنتے ہوئے خود اپنی ہمت بندھانے کے لئے اپنے آپ ہی آپ زیر لب باتیں کئے جا رہی تھی:

’’آج تک کبھی ایسا نہیں سنا تھا! آدھی رات کو اس طرح گھسے چلے آرہے ہیں! لوگ سو رہے ہیں اور یہ ہیں کہ اندر چلے آرہے ہیں، بھلا کوئی بات بھی ہے!‘‘

کمرے میں لوگ بھرے ہوئے تھے اور کسی وجہ سے جوتوں کی پالش کی بو کمرے میں بسی ہوئی تھی۔ دو خفیہ پولیس والوں اور مقامی پولیس کے عہدہ دار نے آہستہ آہستہ الماری سے کتابیں نکالیں اور بڑے افسر کے سامنے میز پر ڈھیر کر دیں۔ دوسرے دو آدمیوں نے دیوار پر زور زور سے گھونسے مارے، کرسیوں کے نیچے جھانک کر دیکھا اور ان میں سے ایک تو بھدے پن سے چولہے کے اوپر بھی چڑھ گیا۔ خوخول اور نکولائی وسوف شیکوف ایک کونے میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے۔ چیچک رو نکولائی سرخ پڑ گیا اور اس نے اپنی چھوٹی بھوری آنکھیں افسر کی طرف سے ایک منٹ کو بھی نہ ہٹائیں۔ خوخول کھڑا اپنی مونچھوں کو تائو دیتا رہا اور جب ماںکمرے میں داخل ہوئی تو اس کی ہمت بندھانے کے لئے تھوڑا ہنسا اور اسے اشارہ کیا۔

اپنے خوف پر قابو پانے کے لئے وہ عام انداز کے مطابق آڑی نہ چلی بلکہ سینہ تانے ہوئے سیدھی چلتی رہی۔ اس بات نے اس کے جسم کو دلچسپ خود پسندانہ انداز دید یا تھا۔ وہ اپنے پر شور قدموں سے ہمت کا اعلان کرتی چلی جا رہی تھی لیکن ا سکی بھوویں پھڑک رہی تھیں۔

افسر نے کتابوں کو اپنے سفید ہاتھوں کی پتلی پتلی انگلیوں سے پکڑا۔ جلدی جلدی ان کے ورق الٹے اور پھر سبک دستی سے انہیں ایک طرف پٹک دیا ان میں سے چند کتابیں فرش پر گر پڑیں۔ کسی نے ایک لفظ بھی نہ کہا۔ پسینے سے شرابور خفیہ پولیس والے زور زور سے ہانپ رہے تھے اور اپنے مہمیزیں بجا رہے تھے، اور کبھی کبھی وہ یہ سوال پوچھ لیتے تھے:

’’یہاں بھی دیکھ لیا؟‘‘

ماں پاویل کے نزدیک دیوار سے لگی کھڑی تھی۔ وہ اپنے ہاتھوں کو بیٹے کی طرح باندھے ہوئے تھی اور اس کی نظریں افسر کا تعاقب کر رہی تھیں۔ اسے اپنے گھٹنے جواب دیتے ہوئے محسوس ہوئے اور خشک آنسوئوں نے اس کی آنکھوں پر پردہ ساڈال دیا تھا۔

’’کتابیں زمین پرکیوں پھینک رہے ہو؟‘‘ دفعتاً خاموشی کو چیرتی ہوئی نکولائی کی کرخت آواز سنائی دی۔

ماں چونک پڑی۔ توریاکوف نے اپنے سر کو جھٹکا دیا جیسے کسی نے اسے دھکا دیا ہو، ریبن نے ایک ناراضگی کی آواز نکالی اور اس نے نکولائی پر اپنی نظریں گاڑ دیں۔

افسر نے آنکھیں سکیٹریں اور نکولائی کے جامد اور سخت چیچک زدہ چہرے کی طرف خشم آگئیں نگاہوں سے دیکھا۔ اس نے اور تیزی سے کتابوں کے ورق الٹنے شروع کر دئیے۔ بعض وقت افسر اپنی بڑی بڑی بھوری آنکھیں اس طرح پوری پوری کھول دیتا جیسے وہ شدید درد میں مبتلا ہو اور کسی بھی لمحے مجبور احتجاج کے تحت چیخ پڑنے والا ہو۔

