حفظان صحت وبا تدابیر 215

طب یونانی میں وبا کا تصور اور تدابیر حفظان صحت

Spread the love

محمد شیراز، سائنسداں۔درجہ۱،
عبدالرّحیم، سائنسداں۔درجہ۴،
سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسین، نئی دہلی۔

مُوْجَزُالْمُقالہ

کورونا وائرس (حفظان صحت وبا تدابیر)(جرثومۂ تاجی ۔(19کی عالمی وبا، 2019ء – 2020ء ایک عالمگیر وبا ہے جو کورونا وائرس کے پھیلنے سے دنیا بھر میں پھوٹ پڑی ہے۔ اس وبا کا باعث سارس کووی 2 نامی وائرس ہے جس کی بنا پر انسانوں کا نظام تنفس شدید خرابی سے دوچار ہو جاتا ہے۔ دسمبر 2019ء میں چینی صوبہ ہوبئی کے شہر ووہان میں وبا کا ظہور ہوا اور اس برق رفتاری سے پھیلا کہ چند ہی مہینوں کے بعد 11 مارچ 2020ء کو عالمی ادارہ صحت (WHO) نے اسے عالمی وبا قرار دے دیا۔ 14؍اپریل تک دنیا کے مختلف خطوں میں اس وبا کے 519,20,918 سے زائد متاثرین کی اطلاع آچکی ہے جن میں سے 1,19,686 افراد اس مرض سے جانبر نہ ہو سکے اور لقمہ اجل بن گئے، جبکہ4,53,289 متاثرین کے صحت یاب ہونے کی اطلاع ہے۔طب یونانی نے اس قسم کے وبائی امراض میں بہترین رہنمائی کی ہے۔چنانچہ علاج بالتدبیر ،علاج بالغذا نیز تدابیر حفظان صحت کے ذریعہ ممکنہ طور پر اس وباء کی روک تھام کی جاسکتی ہے۔اطبائے متقدمین و متاخرین کی کتابوں کی ورق گردانی کے بعداختصاراً اس مقالہ میں ان تدابیرکا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جن سے مذکورہ وباء کی روک تھام میں مددحاصل کی جا سکتی ہے۔

کرونا وائرس اور سائنس و حکومت کی بے بسی

کلیدی الفاظ:کرونا وائرس، وباء، طب یونانی، علاج بالتدبیر، علاج بالغذاء۔

جرثومہ ٔ تاجی ۔ 19،(کورونا وائرس) کی وبا، 2019ء – 2020ء ایک ایسی وبا ہے جس نے سارے عالم کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ ساری انسانیت اس وباء سے ہراساں و پریشاں ہے۔اس وبا ء کا سبب اصلی سارس کووی 2 نامی وائرس ہے جس کی بنا پر انسانوں کا نظام تنفس تصلب ریہ سے دوچار ہو جاتا ہے بعد ازاں دیگر نظام ہائے بدن بھی متاثر ہوتے ہیں۔ 14؍اپریل تک دنیا کے مختلف خطوں میں اس وبا کے 519,20,918 سے زائد متاثرین کی اطلاع آچکی ہے جن میں سے 1,19,686 افراد اس مرض سے جانبر نہ ہو سکے اور لقمہ اجل بن گئے، جبکہ4,53,289 متاثرین کے صحت یاب ہونے کی اطلاع ہے۔

