ماں قسط نمبر10 Mother novel 142

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 6

Spread the love

بستی کے کنارے یہ چھوٹا سا مکان لوگوں کی توجہ کا مر کز بن گیا۔ درجنوں مشکوک نگاہیں نظروں ہی نظروں میں اس کے در ودیوار میں سوراخ ڈالے دے رہی تھیں۔ افواہوں کے پنچھی اس مکان کے اوپر ہیجانی کیفیت میں پھڑپھڑانے لگے۔ لوگ اس نالے کے کنارے والے گھر سے اس پراسرار چیز کو خوف زدہ کر کے نکالنے کی کوشش کرنے لگے جو انہیں اس کے اندر چھپی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ راتوں کو وہ کھڑکیوں میں سے اندر جھانکتے اور کبھی کبھی تو شیشوں پر دستک بھی دے دیتے اور ڈر کر فوراً بھاگ کھڑے ہوتے۔(ماں قسط نمبر 6)

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 5

ایک دن پلا گیا کو شراب خانے کے مالک بیگنتسوف نے سڑک پر روک لیا۔ وہ اچھی صورت شکل کا بوڑھا تھا جو ہر وقت ارغوانی رنگ کے مخمل کی واسکٹ پہنے اپنی تھل تھلی سی سرخ گردن میں ایک سیاہ ریشم کا رومال لپیٹے رہتا۔ اس کی باریک چمکیلی ناک پر کچھوے کے خول کی عینک رکھی رہتی تھی جس کی وجہ سے لوگوں نے اس کا نام رکھ دیا تھا ’’ہڈی کی آنکھیں۔‘‘

جواب کا انتظار کئے بغیر ایک ہی سانس میں اس نے ’’پلاگیا‘‘ پر خشک اور سخت الفاظ کی بوچھار کر دی۔

’’کیسا مزاج ہے پلاگیا نلوونا؟ اور تمہارا بیٹا؟ شادی تو نہیں کرنے والا وہ، یا ارادہ ہے؟ میں تو کہوں گا یہی مناسب عمر ہے۔ بیٹوں کی جتنی جلد شادی ہو جائے والدین کے لئے اتنا ہی اچھا ہے۔ ایک انسان خاندان میں رہ کر جسمانی اور روحانی دونوں طرح زیادہ بہتر حالت میں رہ سکتا ہے۔ تمہاری جگہ میں ہوتا تو اس کی شادی اب تک کر چکا ہوتا۔ میرے خیال میں وقت کا تقاضہ بھی تو یہی ہے، آج کل وہ جو کچھ بھی کرتا پھرتا ہے اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اب لوگوں نے اپنی من مانی زندگی گزارنی شروع کر دی ہے۔ افعال اور خیالات دونوں ہی ضرورت سے زیادہ بے لگام ہو گئے ہیں۔ نوجوان لوگ آج کل عبادت کرنے جاتے ہی نہیں اور عام جگہوں سے دور رہتے ہیں، تاریک کونوں میں چھپ کر اپنے راز و نیاز کرتے ہیں۔ میں جاننا چاہتا ہوں کہ آخر یہ لوگ کیا سرگوشیاں کرتے ہیں؟ یہ لوگ دوسرے لوگوں سے دور کیوں رہتے ہیں؟ وہ کیا بات ہے جو کوئی شخص دوسروں کے سامنے کہنے سے، مثلاً شراب خانے میں کہنے سے، ڈرتا ہے؟ راز! راز کی واحد جگہ تو ہمارا حواری کلیسا ہے! دوسرے تمام راز جو کونوں کھدروں میں کہے جاتے ہیں ذہنوں کے انتشار کی پیداوار ہیں۔ خدا کرے تمہاری صحت اچھی رہے پلاگیا نلوونا!‘‘

وٹی سٹہ شادیوں کا انجام،ایک خاتون کو زہر دیکر دوسری کو ڈنڈے مار کر قتل کر دیا گیا

اس نے تعظیماً اپنی ٹوپی اتاری، اسے ہلاکر بڑے انداز سے سلام کیا اور ماں کو حیران پریشان چھوڑ کر چلا گیا۔