’’اے سپاہی!‘‘ وسوف شیکوف نے دوبارہ کہا۔ ’’کتابیں اٹھائو!‘‘

سارے خفیہ پولیس والوں نے مڑکر اس کی طرف اور پھر بڑے افسر کی طرف دیکھا۔ افسر نے سر اٹھایا اور نکولائی کے چوڑے چکلے جسم پر ایک حقارت آمیز نظر دوڑائی۔

’’ ہوں‘‘ وہ ناک میں سے بولتا ہوا منمنایا۔ ’’اٹھا لو کتابیں۔‘‘ ایک سپاہی نے جھک کر بکھری ہوئی کتابیں اٹھانی شروع کیں۔

’’نکولائی ذرا زبان کو قابو میں رکھے تو بہتر ہے‘‘ ماں نے پاویل کے کان میں کہا۔

اس نے اپنے کاندھے جھٹک دیئے۔ خوخول نے اپنا سرجھکا لیا۔

’’یہ بائبل کون پڑھتا ہے؟‘‘

’’میں پڑھتا ہوں‘‘ پاویل نے جواب دیا۔

’’ یہ ساری کتابیں کس کی ہیں؟‘‘

’’میری‘‘ پاویل نے کہا۔

’’اچھا‘‘ افسر نے کرسی پر نیم دراز ہوتے ہوئے کہا۔ اس نے اپنے نازک سے ہاتھوں کی انگلیاں چٹخائیں، میز کے نیچے اپنے پائوں پھیلائے، مونچھوں پر ہاتھ پھیرا اور نکولائی سے کہا:

’’تم آندری نخود کا ہو؟‘‘

’’ہاں‘‘ نکولائی نے آگے آتے ہوئے کہا۔ خوخول نے اس کا کاندھا پکڑتے ہوئے اس پیچھے گھسیٹ لیا۔

’’یہ غلط کہتا ہے، میں ہوں آندری۔۔۔‘‘ افسر نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور وسوف شیکوف کی طرف انگلی سے اشارہ کیا۔

’’حد سے آگے مت بڑھو!‘‘

اس کے بعد وہ کا غذات ٹٹولنے لگا۔

چاندنی میں نہائی ہوئی رات، سرد اور بے نیاز کھڑکی میں سے جھانک رہی تھی۔ کوئی آہستہ آہستہ گھر کے پاس سے گزرا اور برف اس کے پیروں تلے چرمرائی۔

آفیسر نے نخود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’تم تو پہلے بھی شامل تفتیش رہ چکے ہو، شاید منفی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے‘‘

’’جی یہ درست ہے۔ ہاں ایک بار رستوف میں اور دوسری بار سار اتوف میں۔ ایک فرق ضرور ہے کہ وہاں کے خفیہ پولیس والے زیادہ شائستہ تھے۔‘‘

افسر نے اپنی سیدھی آنکھ بند کی اور اسے ملا۔ پھر اس نے اپنے چھوٹے چھوٹے دانت دکھاتے ہوئے کہا:

’’تم ان ذلیل لوگوں کو جانتے ہو جو کارخانے میں مجرمانہ پرچے تقسیم کر رہے ہیں؟‘‘

خوخول حقارت سے ہنسا، انگوٹھوں کے بل کھڑا ہو گیا اور جواب دینے ہی والا تھا کہ نکولائی کی آواز ایک بار پھر گونجی:

’’ذلیل لوگوں کو تو ہم آج پہلی بار دیکھ رہے ہیں۔‘‘

گہری خاموشی چھا گئی۔ ایک لمحے کے لئے کوئی ایک لفظ بھی نہیں بولا۔

ماں کے چہرہ سفید پڑ گیا اور اس کی سیدھی بھویں اوپر چڑھ گئی۔ ریبن کی سیاہ ڈاڑھی عجیب طرح سے پھڑکنے لگی۔ اس نے ڈاڑھی میں انگلیوں سے کنگھی کرنا شروع کر دی اور نظریں زمین پر گاڑ دیں۔