فیس بک پر ہمیں فالو کریں

جرثومہ ٔ تاجی ۔)19کووڈ-19 ( خصوصاً کھانسی یا چھینک کے دوران میں ایک شخص سے دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔ عموماً کسی شخص کو یہ وائرس اس وقت لاحق ہوتا ہے جب وہ کسی متاثرہ شخص کے انتہائی قریب رہے لیکن اگر مریض کسی چیز کو چھوتا ہے اور بعد ازاں کسی شخص نے اسے چھو کر اپنے چہرے کو ہاتھ لگا لیا تو یہ وائرس اس کے اندر بھی منتقل ہو جائے گا۔ اس بیماری کے پھیلنے کا خطرہ اس وقت اور بھی بڑھ جاتا ہے جب کسی شخص میں اس کی علامتیں ظاہر ہو جائیں۔کسی متاثرہ شخص میں اس مرض کی علامتیں ظاہر ہونے کے لیے دو سے چودہ دن لگتے ہیں۔ عمومی علامتوں میں بخار، کھانسی اور نظام تنفس کی تکلیف قابل ذکر ہیں۔ مرض شدت اختیار کر جائے تو مریض کو نمونیا اور سانس لینے میں خطرناک حد تک دشواری جیسے امراض لاحق ہو جاتے ہیں۔

اب تک اس مرض کی اس وبا نے عالمی سطح پر معاشرتی اور معاشی صورت حال کو سخت مضطرب کر رکھا ہے، ضروری اشیا کی قلت کے خوف سے خریدار بدحواس ہیں اور دیہاتی مزدوروں کی روزی چھن چکی ہے۔ علاوہ ازیں وائرس کے متعلق سازشی نظریوں اور گمراہ کن معلومات کی آن لائن اشاعت زوروں پر ہے، اور ان سب کی بنا پر چینی اور مشرقی ایشیائی قوموں کے خلاف تعصب اور نفرت کے جذبات پرورش پا رہے ہیں۔اس مرض کی روک تھام کے کوئی ویکسین ایجاد ہوئی ہے اور نہ ہی وائرس کش علاج دریافت ہو سکا ہے۔ اطبا مریض میں ظاہر ہونے والی علامتوں کو دیکھ کر ابتدائی علاج تجویز کرتے ہیں۔ وبا سے بچاؤ کے لیے ہاتھوں کو بار بار دھونے، کھانستے وقت منہ کو ڈھانپنے، دوسروں سے فاصلہ رکھنے اور مکمل علاحدہ رہنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے۔ نیز جو افراد مشکوک ہیں انہیں 14 دن تک گھریلو قرنطینہ میں رکھنا ضروری خیال کیا جاتا ہے۔

کورونا وائرس کی وبا کی مزید روک تھام کے لیے اسفار پر پابندی، قرنطینہ، کرفیو، تالابندی، اجتماعات اور تقریبوں کا التوا یا منسوخی، عبادت گاہوں اور سیاحتی مقامات کو مقفل کر دینے جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کوششوں میں ہوبئی کا قرنطینہ، اطالیہ اور یورپ کے تمام علاقوں کی مکمل تالا بندی، چین اور جنوبی کوریا میں کرفیو،سرحدوں کی بندش، ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں پر سخت جانچ قابل ذکر ہیں۔ 124 سے زائد ملکوں میں اسکولوں اور جامعات کو بھی بند کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے 120 کروڑ طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔


مزید برآں دنیا بھر کے سائنسداں جہاں اس وباء کے شافی علاج کے لیے حیراں و سرکرداں ہیں وہیں ایک عالَم اس مرض کے متبادل علاج کے لیے کوشاں ہے۔نیز مایوسیوں کے اس اندھیرے میں عوام کے لیے قدرتی وروایتی طریقہ ہائے علاج امیدوں کی آماجگاہ ہیں بلکہ طب یونانی ان کے لیے امید کی کرن بن کر جگمگا رہا ہے ۔ ہر پیتھی کے لوگ اس وباء کی روک تھام کے لیے کوشاں ہیں ایسے حالات میں طب یونانی کے افراد بھی اطبائے متقدمین و متاخرین کی کتابوں کی ورق گردانی کر رہے ہیں کہ شاید اس مہلک وباء کا کوئی متبادل و شافی علاج نظر آ جائے۔بنا بریںطب یونانی وہ طریقہ علاج ہے جو امراض وبائی میں تحفظی تدابیر پر زور دیتا ہے۔مگر اس سے پہلے یہ ضر وری ہے کہ وباء کے تصور کو سمجھاجائے۔

