جراحیات زہروی 157

کتاب ُ التَّصریف۔علم ُ الجراحت کے جدید تصور کی بنا

Spread the love

مبصر:حکیم محمد شیراز، لکچرر شعبۂ معالجات، کشمیر یونیورسٹی، سری نگر، کشمیر۔

ہند و یورپ تہذیب و تمدن کی راہوں سے آشنا بھی نہ ہوئے تھے اورعالم اسلام کی جانب غاصبانہ اور معاندانہ نگاہ اٹھانے کی جرأت پیدا نہیں ہوئی تھی کہ دنیائے اسلام انتہائی عروج پر پہنچ چکی تھی اور اس کے محیر العقول کمالات اور اکتسابات نے ایشیاء و یوروپ کو ششدر کر رکھا تھا اور آخر اسی سر چشمۂ فیض سے یوروپ نے اپنے دماغ کے خزانے معمور کیے اور دنیا میں نام پیدا کیا۔(کتاب ُ التَّصریف محمد شیراز)

دنیائے اسلام کے انھیں آفتاب کمالات میں ایک نام امام الطب و الجراحت علامہ زہراوی کا ہے۔

نام کتاب:عیون ُ الانباء فی طبقات الاطباّء(اردو ترجمہ)

علامہ موصوف(936ء تا 1013ء) اندلس کے ایک قصبہ الزہراء میں پیدا ہوئے۔جو قرطبہ سے ۵ میل کے فاصلہ پر تھا۔یہ وہ زمانہ تھا جب کہ یوروپ کے طلبہ قرطبہ میں طب اور دوسرے علوم حاصل کرنے آتے تھے اور وہاں سے اسناد حاصل کرنے کے بعداپنے ممالک واپس جا کر اہالیان یوروپ کو مسلم تہذیب اور شائستگی کا درس دیتے تھے۔تمام علوم کے ساتھ ساتھ یہ طلبا فن جراحت کی تعلیم بھی زہراوی سے حاصل کرتے تھے۔

آپ کی تصنیف ’’التصریف‘‘بقائے دوام حاصل کر چکی ہے۔جس کااردو ترجمہ ’’جراحیات زہراوی‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔یہ حصہ اعمال جراحی کی تشریح اور تفصیل اور جراحی کے دقیق نکات پر مشتمل ہے۔اس کی بین خصوصیت یہ ہے کہ اس میں اس زمانہ کے آلات جراحی کی تصاویر بھی موجود ہیں۔اسی کی بنیاد پر آج کل یوروپ اور امریکہ کے علما نے بہ ادنیٰ تغیر، جدید علم و عمل جراحی کی عظیم الشان عمارت کھڑی کی ہے۔یہ ایک شرمناک حقیقت ہے جس سے کسی طرح انکار نہیں کیا جا سکتاکہ جہاں ایک طرف عالمان ِیوروپ نے اس سے اس طرح فائدہ اٹھایا کہ اپنے کمالات کی اصلیت سے بھی منکر ہو گئے۔دوسری طرف ہمار ی یہ حالت ہے کہ ہم نہایت حیرت سے یوروپ کا منہ تکتے ہیں اور اپنے اسلاف کی میراث سے قطعی بے بہرہ اور قدمائے خلف کے کمالات سے بے بہرہ ہیں۔

فیس بک پر ہمیں فالو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مولّف نہایت صائب الرائے اورمجتہد فن جرّاح Surgeonتھا۔جو نہ صرف دوسروں کے ناقص عملیات پر سخت تنقید کرتا ہے بلکہ مجتہدانہ اندا ز میں ان میں اصلاحیںبھی کرتا ہے اور ان کی جگہ اپنی بہتر ایجادات بیان کرتا ہے جس سے اس الزام کی قطعی طور پر تردید ہو جاتی ہے کہ یہ کتاب کسی یونانی زبان کا ترجمہ یا نقل ہے۔ افسوس یہ ہے کہ جس علمی خزانے سے طالبان فن سینکڑوں سال قبل مستفید ہو چکے تھے ہم اب تک اس سے مستفید ہو نا تو درکنار اس کے اکثر اعمال بخوبی سمجھنے سے قاصر ہیں۔
علامۂ فن نے اس کتاب کی ابتدا کئی(داغنا)کے بیان سے کی ہے۔جہاں تک داغنے کا تعلق ہے ، آج کل بھی کاوی ادویہ اور تیزابوں کے ذریعہ داغنے کا عمل جاری ہے۔مرض سرطان میں مقام مالوف کو شعاؤں سے جلا دینے کا طریقہ آج بھی آخری علاج سمجھا جاتا ہے۔

