195

حکومتی پابندیاں نظر انداز، تاجروں کا آج سے کاروبار کھولنے کا اعلان

Spread the love

کراچی، اسلام آباد ( سٹاف رپورٹر )(حکومتی پابندیاں نظر انداز)کراچی سمیت ملک کی مختلف تاجر تنظیموں نے کل سے کاروبار کھولنے کا اعلان کردیا۔کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین سندھ تاجر اتحاد جمیل پراچہ نے کہا کہ 28 دن سے کراچی بند ہے اور لوگ سسک رہے ہیں، کراچی سے کشمور تک کا تاجر بدحال ہوچکا ہے،

چھوٹے تاجر اوران کے ملازم فاقہ کشی پر مجبور ہوچکے ہیں۔جمیل پراچہ نے کہا کہ لاکھوں ملازمین کو ایک ماہ کی بمشکل تنخواہیں ادا کی ہیں،آج سے تمام حفاظتی انتظامات کیساتھ دکانیں کھول دیں گے۔انہوں نے کہا کہ دوسرا آپشن یہ ہے کہ ہم اہل خانہ کے ساتھ وزیراعلیٰ ہاؤس پہنچ جائیں اور دکانوں کی چابیاں وزیراعلیٰ ہاؤس میں جمع کرادیں، وزیراعلیٰ اور گورنرسندھ نے کوئی رابطہ نہیں کیا لہٰذا تمام تر صورتحال کے ذمہ دار وزیراعلیٰ اورگورنرہاؤس ہیں۔

سپریم کورٹ انسداد کرونا وباء کیلئے وفاق اور صوبوں کی کارکردگی پر برہم

تاجر رہنما رضوان عرفان نے کہا کہ اب مزید لاک ڈاؤن برداشت نہیں کرسکتے، کل سے ہم اپنا کاروبار کھول لیں گے اور ہم حفاظتی اقدامات کے ساتھ کاروبار کھول لیں گے۔دوسری جانب بلوچستان کی تاجر برادری نے بھی کا کل سے کاروباری سرگرمیاں شروع کرنیکااعلان کردیا ہے۔ترجمان انجمن تاجران کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی تاجربرادری مزید لاک ڈاؤن کی متحمل نہیں ہوسکتی،تاجرکورونا سے متعلق احتیاطی تدابیر اختیارکرتے ہوئے مارکیٹیں اوربازارکھولیں گے۔

بلوچستان کے تاجروں کا کہنا ہے کہ کاروبارکھولنے کے حوالے سے ہم نے حکومتی نمائندوں کو آگاہ بھی کردیا ہے۔ادھر خیبرپختونخوا میں بھی تاجر برداری نے 15 اپریل سے کاروبار کھولنے کا اعلان کیا ہے۔یونائیٹیڈ بزنس گروپ کے سربراہ الیاس بلور نے گفتگو میں کہا کہ لاک ڈاؤن کے باعث چھوٹے تاجر فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں، رمضان المبارک سے قبل لوگ خریداری کرتے ہیں،

تجارتی مراکز بند ہونے سے مزدور طبقہ بھی بری طرح متاثر ہے۔پنجاب میں بھی تاجر رہنماؤں نے محدود وقت کے لیے کاروبار کھولنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کردیا۔لاہور میں آل پاکستان انجمن تاجران کے وفد نے وزیر صنعت پنجاب اسلم اقبال سے ملاقات کی۔تاجروں نے مطالبہ کیا کہ حکومت محدود وقت کے لیے کاروبار کھولنے کی اجازت دے اور کورونا وائرس کے انسداد کے لیے ایس او پیز تیارکرے، ہم عملدرآمد کرنے پر تیار ہیں

۔تاجر رہنما نعیم میر کا کہنا تھا کہ حکومتی ملکیت دکانوں کا کرایہ معاف کرکے مثال قائم کی جائے،محکمہ اوقاف، ریلوے اور لوکل گورنمنٹ کی دکانوں کے کرائے معاف کیے جائیں۔

دوسری طرف انجمن تاجران پاکستان کے مرکزی صدر کاشف چوہدری نے حکومت کے انڈسٹری کھولنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اپنے فیصلے پر از سر نو غور کرے ،ہم آج اگر کال دے دیں تو کل پورا پاکستان کھل جائے گا لیکن ہم ریاست سے ٹکراو نہیں چاہتے ،

ملک میں کورونا کا پھیلاو حکمرانوں کی نا اہلیوں کا نتیجہ ہے حکومت وہ فیصلے کرے جس سے کورونا بھی ختم ہو اور بھوک بھی ۔ منگل کواسلام آباد میں انجمن تاجران پاکستان کے مرکزی صدر کاشف چوہدری نے انجمن تاجران پنجاب کے مرکزی صدر شرجیل میرکے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کی طرف سے آدھا تیتر اور آدھا بٹیر والا اعلامیہ جاری کیا گیاپاکستان کے تاجر کسی صورت میں ریاست کے ساتھ ٹکراو نہیں چاہتے،

تعمیراتی شعبہ کھولنے کا اعلان کیا گیا لیکن اس شعبے سے متعلق دکانوں کے کھولنے کا اعلان نہیں کیا گیا،جب مارکیٹ بند ہو گی تو اس انڈسٹری کا مال کہاں فروخت ہو گا اگر کپڑے کی دکان بند ہو گی تو درزی کیسے کام کرے گا۔کاشف چوہدری نے کہا کہ وزیر اعظم اور وزرا کو خود بھی اپنے فیصلوں کا مکمل ادراک نہیں۔ اگر حکومت نے ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات نہ کی اور اسکے نتیجے میں کورونا پھیلتا ہے تو اسکی ذمہ دار حکومت ہو گی

ملک میں انارکی پھیلنے کی ذمہ دار بھی حکومت خود ہو گی۔ کاشف چوہدری کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسا لگتا ہے کہ حکمران قوم کو کورونا اور بھوک دونوں سے مارنا چاہتے ہیں ہم کسی بھی صورت میں ٹکراو تک نہیں جائیں گے۔ انجمن تاجران پنجاب کے مرکزی صدر شرجیل میر کا کہنا تھا کہ جب حکومت نے لاک ڈاون کا فیصلہ لیا تو ہم نے اسکا خیر مقدم کیا۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام انڈسٹریز کھلے گی یا سب بند ہوں گی۔ شرجیل میر نے کہا کہ کوئی کچھ فیصلہ کر رہا ہے کوئی کچھ ایک مرکزیت کا فیصلہ ہونا چاہیئے،زکو دینے والے چھوٹے تاجر زکوِ لینے پر آچکے ہیں کل سے اگر کاروبار کھلیں گے تو سارے ورنہ کوئی نہیں کھلے گا۔ اگر معیشت کو چلانا چاہتے ہیں تو مرحلہ وار تمام شعبوں کو دو، دو دن کھولنے کا فیصلہ کریں۔

حکومتی پابندیاں نظر انداز,حکومتی پابندیاں نظر انداز

اپنا تبصرہ بھیجیں