’’اس کتے کو یہاں سے لے جائو‘‘ افسر نے چلا کر کہا۔

دوخفیہ پولیس کے سپاہیوں نے نکولائی کو بازوئوں سے پکڑ لیا اور اسے دھکا دیتے ہوئے باورچی خانے تک لے گئے۔ جہاں اس نے اپنے پیر فرش پر گاڑ کر ان دونوں کو رکنے پر مجبور کر دیا۔

’’ٹھہرو‘‘ وہ چلایا۔ ’’مجھے کوٹ پہننا ہے۔‘‘

پولیس کا عہدہ دار احاطے میں سے اندر داخل ہوا۔

’’وہاں تو کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم نے ہر چیز دیکھ لی۔‘‘

’’ظاہر ہے‘‘ افسر نے طنز سے کہا۔ ’’ہمارا سابقہ ایک تجربہ کار آدمی سے پڑا ہے!‘‘

ماں نے اس کی کمزور، بے لوچ آواز سنی اور خوفزدہ ہوکر اس کے زرد چہرے کی طرف دیکھا۔ اس نے محسوس کر لیا کہ وہ بڑا بے رحم اور کٹھور دشمن ہے، جس کے دل میں عام انسانوں کے لئے ایک رئیسانہ، پر نخوت حقارت کے سوا کچھ نہیں۔ اس قسم کے لوگوں سے ماں کو بہت کم سابقہ پڑا تھا اور اس نے ان کی ہستی کو تقریباً بھلا بھی دیا تھا۔

’’اچھا تو یہی لوگ ہیں جو پرچوں سے پریشان ہوجاتے ہیں‘‘ اس نے سوچا۔

’’آندری انی سیموف، نطفہ حرام، جو نخود کا کے نام سے مشہور ہو، تم گرفتار کئے جاتے ہو!‘‘

’’کس لئے؟‘‘ خوخول نے پرسکون لہجے میں دریافت کیا۔

’’یہ تمہیں بعد میں معلوم ہو جائے گا‘‘ افسر نے چکنی چپڑی کمینگی سے جواب دیا۔ ’’اور تم خواندہ ہو، پڑھنا لکھنا جانتی ہو؟‘‘ اس نے پلا گیا کی طرف پلٹ کر پوچھا۔

’’نہیں، یہ ناخواندہ ہے‘‘ پاویل نے جواب دیا۔

’’میں تم سے نہیں پوچھ رہا ہوں‘‘ افسر نے ترشی سے جواب دیا۔ ’’عورت جواب کیوں نہیںدیتی؟‘‘

ماں کے دل میں اس شخص کے لئے بے انتہا نفرت ابھر آئی۔ دفعتاً وہ تھر تھر کانپنے لگی جیسے ٹھنڈے پانی میں کود پڑی ہو۔ پھر سیدھی تن کر کھڑی وہ گئی۔ اس کا چہرہ سرمئی اور بھویںجیسے آنکھوں پر جھک آئیں۔

’’چلانے کی ضرورت نہیں‘‘ اس نے اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔ ’’تم ابھی کم عمر ہو اور نہیں سمجھ سکتے کہ مشکلات کہتے کسے ہیں؟‘‘

باپ کی تدفین پر دوشیزہ بنی ریپ کا نشانہ

’’غصہ تھوک دو ماں‘‘ پاویل نے اسے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔

’’ٹھہرو پاویل!‘‘ وہ چلائی اور میز کی طرف دوڑی۔ ’’تم ان لوگوں کو آخر کیوں لے جا رہے ہو؟‘‘

’’اس بات سے تمہارا کوئی تعلق نہیں۔ خاموش!‘‘ افسر نے کھڑے ہوتے ہوئے چلا کر کہا۔ ’’وسوف شیکوف کو اندر لائو۔ وہ بھی حراست میں ہے!‘‘