طب یونانی میںوباء کا تصور:Concept of Epidemic/Pandamic in Unani Medicine[2]
وباء کے متعدّد معانی ہیں:

۱۔’’المرض العام ما یعم خلقاً کثیراً‘‘۔(وہ مرض جو لوگوں میں بکثرت پھیلا ہوا ہو۔)

۲۔اس قسم کا زمانہ جس میں جس میں کوئی خاص مرض بری طرح پھیلا ہو۔

۳۔کوئی ایسی بیماری جو کسی خاص حصہ میں ایک ہی وقت میں بہت سے لوگوں پر حملہ آور ہو۔

۴۔ لغت کے مطابق وباء وہ مرض ہے جو شدید ہو اور بہت تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ پھلے ۔یہاں تک انسان اور حیوان ہر کسی کو اپنی لپیٹ میں لے لے (یہاں تک کہ نباتا ت بھی اس سے متاثر ہوں )جس کے نتیجے میں کثرت سے ہلاکتیں ہوں ۔مثلا ً کولرا۔طاعون۔
’’الوَبَائُ: الوَبَأُ؛ کُلُّ مرضٍ شدید العدوی، سریع الانتشار من مکان إلی مکان، یصیب الإنسان والحیوان والنَّبات، وعادۃً ما یکون قاتلاً کالطّاعون وَبائُ الکولیرا/ الطَّاعون۔‘‘
اسباب وباء کا ذکر کرتے ہوئے شیخ نے چار چیزوں کا تذکرہ کیا ہے:

۱۔ہوا کے تغیرات

۲۔پانی کے تغیرات

۳۔زمین کے تغیرات

۴۔آسمانی مخصوص تغیرات جو مذکورہ بالا اشیا ء میں موثرّ ہو کر وبا ء کی شکل پیدا کر دیتے ہیں۔

مستعدین وباء:

۱۔جن کے بدن میں اخلاط ردیہ کا امتلاء ہوتا ہے۔اخلاط ردیہ یعنی جو وباء سے مناسبت رکھتے ہیں۔جن میں وباء کی تاثیر تیز ہوتی ہے۔(علامہ نفیس)

۲۔جن کے جلد یا غشائی منافذ و مسامات کھلے ہوتے ہیں۔جن کی راہ اجسام خبیثہ اور مواد عفونیہ نفوذ کر جاتے ہیں۔

۳۔جو ضعیف الابدان ہوتے ہیں۔یعنی جن کے اعضا ء میں قوت مقابلہ کمزور ہوتی ہے۔مثلاً وہ لوگ جو جماع کی کثرت کرتے ہیں ایسے لوگوں کی کی قوتیں ضعیف ہوتی ہیں۔اس واسطے کہ یہ اخلاط بدن کی حفاظت کرنے اور عفونت سے روکنے پر قادر نہیں رہتی ہیں ۔

۴۔وہ لوگ جن کو مکتفی غذا اور ہوا میسر نہیں ہے۔

وباء کا خاتمہ کیوں کر ہوا کرتا ہے:

جب ایک وباء آتی ہے اور اس میں ہزاروں لاکھوں انسان بلکہ حیوانات تک مبتلا ہو جاتے ہیں تو یہ بدیہی ہے کہ وبائی مادہ کی ہر بدن میں گویا ایک کاشت ہوتی ہے اور اس کا ذخیرہ دن بدن بڑھتا چلا جاتا ہے اس حساب سے قائدہ تو یہ چاہتا ہے کہ جیسے جیسے دن گذرتے جائیں ویسے ویسے وبائی سانحات کی تعداد بڑھتی چلی جائے حالانکہ ایسا ہوا نہیں کرتا ۔بلکہ ہوتا یہ ہے کہ رفتہ رفتہ وباء کا زور گھٹتا جاتا ہے اور ایک وقت آتا ہے کہ سرے سے اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔اس کی علمی توجیہہ یہ ہے کہ:

۱۔ اول تو مرور زمانہ سے وہ ابتدائی اسباب بدل جاتے ہیں جو وباء پھوٹنے کا ذریعہ بنے تھے مثلاً آسمانی اسباب میں سے موسم کا تبدیل ہو جانا۔ارضی و مائی اسباب میں رطوبت کا کم ہو جانا،ہوائی اسباب میں سے اس کی کیفیت کا بدل جانا مثلاً معمولی گرمی سے ہو کا تیز گرم ہو جانا، جو عفونت کو جلا ڈالتی ہے۔یا تیز سردی کاموسم آجانا جس میں عفونات پھل پھول نہیں سکتے۔

۲۔وبائی مقامات کے باشندوں میں وباء سے مقابلہ کرتے کرتے قوت مقابلہ زور پکڑ لیتی ہے اور ترقی کر جاتی ہے۔اس لیے آخر میں وباء کا زور گھٹ جاتا ہے۔

چنانچہ ہمیشہ یہ مشاہدہ میں آیا کرتا ہے کہ اوائل وباء میں اگر ہلاکتیں تیزی کے ساتھ واقع ہوتی ہیں تو آخر میںمریض دیر تک مقابلہ کرنے پر قادر ہو جاتا ہے حتّی کہ مرض کی مدت بڑھتے بڑھتے اس کا خاتمہ شفا پر ہونے لگتا ہے اور اس کے بعد وبائی حملہ ہی سرے سے بے اثر ہو جاتا ہے۔

۳۔وبائی اجسام ایک جسم سے دوسرے بدن میں منتقل ہوتے ہوتے کمزور ہو جاتے ہیں۔

طب یونانی میں تحفظی تدابیر کا تصوّر:Concept of Prevention in Unani System of Medicine

طب یونانی ایک قدیم طریقہ علاج ہے ۔اطباء نے جہاں امراض کے معالجات میں ایک سنگ میل طے کیا ہے وہیں متعدی امراض کی روک تھا م کے سلسلے میں ایک سنگ میل طے کیا ہے۔طب یونانی میں علاج کے تین طریقے ہیں:

۱۔علاج بالغذا
۲۔علاج بالدواء
۳۔علاج بالتدبیر۔

مذکورہ بالا طریقہ ہائے علاج امراض کی روک تھام کے سلسلے میں بھی استعما ل کیے جاتے ہیں۔

علاج بالغذاء :

اس ضمن میں اطباء نے پہلے علاج بالغذا ء کی سفارش کی ہے۔مثلاًعلاج بالغذاء میںماء الفواکہ ، ماء البقول، ماء الاصول، ماء اللحم، ماء الشعیر، ماء الجبن، ماء العسل وغیرہ کا دائمی استعمال شامل ہے جو خون صالح پیدا کرتا ہے، نیز ردی و فاسد مواد کا بدن سے تنقیہ کرتا ہے۔خون و صفراء کو جوش و ہیجان میں آنے سے روکتا ہے۔معدہ کو صاف رکھتا ہے۔تازہ سبزیوں اور ترکاریوں کا استعمال بدن میں فولاد کی کمی کو دور کرتاہے۔ مگر ضروری ہے کہ سبزیاں تازہ ہوں نیز دھو کر استعمال کی جائیں۔موسمی پھلوں کا استعمال بدن کی مختلف تغذیاتی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ وقت پر کھانا ، چبا کر کھانا ، اطمینان سے کھانا، مرغن اور ردی الکیموس اغذیہ سے اجتناب مختلف قسم کے امراض کی روک تھام میںتیر بہدف کی حیثیت رکھتا ہے۔مغزیات و جواہرات کا استعمال وباء میں ناگزیر ہے اس لیے کہ وباء کی لپیٹ میں عام طور سے وہ لوگ آتے ہیں جن کی قوت مناعت کمزور ہوتی ہے۔