ایک دوسری مرتبہ ولاسوف کی پڑوسن ماریا کارسونووا، جو ایک لوہار کی بیوہ تھی اور کارخانے کے پھاٹک پر کھانے کی چیزیں فروخت کیا کرتی تھی ماں سے بازار میں ملی اور بولی:

’’ذرا اپنے بیٹے پر نظر رکھو پلا گیا!‘‘

’’تمہارا مطلب کیا ہے؟‘‘ ماں نے دریافت کیا۔

’’افواہیں پھیل رہی ہیں‘‘ ماریا نے راز دار انہ انداز میںکہا۔ ’’بہت بری افواہیں میری ماں۔ سنا ہے کہ وہ ایک خفیہ انجمن بنا رہا ہے، خلستی کی طرح۔ ایک دوسرے کی خلستی کی طرح مرمت کرنے کا ارادہ ہے ان کا۔ ۔۔‘‘( خلست روس میں چابک کو کہتے ہیں اور یہ نام ایک جنوبی مذہبی گروہ کو دیا گیا تھا)

’’بالکل حماقت اور بکواس ہے یہ، ماریا!‘‘

’’جہاں دھواں ہوتا ہے وہاں آگ بھی ضرور ہوتی ہے‘‘ خوانچے والی نے کہا۔

ماں نے ساری باتیں اپنے بیٹے سے کہیں لیکن اس نے صرف اپنے کاندھے جھٹک دیئے اور خوخول اپنے مخصوص انداز میں نرم او رگہری ہنسی ہنسا۔

’’لڑکیاں بھی بہت ناراض ہیں‘‘ ماں نے کہا۔ ’’تم بڑے اچھے لڑکے ہو۔ کسی بھی لڑکی کے لئے محبوب شوہر بن سکتے ہو۔ محنتی ہو اور شراب بھی نہیں پیتے۔ لیکن ان بیچاریوں کی طرف ایک نظر اٹھاکر بھی نہیں دیکھتے۔ وہ کہتی ہیںکہ مشتبہ کردار کی لڑکیاں شہر سے تمہارے پاس آتی ہیں۔‘‘

’’ہاں اور کیا!‘‘ پاویل نے تیوری پر بل ڈال کی نفرت سے کہا۔

’’کیچڑ میںہر چیز سے بدبو آتی ہے‘‘ خوخول نے ٹھنڈا سانس بھر کر کہا۔ ’’بہتر ہوتا کہ ان پگلیوں کو تم سمجھا سکتیں کہ شادی کی زندگی کے کیا معنی ہیں ننکو۔ شاید اس وقت یہ لوگ اپنی کمبختی بلانے کے لئے اتنی جلدبازی سے کام نہ لتیں۔۔۔‘‘

’’اچھا، اچھا!‘‘ماں نے کہا۔ ’’سب اچھی طرح جانتی ہیں اور سب سمجھتی بھی ہیں لیکن ان کی قسمت میں اور لکھا کیا ہے؟‘‘

’’اگر وہ سمجھ جائیں تو انہیں راستہ نظر آجائے گا‘‘ پاویل بولا۔

ماں نے اس کے سخت چہرے کی طرف دیکھا۔

’’تم انہیں پڑھاتے کیوں نہیں؟ تیز قسم کی لڑکیوں کو یہاں بلا سکتے ہو۔‘‘

’’اس سے کام نہیں چلے گا‘‘ اس کے بیٹے نے خشک لہجے میں کہا۔

’’لیکن کوشش کرنے میں جاتا کیا ہے؟‘‘ خو خول نے دریافت کیا۔

جواب دینے سے پہلے پاویل خاموش رہا۔

’’سب لوگ جوڑوں میں بٹ جائیں گے، کچھ کی شادی ہو جائے گی اور سارا معاملہ ختم ہو جائے گا۔‘‘

اس کی ماں سوچ میں پڑ گئی۔ وہ پاویل کی راہبانہ سخت گیری سے کچھ پریشان سی ہو گئی۔ وہ یہ تو دیکھ رہی تھی کہ تمام لوگ، یہاں تک کہ خوخول جیسے پختہ کار ساتھی بھی اس سے مشورہ کرتے تھے لیکن اسے ایسا محسوس ہو تا تھا کہ وہ لوگ اس کے بیٹے سے خوف کھاتے تھے اور اس کی سختی کی وجہ سے کوئی بھی اس سے محبت نہ کرتا تھا۔

