ماں قسط نمبر10 Mother novel 139

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 7

Spread the love

کتاب کے ورق الٹنے کی آواز آئی۔ پاویل نے پھر کتاب پڑھنا شروع کر دیا ہوگا۔ اس کی ماں آنکھیں بند کئے لیٹی تھی اور سانس لیتے ہوئے بھی ڈر رہی تھی۔ اسے خوخول پر رحم آرہا تھا لیکن اپنے بیٹے پر اس سے بھی زیادہ۔(ماں: گورکی قسط 7)

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 6

’’بیچارہ غریب۔۔۔‘‘ اس نے سوچا۔

’’تو تمہاراخیال ہے کہ مجھے نہ کہنا چاہئے؟‘‘ خوخول دفعتاً بول پڑا۔

’’ایمانداری کا تقاضہ تو یہی ہے‘‘ پاویل نے آہستہ سے کہا۔

’’اچھا ایسا ہی کروں گا‘‘ خوخول نے کہا۔ چند لمحوں کے بعد اس نے آہستہ سے غمگین انداز میںکہا: ’’اگر تم پر بھی ایسی ہی گزری تو سوچو کتنا کٹھن وقت ہوگا۔‘‘

’’میرے لئے وہ کٹھن وقت آگیا ہے۔‘‘

ہوا گھر کی دیواروں سے ٹکرائی۔ گھنٹے کا لنگر پابندی کے ساتھ وقت گزرنے کا اعلان کر رہا تھا۔

’’ہنسی کھیل نہیں۔ یہ‘‘ خوخول نے آہستہ سے کہا۔

ماں تکئے میںمنہ دے کر خاموشی سے روتی رہی۔

صبح کو اسے ایسا معلوم ہونے لگا کہ آندری کچھ چھوٹا سا ہو گیا ہے اور اس کی شخصیت پہلے سے بھی زیادہ پسندیدہ ہو گئی ہے۔ اس کا بیٹا ہمیشہ کی طرح سیدھا دبلا اور خاموش تھا۔ اب تک وہ خوخول کو ہمیشہ آندری اندری انی سیمووچ کہا کرتی تھی لیکن آج غیر ارادی طور پر اس نے کہا:

آندریوشا اپنے جوتوں کی مرمت کرا لو ورنہ تمہیں ٹھنڈ لگ جائے گی۔‘‘

’’اگلی تنخواہ پر نیا جوڑا خرید لوں گا۔‘‘ اس نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ پھر اس نے اپنا لمبا بازو ماں کی گردن میں ڈال دیا اور بولا:

’’کون جانے شاید تم ہی میری اصلی ماں ہو۔ ہاں بات صرف اتنی ہے کہ تم خود اس کا اعتراف کرنا نہیں چاہتیں کیوں ماں، میں اتنا بد صورت جو ہوں۔ کیوں ہے نا؟‘‘

ٹیکس گزارلیڈی سیکس ورکرز کا کام ٹھپ،برٹش سرکار سے مالی امداد کا مطالبہ کر دیا

اس نے کوئی جواب دیئے بغیر اس کے ہاتھ کو تھپکا۔ وہ بہت سے پیار کے الفاظ کہنا چاہتی تھی لیکن اس وقت اس کے دل میں فرط ترحم سے کچھ مسوس سی ہو رہی تھی اور الفاظ اس کے ہونٹوں سے نکل ہی نہ رہے تھے۔

بستی میں لوگ اشتراکیوں کو تذکرہ کرنے لگے جو نیلی روشنائی میںلکھے ہوئے پرچے تقسیم کر رہے تھے۔ ان پرچوں میں کارخانے کے انتظام وانصرام پر سخت تنقید ہوتی، ان میں پیٹرزبرگ اور جنوبی روس کی ہڑتالوں کا تذکرہ ہوتا اور مزدوروں سے کہا جاتا کہ وہ اپنے مفاد کے تحفظ کے لئے متحد ہو جائیں۔

ادھیڑ عمر کے لوگ جو کارخانے میں کافی پیسہ کما رہے تھے غضبناک ہو گئے۔

’’ہنگامہ باز!‘‘ انہوں نے کہا۔ ’’اس بات پر تو ان لوگوں کے سر توڑ دئے جائیں۔‘‘

اور وہ لوگ ان پرچوں کو اپنے مالکوں کے پاس لے گئے۔

نوجوانوں نے پرچوں کو بڑے جوش وخروش سے پڑھا۔

’’بالکل صحیح لکھا ہے‘‘ انہوںنے کہا۔

مزدوروں کی اکثریت نے جو دن بھر کی محنت کے بعد بالکل تھک کر چور ہو گئے تھے بڑی بے اعتنائی دکھائی۔