علاج بالدواء:

تریاق وبائی ، حبوب کی شکل میں دو عدد سونے سے پہلے ہمراہ عرق بادیان پانچ تولہ استعمال کرنا ، وبائی امراض میں تریاقی اثر رکھتا ہے نیز وبائی امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔وباء کے زمانے میںجالینوس نے اس کے استعمال کی سفارش کی ہے۔خمیرہ ٔ مروارید اور خمیرہ گاؤزباں عنبری جواہر والا کا استعمال قوت مناعت اور حرارت غریزی کو بڑھانے میں معاون ہو سکتا ہے۔

علاج بالتدبیر

کچھ تدابیر جو وباء میں عموماً اور COVID-19میں خصوصاً مفید ہو سکتی ہیں، حسب ذیل ہیں:
ُ
وُجور:

وہ سیال دوا جو حلق میں ٹپکائی جائے۔اس ضمن میں ادویہ کا جوشاندہ یا خیساندہ استعمال کیا جاتا ہے خصوصاً وہ ادویہ جو نظام تنفس پر اپنا اثر قائم کریں،مثلاً توت، سپساتں، مغزخیار شنبر، اروسہ، اصل السوس، السی، بادام، شہد ، زنجبیل وغیرہ۔
زروق:
پچکاری کی وہ سیال دوا ہے جو مزرقہ کے ذریعہ جسم کے مختلف سوراخوں مثلاً ناک کان وغیرہ میں ڈالی جائے۔
سعوط:
جب دواؤں کے جوشاندے یا خیساندے کو ناک کے ذریعہ مستنشق کیا (سڑکا )جائے تو اس عمل کو سعوط کہتے ہیں۔

مضمضہ(کلی کی دواء):

دوؤں کا جوشاندہ یا خیساندہ وغیرہ جس سے کلی کرنا ممکن ہو اور اسے حلق تک نہ پہنچایا جائے تو اسے مضمضہ کہتے ہیں۔

غرغرہ:

کلی کے طور پر اگر کوئی دوا حلق تک پہنچا کر منہ سے خارج کر دی جائے تو اسے غرغرہ کہا جاتا ہے۔

بخور :دھونی کی دواء:

جب دوا کو جلا کر اس کا دھواں اور بخار ات کو کسی عضو تک پہنچایا جائے تو اسے بخور کہتے ہیں۔اس عمل تدخین اور تبخیر کہا جاتا ہے۔

انکباب:بھپارہ:

دوائے گرم مثلاً جوشاندہ یا گرم پانی کی بھاپ کو چہرہ یا کسی عضو یا تمام بدن تک پہنچانا انکبا ب کہلاتا ہے۔

شموم:

سونگھنے کی دواء خواہ خشک ہو یا تر، اس عمل کو شمام کہا جاتا ہے۔اس صورت میں ادویہ کے لطیف اجزاء بصورت بخارات صعود کر کے ناک کے نتھنوں میں داخل ہوتے ہیںاور پھر مجاریٔ تنفس تک پہنچتے اور دماغ کے مرکز اشمام کو متاثر کرتے ہیں۔

لخلخہ:

وہ رقیق خوشبودار دواء جو کسی فراخ منہ والے شیشے میں رکھ کر مریض کو سنگھا ئی جاتی ہے۔اکثر لخالخ سیال ہوتے ہیں۔جن میں کبھی خوشبودار پھول بھی ڈالے جاتے ہیں۔کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی خوشبودار دواء کو کوٹ کر پوٹلی میں باندھ کر اسی طرح خشک کر کے یا کسی سیال میں تر کر کے سنگھایا جاتا ہے۔یہ اخیر صورت در اصل شموم کی ہے۔

نشوق:

نشوق کے معنیٰ اس سیال دوا کے ہیں جو ناک میں سڑکی جائے۔

تعریق:(پسینہ بہانا)