کتاب کے دوسرے حصے میں سر سے پیر تک کے امراض میں علاج بذریعہ آپریشن بیان کیا گیا ہے۔ اور اسی حصہ میں کچھ فصلوں میں علم القابلہ کا بھی ذکر ہے۔ جس میں نہایت واضح طور پر ولادت کے وقت جنین کی جو مختلف شکلیں پیدا ہو جاتی ہیں ان میں جراحی کے نازک نکات بیان کیے گئے ہیں۔ فصد کھولنے، سینگھی لگانے وغیرہ کا بیان بھی بالتفصیل موجود ہے۔

کتاب کے تیسرے حصہ میں ہڈیوں کے جوڑنے اور بیٹھانے کا بیان ہے۔ اس میں علامہ موصوف نے جبیروں اور دوسرے ضمادوں کا بیان نہایت تشریح کے ساتھ سمجھایا ہے۔ آج کل آپریشن کے طریقے تقریباً وہی ہیں جو اس کتاب میں ملتے ہیں۔صرف آلات کی شکلیں حقیقت سے خفیف سی بدلی ہوئی ہیں۔ہم عمل قدح ِ چشم اور والچر پوزیشن سے علامہ موصوف ہی کی بدولت روشناس ہوئے ہیں۔جسے اطبائے یوروپ اپنا کارنامہ سمجھتے ہیں ۔اس کے علاوہ پتھری ، قیلۂ مائیہ کے آپریشن کا طریقہ بھی بطریقۂ جدید درج ہے۔آج بھی اہل مغرب جو ا ب تک فصد کے طریقۂ علاج کا مذاق اڑاتے تھے بہت سے علاج مثلاً ذاتُ الریہ ، سرسام، امتلا دموی وغیرہ میں فصد سے کام لینے لگے ہیں۔ عمل قیلۃ الحلقوم Goiter، عمل اخراج حصاۃLithotomy، عمل قیلۂ مائیHydrocele، عمل فتق الاربیہ Femoral Hernia اور استفراغ تدریجی کی ترکیب جس میں بڑے قسم کے خراج Abcessکو چیرنے کے بعد پیپ یک لخت خارج نہیں کی جاتی ہے ، کو ہی لے لیجیے اور ان جدید ترقی یافتہ اعمال سے موازنہ کیجیے تو عملی اور اصولی طور سے کہیں پر تو بہت خفیف سی ترمیم پائی جائے گی اور کہیں پر بالکل ہی نہیں۔اس کے علاوہ جن اعمال جراحیہ کے متعلق حکیم ابولقاسم زہراوی نے محض نادر حالات میں اجازت دی ہے کو آج بھی اس طرح مشکل اور دشوار خیال کیے جاتے ہیں۔

بلا شک و شبہ اس اہم اور ضروری کتاب کا مطالعہ ہر طب کے طالب علم اور خصوصاً ذاتی ذوق رکھنے والے اصحاب کے واسطے بہت کار آمد ، مفید اورضروری ہے۔

اس کتاب کے مترجم حکیم نثار احمد صاحب علوی(DUMS,Alig)نے اس کتاب کو اردو کا جامہ پہنا کر ایک بہت بڑی کمی کو پورا کر دیا ہے۔حال ہی میں سی سی آریو ایم ، نئی دہلی نے اس کی دیدہ زیب طباعت بھی کی ہے۔

خلاصہ:

طب یونانی سے وابستہ افراد و محققین کو چاہیے کہ اس کتاب کی مدد سے علامہ موصوف کے بیان کیے ہوئے جراحی طریقوں کو دنیا کے سامنے لائیں تاکہ طب یونانی کے شاندار ماضی کا جدید دنیا کو اندازہ ہو سکے۔

حوالہ جات

۱۔جراحیات زہراوی(اردو ترجمہ)، حکیم نثار احمد علوی، سی سی آر یو ایم، نئی دہلی۔
۲۔تاریخ طب و اخلاقیات، حکیم اشہر قدیر۔
۳۔تاریخ طب، حسان گرامی۔

کتاب ُ التَّصریف محمد شیراز کتاب ُ التَّصریف محمد شیراز

اپنا تبصرہ بھیجیں