’’اس سے کچھ نہ ہوگا۔ ان چیزوں سے بھی کوئی کام نکل سکتا ہے!‘‘

لیکن اشتہاروں سے کھلبلی مچ گئی اور اگر ایک ہفتے بھی کوئی نیا پرچہ نہ نکلتا تو مزدور ایک دوسرے سے کہنے لگتے ’’معلوم ہوتا ہے ان لوگوں نے پرچے چھاپنا بند کر دیا۔‘‘

لیکن اسی کے بعد ہی پیر کو نیا پرچہ تقسیم کیا جاتا اور ایک بار پھر مزدور آپس میں باتیں کرنے لگتے۔

کارخانے اور شراب خانے میں ایسے لوگ نظر آنے لگے جن سے کوئی واقف نہ تھا۔ یہ لوگ ہر طرف مارے مارے پھرتے اور طرح طرح کے سوال کرتے، ہر شخص کے معاملات میں دخل دیتے اور اپنی انتہائی احتیاط یا اپنے آپ کو دوسروں پر مسلط کرنے کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں شبہ پیدا کرتے تھے۔

ماں نے محسوس کیا اس ساری ہل چل کی وجہ اس کے بیٹے کی سرگرمیاں ہیں اس نے دیکھا کہ لوگ کس طرح کے چاروں طرف کھینچتے آرہے ہیں اور ماں کے دل میں اپنے بیٹے کے لئے فخر اور اس کی سلامتی کی فکر دونوں قسم کے جذبات ایک دوسرے سے گتھم گتھا تھے۔

ایک شام ماریا کا ر سونووا نے ولاسوف کی کھڑکی پر آکر کھٹکھٹایا اور جب ماں نے کھڑکی کھولی تو اس نے سرگوشی کے انداز مگر اونچی آواز میںکہا:

’’ذرا ہوشیار رہو پلا گیا! ان لوگوں نے مصیبت مول لے ہی لی۔ آج رات تمہارے گھر کی اور مازن کے اور وسوف شیکوف کے گھروں کی بھی تلاشی ہو گی۔‘‘

ماریا کے موٹے موٹے ہونٹ جلدی بند ہو گئے۔ اپنی موٹی سی ناک سے اس نے کچھ سوں سوں کیا اور آنکھیں جھپکا کر دونوں طرف دیکھا جیسے وہ سڑک پر کسی کو تاک رہی ہو۔‘‘

’’اور یاد رکھو کہ نہ میں کچھ جانتی ہوں، نہ میں نے تم سے کچھ کہا اور نہ آج میں یہاں تم سے ملی!‘‘

اس کے بعد وہ چلی گئی۔

کھڑکی بند کرنے کے بعد ماں آہستہ سے کرسی میں دہنس گئی۔ لیکن یہ محسوس کر کے کہ اس کے بیٹے کو خطرہ درپیش ہے وہ فوراًہی کھڑی ہو گئی۔ جلدی سے کپڑے بدلے، سر پر شال ڈالی اور فیدور مازن کے گھر کی طرف چل پڑی۔ وہ بیمار تھا اور اسی لئے کارخانے نہیں گیا تھا۔ جب وہ اندر داخل ہوئی تو وہ کھڑکی کے پاس بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا اور اپنے سیدھے ہاتھ کو سہلا رہا تھا جس کا انگوٹھا غیر فطری طورپر آگے کو نکلا ہوا تھا۔ یہ خبر سنتے ہی وہ کھڑا ہوگیا اور اس کی زرد رنگ واضح ہو رہی تھی۔

’’یہ اچھی مصیبت آئی!‘‘ وہ بڑبڑایا۔

پلاگیا نے کانپتے ہاتھ سے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہوئے دریافت کیا۔ ’’کرنا کیا چاہئے؟‘‘

’’ذرا ٹھہرو۔ گھبرانے کی کوئی بات نہیں!‘‘ فیدور نے اپنے گھنگھریالے بال ماتھے پر سے ہٹاتے ہوئے جواب دیا۔