دافع تعدیہ میں اس تدبیر کی اہمیت ہے۔پسینہ بہایا جائے خواہ سورج کی روشنی میں یا پھاپ کے ذریعہ۔بدن کے فاسد اور سمی مواد کے استفراغ میں یہ تدبیر معاون ہے۔

ریاضت:

معتدل ریاضت سے بھی پسینہ کے ذریعہ سمی اور فاسد مواد کا استفراغ ہوتا ہے۔نیز دوران خون تیز ہوتاہے جو طبیعت مدبرہ بدن اور قوت مناعت کے مقاصد میں ان کا معاون ہوتا ہے۔نیز وبائی امراض کے تحفظ میں معاون ہے

حمام تُرکی:

یہ وہ مخصوص حمام ہیں جو یورپ میں نیز ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں مثلاً دہلی، لکھنؤ و پشاور میں پائے جاتے ہیں۔اس قسم کے حمام میں متعدد کمرے جدا جدا ہوتے ہیں۔جس میں نیم گرم اور تیز گرم پانی کے حوض ہوتے ہیں۔اس قسم کے حمام میں متعدد کمرے جدا جدا ہوتے ہیں۔جس میں نیم گرم اور تیز گرم پانی کے حوض ہوتے ہیں۔جس کے اعتبار سے وہ سرد یا گرم کہلاتے ہیں۔اس قسم کے حمام میں غسل کرنے سے جلد صاف ہو جاتی ہے اور مسامت کھُل جاتے ہیں اور خو ب کھُل کر پسینہ آتا ہے۔ایسے حمام کی حرارت ایک سو سے ایک سو تیس درجہ فارن ہائیٹ ہونی چاہیئے نیز غسل کا عرصہ پندرہ سے تیس منٹ کا ہونا چاہیے۔
مندرجہ بالا تدابیر وہ اعمال ہیں جو مخصوص طورپر نظام تنفس پر اپنے اثرات قائم کرتی ہیں۔ چونکہ COVID-19کا اثر پہلے نظام تنفس پر ہوتا ہے اس لیے مذکورہ تدابیر اس وباء میں مفید ہو سکتی ہیں۔

COVID-19(جرثومہ تاجی ۔(19کے سلسلے میں وزارت آیوش، حکومت ہند کی سرگرمیاں:

وزارت آیوش نے اس سلسلے میں کئی ایک تربیتی آن لائن پروگرام ایپس جاری کیے ہیں۔آیوش کے سرکردہ افراد کوبطورنگرانی(urveillance S)رضا کار کے طور پر فرائض سپرد کیے جائیں گے۔جو گھر گھر جا کر لوگوں کو اس وباء اور اس سے بچاؤ کے طریقے سمجھائیں گے خصوصاً قرنطینہ کے سلسلے میں لوگوں دل میں جوخوف بیٹھا ہے اسے دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔اسی طرح وہ لوگ جو بیرون ملک سے سفر کر کے آئے ہیں اور وہ لوگ جو اس جرثومہ سے متاثر ہیں نیز اپنے آپ کو چھپائے ہوئے ہیں ان کے خوف کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان سرگرمیوں میں اس بات کا لحاظ رکھا جائے گا کہ کہیں آیوش رضا کار ہی اس وباء کی لپیٹ میں نہ آجائیں۔کیوں کہ مرض کو چھپانا مرض کے بڑھاوے کا سبب ہو سکتا ہے ، روک تھام کا نہیں۔نیز اس وباء سے متعلق عوام میں جو غلط فہمیاں ہیں ان کو دور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

زبدۃُ المُقالہ(خلاصہ)