ایک رات جب وہ سونے کے لئے چلی گئی اور اس کا بیٹا اور خوخول اس وقت تک پڑھ رہے تھے تو باریک پردے کے پیچھے سے ان لوگوں کی گفتگو کی مدہم آواز اس تک پہنچی۔

’’مجھے وہ نتاشا پسند ہے‘‘ خوخول دفعتاً بول اٹھا۔

’’مجھے معلوم ہے‘‘ پاویل نے کچھ وقفے کے بعد کہا۔

اس نے سنا کہ خوخول آہستہ سے اٹھا اور ننگے پائوں فرش پر ٹہلنے لگا اور دھیمے دھیمے افسردہ انداز میں سیٹی بجانے لگا۔ ایک بار پھر اس نے کہا:

’’معلوم نہیں اس نے محسوس کیا بھی یا نہیں؟‘‘

پاویل نے کوئی جواب نہیں دیا۔

’’تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ خوخول نے دھیمی آواز میں پوچھا۔

’’اس نے محسوس کر لیا ہے‘‘ پاویل نے جواب دیا۔ ’’ اسی لئے اس نے یہاں آنا چھوڑ دیا۔‘‘

خوخول نے زور سے اپنا پائوں فرش پر رگڑا او رایک بار پھر اس کی دھیمی سیٹی کی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔

’’اگر میں اس سے کہہ دوں تو کیا ہو‘‘ اس نے دریافت کیا۔

’’کیا کہو گے؟‘‘

’’کہوں گا کہ۔ میں۔‘‘ خوخول نے نرم لہجے میںکہنا شروع کیا۔

’’ضرورت ہی کیا ہے‘‘ پاویل نے بات کاٹی۔

ماں نے سنا خوخول ٹہلتے ٹہلتے رک گیا اور اسے ایسا محسوس ہو اکہ وہ مسکرا رہا ہے۔

’’میرا خیال ہے کہ اگر کسی لڑکی سے محبت ہو جائے تو اس سے کہہ دینا ہی بہتر ہوتا ہے۔ ورنہ اس کا کچھ بھی نتیجہ نہیں نکلتا۔‘‘

پاویل نے زور سے اپنی کتاب بند کی۔

’’تمہیںکس نتیجہ کی امیدہے؟‘‘اس نے دریافت کیا۔

دونوں دیر تک خاموش رہے۔

’’تو پھر؟‘‘ خوخول نے پوچھا۔

’’تمہیں پہلے خود اپنے آپ پر واضح کرلینا چاہئے کہ تم چاہتے کیا ہو آندری؟‘‘ پاویل نے آہستہ سے کہا۔ ’’فرض کرو کہ وہ تم سے محبت کرتی ہے۔ مجھے اس میں شک ہے مگر فرض کر لو۔ اور تم دونوں کی شادی ہو جاتی ہے۔ کیا اچھا جوڑا رہے گا! وہ ہے اہل دانش اور تم مزدور۔ بچے پیدا ہوں گے جن کی پیٹ بھرنے کے لئے تمہیں دن رات خون پسینہ ایک کرنا ہوگا۔ ساری زندگی روٹی کی اور بچوں کے اور کرایہ کے لئے ایک چکی بن کر رہ جائے گی۔ ہمارے عظیم مقصد کے لئے تم بے کار ہو جائو گے۔ تم دونوں۔‘‘

کمرے میں خاموشی طاری ہو گئی۔ اس کے بعد پاویل پھر بولا اور اس بار اس آواز میں اتنی کر ختگی نہیں تھی۔

’’اس خیال کو ترک کر دینا بھی بہتر رہے گا، آندری۔ اسے کیوں مصیبت میں گرفتار کرتے ہو۔‘‘

خاموشی۔ سکنڈ بجاتے وقت یواری گھنٹے کے لنگر کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔

’’میرا آدھا دل محبت کرتا ہے، آدھا دل نفرت کرتا ہے، اسی کو دل کہتے ہیں!‘‘ خوخول نے کہا۔

ماں قسط نمبر 6 ماں قسط نمبر 6 ماں قسط نمبر 6 ماں قسط نمبر 6

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...