پھر اس نے کاغذات پڑھنے شروع کئے جو وہ اپنی ناک کے پاس پکڑے ہوئے تھا۔

نکولائی کو اندر لایا گیا۔ افسر پڑھتے پڑھتے رک کر چیخا:

’’اپنی ٹوپی اتارو!‘‘

ریبن پلا گیا کے پاس آیا اور کہنی سے اسے اشارہ کیا:

’’پریشان مت ہو ماں۔‘‘

’’میں ٹوپی کیسے اتاروں جب کہ یہ لوگ میرے ہاتھ پکڑے ہوئے ہیں؟‘‘ نکولائی نے کار روائی کے کاغذات پڑھے جانے کی آواز کو اپنی آواز میںڈبو دیا۔

’’اس پردستخط کرو!‘‘ افسر نے کاغذ میز پر پھینکتے ہوئے کہا۔

ماں نے ان لوگوں کو دستخط کرتے ہوئے دیکھا تو اس کا غصہ ٹھنڈا ہو گیا۔ اس کا دل بیٹھنے لگا اور بے انصافی کے احساس اور مجبوری وبیچارگی سے اس کی آنکھوں میں آنسو امنڈ آئے۔ اس نے اپنی شادی شدہ زندگی کے بیس سال تک اسی قسم کے آنسو بہائے تھے۔ لیکن گذشتہ چند برسوں میں وہ ایسے آنسوئوں کی تیز چھبن کو تقریباً بھول سی گئی تھی۔ افسر نے اس کی طرف دیکھا اور منصوعی مسکراہٹ سے کہا:

’’ابھی اپنے آنسوئوں کو اٹھا رکھو، اے عورت، ورنہ آیندہ کے استعمال کے لئے باقی نہیں رہیں گے۔‘‘

اس کے دل میں غصہ کی دوسری لہر امنڈنے لگی۔

’’ماں کے پاس ہمیشہ ہر چیز کے لئے کافی آنسو ہوتے ہیں۔ ہر چیز کے لئے۔ اگر تمہاری کوئی ماں ہے تو وہ بھی یہ بات ضرور جانتی ہو گی۔‘‘

افسر نے جلدی جلدی اپنے کاغذات ایک نئے تھیلے میں رکھتے ہوئے کہا

’’چلو! چلیں‘‘

’’خدا حافظ آندری، خدا حافظ نکولائی!‘‘ پاویل نے ہاتھ ملاتے ہوئے نرم وبے آواز گرم جوشی سے کہا۔

’’تم لوگوں کی غالباً جلد ہی ملاقات ہو گی‘‘ افسر نے کچھ ہنس کر کہا۔

وسوف شیکوف نے بھاری سانس لیا۔ خون کھنچ کر اس کی موٹی گردن تک پہنچ گیا اور اس کی آنکھوں میں شدید غصہ کی چمک پیدا ہو گئی۔ خوخول نے مسکراہٹ کی بجلی چمکائی، اپنا سر ہلایا اور ماں سے آہستہ سے کچھ کہا۔ ماں نے اس پر صلیب کا نشان بنایا اور بولی:

’’اللہ خوب جانتا ہے کہ کون حق پر ہے!۔۔۔‘‘

آخر کار خاکی وردی پہنے تمام لوگ ڈیوڑھی میں جمع ہو گئے اور پھر مہمیزوں سے شور کرتے ہوئے غائب ہو گئے۔ سب سے آخر میں ریبن گیا۔ وہ پاویل کی طرف بڑی حسرت سے دیکھتا گیا۔

’’اچ۔۔۔ چھا۔۔۔ خدا حافظ‘‘ اس نے متفکرانہ لہجے میںکہا اور کھانستا ہوا دروازے کے باہر چلا گیا۔

پاویل نے پیٹھ پر ہاتھ باندھ کر فرش پر ٹہلنا شروع کیا۔ وہ زمین پر بکھری ہوئی کتابوں اور کپڑوں پر سے گزر رہا تھا۔