’’تم تو خود ہی گھبرائے ہوئے ہو‘‘ ماں نے کہا۔

’’میں؟‘‘ وہ شرم سے سرخ ہو گیا اور جھینپ کر مسکرایا۔’ ’ہوں۔۔۔ لعنت ہو اس قصہ پر۔۔۔ پاویل کو مطلع کر دینا چائے، میں کسی کو بھیجوں گا۔ لیکن تم گھر جائو اور پریشان مت ہو۔ وہ لوگ ہمیں ماریں گے نہیں۔ کیوں ہے نا؟‘‘

گھر پہنچ کر اس نے ساری کتابیں اکٹھا کر لیں اور انہیں اپنے سینے سے چمٹائے ہوئے فرش پر ٹہلنے لگی وہ کبھی چولھے کے اوپر دیکھتی کبھی چولہے کے نیچے دیکھتی اور کبھی پانی کے مٹکے میں۔ اس خیال تھا کہ پاویل فوراً کارخانے سے بھاگ کر آجائے گا مگر وہ نہیں آیا۔ آخر وہ تھک کر باورچی خانے میں کتابوں کو اپنے نیچے دبا کر بنچ پر بیٹھ گئی اور پاویل اور خوخول کے گھر آنے تک وہیں بیٹھی رہی کیونکہ اسے اٹھتے ہوئے بھی ڈر رہی تھی۔

’’تمہیں معلوم ہو گیا؟‘‘ ان لوگوں کو دیکھ کر وہ چلائی۔

’’ہاں معلوم ہے‘‘ پاویل مسکرایا۔ تمہیں ڈر لگ رہا ہے؟‘‘

’’بے انتہا۔۔۔‘‘

’’ڈرنا نہیں چاہئے‘‘ خوخول نے کہا۔ ’’اس سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔‘‘

’’ابھی سماوار میں آگ بھی نہیں جلائی‘‘ پاویل بولا۔

’’ان کی وجہ سے۔۔۔‘‘ ماںنے اٹھ کر کتابوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کچھ مجرمانہ انداز میں کہا۔

اس کا بیٹا اور خوخول قہقہہ مار کر ہنسنے لگے اور اس سے اس کی حالت ذرا بہتر ہوئی۔ پاویل نے کچھ کتاب چھانٹ لیں اور انہیں باہر احاطے میں چھپانے کے لئے لے گیا۔

’’اس میں ڈرنے کی کوئی بھی تو بات نہیں ہے ننکو‘‘ خوخول نے سماوار میں آگ جلاتے ہوئے کہا۔ ’’ہاں شرمناک بات ان کے لئے ہے جو ایسی حماقتوں پر وقت صرف کرتے ہیں۔ معمر لوگ اپنی کمر میں تلواریں لٹکائے اور بوٹوں میں مہمیز باندھے یہاں آئیں گے اور ہر چیز الٹ پلٹ دیں گے۔

بستر کے نیچے اور چولہے کے نیچے جھانکیں گے۔ اگر کوئی تہہ خانہ ہے تو وہاں بھی جائیں گے اور سب سے اوپر کے کمرے تک جھانک آئیں گے۔ ان کے منہ پر جالے لگ جائیں گے او وہ کراہت سے نتھنے پھلائیں گے، اور وہ جھنجھلایں گے، شرمندہ ہوں گے اور اسی وجہ سے ظاہر یہ کریں گے کہ وہ بڑے سخت گیر اورغضبناک ہیں۔ انہیں اچھی طرح احسا س ہے کہ ان کا کام کتنا قابل نفرت ہے۔

ایک مرتبہ تو میرا سامان الٹ پلٹ کرتے ہوئے وہ کچھ اس قدر الجھن میں پڑ گئے کہ تلاشی بیچ میں چھوڑ کر چپ چاپ واپس چلے گئے۔ ایک اور مرتبہ لے کر مجھے جیل میںڈال دیا۔ اور تقریباً چار مہینے تک وہیں رکھا۔ جیل میں سوائے بیٹھے رہنے کے اور انتظار کرنے کے اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا۔ پھر اس کے بعد عدالت میں بلایا جاتا ہے۔ سپاہی سڑکوں پر نگرانی کرتے ہوئے لے جاتے ہیں۔ کوئی بڑا افسر سوال کرتا ہے۔ یہ افسر لوگ کچھ زیادہ تیز نہیںہوتے۔ بڑی بے تکی باتیںکرتے ہیں، اس کے بعد سپاہیوں کو حکم دیتے ہیںکہ قیدی کو دوبارہ جیل لے جائو۔ آخر وہ لوگ جو تنخواہ پاتے ہیں اس کے بدلے میں انہیں کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی چاہئے۔ اور آخر کار قیدی رہا کر دیا جاتا ہے۔ او ربس۔‘‘