ضرورت اس بات کی ہے کہ اس وبا بلکہ اس جیسی تمام وباؤں سے ڈرنے کی بجائے مل کر اس وبا کا مقابلہ کیا جائے۔ایسے لوگ جو اس مرض سے متاثر ہیں ، ان سے نفرت کی بجائے ہمدردی کی جائے انھیں ان کے صحیح مستقر (قرنطینہ)میں پہنچایا جائے۔گھریلو قرنطینہ کو اختیار کیا جائے۔طب یونانی میں اس قسم کے وبائی امراض میں جو ھدایات ہیں ان کو عام کیا جائے۔ضروری ہے کہ شعبۂ صحت سے متعلقہ تمام افراد اس مرض سے مقابلے کے لیے سامنے آئیں اور سب سے پہلے اس مرض کے تئیں اپنے اعتماد کو بحال کریں تاکہ عوام کی غلط فہمیاں دور ہوں اور جلد سے جلد اس وباء کا دنیا سے خاتمہ ہو سکے۔

وضاحت

یہ مقالہ مصنف کے کسی ذاتی مفاد کے لیے نہیں ہے نہ ہی کوئی تجارتی غرض ہے۔اس مقالہ میں بیان کیے گئے معالجات، COVID-19 کا شافی و کافی علاج نہیں ہے۔ بلکہ محض احتیاطی تدابیر ہیں۔شافی علاج کے لیے ہنوز تحقیق جاری ہے۔

اظہار تشکر:

راقم السطور، سی سی آر یو ایم، نئی دہلی کا ممنون و شکر گذار ہے، کہ اس قسم کے مقالے کی تکمیل مذکورہ ادارہ کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں تھی۔

مراجع و مصادر

.2ترجمہ شرح اسباب، علامہ کبیر الدین، شیخ بشیر اینڈ سنز۔ص:661-663,17
.3تعریف و معنی وباء فی معجم المعانی الجامع – معجم عربی.https://www.almaany.com/ar/dict/ar-ar/بتاریخ 12؍اپریل؍2020۔
.4مخزن الجواہر، غلام جیلانی، اعجاز پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، 1998ء، ص:907۔
.5القانون فی الطب(اردو ترجمہ غلام حسنین کنتوری)، ابن سینا، ادارۂ کتاب الشفاء، نئی دہلی، سن غیر موجود، ص:101-115۔
.6بیاض کبیر، جلد دوم، حکیم کبیرالدین، جاوید برقی پریس، دہلی، 1935، ص12۔
.7کتابُ المرکبات، حکیم سید ظل الرّحمٰن، پبلیکیشن ڈویژن، مسلم یونیورسٹی ، علی گڑھ، 1991ء، ص71۔
.8اصول طب ، حکیم سید کمال الدین حسین ہمدانی، 1980ء،اردو اکیڈمی، لکھنؤ،ص:365۔
..9علاج بالتدبیر، اظہارُ الحسن، ادارۂ کتاب الشفاء، نئی دہلی، 2018، ص:121-122۔
.10علاج بالتدبیر کے بنیادی اصول، کمال الدین حسین ہمدانی، اعجاز پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی، 2004ء، ص:28۔
.11علاج بالتدبیر، حکیم جاوید احمد خان، دیو بند، 2011ء، ص:145۔
.12کتاب المختارات فی الطب، ابن ہبل بغدای ، سی سی آر یو ایم ، نئی دہلی،2005ء ، ص:252۔
.13کتابُ الکلیات ، ابن رشد، سی سی آر یو ایم، نئی دہلی، 1987،ص:342۔
.14حاذق، مسیح الملک حکیم اجمل خان، شیخ محمد بشیر اینڈ سنز، لاہور، ص:411۔
.15الاکسیر(اردو ترجمہ کبیر الدین)، حکیم محمد اعظم خاں، شیخ بشیر ایند سنز، لاہور، ص:31, 46, 50۔

حفظان صحت وبا تدابیر حفظان صحت وبا تدابیر حفظان صحت وبا تدابیر حفظان صحت وبا تدابیر حفظان صحت وبا تدابیر حفظان صحت وبا تدابیر حفظان صحت وبا تدابیر

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...