’’دیکھا، اس طرح کرتے ہیں یہ لوگ‘‘جیسے یقین ہی نہ آرہا ہو۔

اس کی ماں نے اس سارے انتشار کو اس طرح دیکھا جیسے یقین ہی نہ آرہا ہو۔

’’نکولائی کو اتنا تیز بننے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ اس نے افسوس کرتے ہوئے کہا۔

’’میرا خیال ہے کہ شاید وہ ڈر گیا تھا‘‘ پاویل نے جواب دیا۔

’’اندر گھس آئے، لوگوں کو پکڑا، اور چل دیئے۔۔۔ آناً فاناً میں سب کچھ ہو گیا!‘‘ وہ ہاتھ ملتی ہوئی بڑ بڑائی۔

اس کا بیٹا گرفتار نہیںکیا گیا تھا اس لئے اس کے دل کو ذرا اطمینان تھا لیکن ان ناقابل فہم واقعات سے جنہیں اس نے دیکھا تھا اس کا ذہن مفلوج سا ہو گیا۔

’’اس زرد چہرے والے نے ہماری طرف حقارت سے دیکھا، ہمیں خوفزدہ کرنے کوشش کی۔۔۔‘‘

’’اچھا خیر اماں‘‘ پاویل نے ایک دفعتاً عزم کے ساتھ کہا۔ ’’آئو ذرا اسے صاف کر دیں۔‘‘

اس نے اسے ’’اماں‘‘ کہا اور اس کے لہجے میں وہ انداز تھا جو اس وقت پیدا ہوتا جب وہ ماں سے بڑی نزدیکی محسوس کرتا تھا۔ وہ اس کے پاس تک گئی اور اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔

’’تمہیں ان لوگوں نے تکلیف پہنچائی؟‘‘ ماں نے آہستہ سے دریافت کیا۔

’’ہاں!‘‘ اس نے جواب دیا۔ ’’بہت تکلیف۔ زیادہ بہتر ہوتا کہ دوسروں کے ساتھ مجھے بھی لے جاتے۔‘‘

ماں کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اور اس کی تکلیف کو کم کرنے کی امید میں ماں نے ٹھنڈا سانس بھر کر کہا:

’’زیادہ دن کی بات نہیں وہ لوگ تمہیں بھی لے جائیں گے۔‘‘

’’یہ تو ہونے ہی والا ہے‘‘ اس نے جواب دیا۔

وہ ایک لمحہ کے لئے خاموش ہو گئی۔

’’تم کتنے سخت آدمی ہو پاویل‘‘ آخر کار اس نے کہا۔ ’’کاش تم اپنی ماں کو کبھی تو تسکین دے دیا کرو! میرا ہی ایسی بد فالیاں کرنا کون سا کم تھا جو تم اور بھی زیادہ بری باتیں کہہ رہے ہو!‘‘

پاویل نے نظر اتھا کر دیکھا او ر اس کے نزدیک آکر آہستہ سے کہا:

’’کیا کروں ماں، مجھے تسلی دینی آتی ہی نہیں۔ تمہیں اس کا عادی ہونا پڑے گا۔‘‘

اس نے سرد آہ بھری اور اپنی آواز کو بھرانے سے روکنے کی کوشش کرتے ہوئے تھوڑے وقفے کے بعد بولی:

’’تمہارا کیا خیال ہے، یہ لوگ اذیت بھی دیتے ہیں؟ کھال ادھیڑ دیتے ہیں؟ ہڈیاں توڑ دیتے ہیں؟ جب بھی میں اس کے بارے میں سوچتی ہوں۔ اف میرے لال۔ کیسی ہیت ناک چیز ہے!۔۔۔‘‘

’’یہ لوگ روح کو اذیت دیتے ہیں۔ اس سے اور بھی زیادہ تکلیف ہوتی ہے جب وہ لوگ انسانوں کی روح پر اپنے گندے ہاتھ ڈالتے ہیںـــ۔۔۔‘‘

ماں گورکی قسط 8 ماں گورکی قسط 8 ماں گورکی قسط 8 ماں گورکی قسط 8 ماں گورکی قسط 8 ماں گورکی قسط 8 ماں گورکی قسط 8

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...