’’کیسا انداز ہے تمہارا باتیںکرنے کا آندر یوشا!‘‘ ماں نے کہا۔

سماوار کو پھونکنے کے بعد اس نے اپنا لال بھبھوکا چہرہ اٹھایا اور مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا:

’’کیسا انداز؟‘‘

’’جیسے تمہیں آج تک کسی نے تکلیف ہی نہیں پہنچائی۔ ‘‘

’’کیا دنیا میں کوئی ایک ذی روح بھی ایسا ہے جسے کوئی تکلیف نہ پہنچی ہو؟‘‘ اس نے اپنے سر کو جنبش دیتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ ’’مجھے اتنی تکلیف پہنچائی گئی ہے کہ اب میں اس کا خیال ہی نہیں کرتا۔ جب لوگ اس قسم کے ہیں تو پھر کوئی کر ہی کیا سکتا ہے؟ اگر اس کا خیال کرو تو کام میںخلل پڑتا ہے۔ اور پھر تکلیف پر دل کڑھانے سے وقت ضائع کرنے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا۔ یہی ہے زندگی کا عالم! میں تولوگوں کی حرکتوں پر پاگل ہو جایا کرتا تھا لیکن پھر لگا ہوا ہے کہ اس کا پڑوسی اس کی مرمت کرنے والا ہے اس لئے وہ پہلے ہی اس کی گردن میں ہاتھ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ زندگی ایسی ہی گزرتی ہے میری ننکو!‘‘

اس کے الفاظ نرم روی کے ساتھ بہتے رہے اور ہونے والی تلاشی کے متعلق ماں کا خوف دور ہوتا گیا۔ اس کی بڑی بڑی آنکھیں مسکرائیں اور ماںنے محسوس کیا کہ اپنے بھدے پن کے باوجود وہ کتنا پھر تیلا ہے۔

ماں نے سرد آہ بھری۔

’’خدا تجھے خوشی سے مالا مال کرے، آندریوشا!‘‘ اس نے بڑے خلوص سے کہا۔

خوخول سماوار کے پاس چلا گیا اور پھر اس کے سامنے زمین پر بیٹھ گیا۔

’’اگر مجھے ذرا سی خوشی پیش کی جائے تو میں اس سے انکار نہیں کروں گا‘‘ وہ بڑبڑایا۔ ’’لیکن اس کے لئے بھیک کبھی نہ مانگوں گا۔‘‘

پاویل احاطے سے واپس آیا۔

’’وہ لوگ انہیں کبھی نہیں پاسکیں گے‘‘ اس نے اعتماد سے کہا اور ہاتھ دھونے لگا۔ ہاتھ پونچھتے ہوئے وہ اپنی ماں کی طرف مخاطب ہوا:

’’اگر تم نے یہ محسوس کرا دیا کہ تم خائف ہو تووہ لوگ سوچیں گے، اس گھر میں یقینا کچھ نہ کچھ ضرور ہے تب ہی یہ کانپ رہی ہے۔ تم جانتی ہو ہم لوگ کوئی غلط حرکت نہیں کرتے۔ انصاف ہماری طرف ہے اور ہم اپنی زندگیاں اسی کے لئے وقف کر دیں گے۔ یہی ہمارا جرم ہے تو پھر ہم خائف کیوں ہوں؟‘‘

’’میں بالکل ٹھیک ہو جائوں گی پاشا!‘‘ اس نے وعدہ کیا۔ لیکن دوسرے ہی لمحے وہ ایک دم بڑے دکھی انداز میں بول اٹھی ’’کاش وہ لوگ جلدی سے آکر سب دیکھ لیتے اور فرصت ہوجاتی۔‘‘

وہ لوگ اس رات نہیں آئے اور دوسرے دن سویرے ماں بھانپ گئی کہ لڑکے اس پر فقرے کسیں گے اور اس لئے وہ پیش بندی کے طور پر خود اپنا مذاق اڑانے لگی۔

ماں: گورکی قسط 7 ماں: گورکی قسط 7 ماں: گورکی قسط 7 ماں: گورکی قسط 7 ماں: گورکی قسط 7

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...