ماں قسط نمبر10 Mother novel 183

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 5

Spread the love

دن، کنویں کے رہٹ کی طرح ایک کے بعد ایک آتے رہے اور ہفتوں اور مہینوں میں تبدیل ہوتے گئے۔ ہر ہفتے کو پاویل کے دوست اس کے گھر پر جمع ہوتے اور ہر اجتماع اس اونچی سیڑھی پر ایک قدم اور اوپر کی طرف ہوتا جس پر لوگ کسی دور کی منزل کی طرف جانے کے لئے آہستہ آہستہ چڑھ رہے تھے۔(ماں گورکی قسط 5)

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 4

پہلے والوں کے ساتھ اب نئے لوگ شامل ہو گئے۔ وہ لاسوف خاندان کے گھر کا چھوٹا کمرہ لوگوں سے بھر جاتا۔ نتاشا تھکی ہاری سردی سے ٹھٹھرتی ہوئی آتی لیکن وہ خوش وخرم ہوتی تھی۔ پاویل کی ماں نے اس کے لئے ایک جوڑی موزہ بن دیا اور اس کے چھوٹے سے پیروں میں اپنے ہاتھ سے پہنا بھی دیا۔ پہلے تو نتاشا ہنسی لیکن دفعتاً سنجیدگی کے ساتھ خاموش ہو گئی۔

’’میری ایک انا تھی وہ بھی اتنی ہی غیر معمولی شفیق اور نرم دل تھی‘‘ اس نے آہستہ سے کہا۔ ’’ماں جی یہ کتنی عجیب سی بات ہے کہ محنت کش لوگوں کی زندگی سخت اورکٹھن ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ سرمایہ داروں کے مقابلے میں زیادہ شفیق و محب ہوتے ہیں………‘‘ اس نے بہت دور کے، اپنے سے بہت ہی دور کے لوگوں کی طرف اشارہ کیا۔

’’تم بھی خوب ہو!‘‘ ماں نے کہا۔ ’’اپنے ماں باپ، گھر بار، سب سے جدا……….‘‘ اس نے ٹھنڈا سانس بھرا اور اپنے خیالات ظاہر کرنے کے لئے الفاظ نہ ملنے پر خاموش ہو گئی۔ لیکن نتاشا کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے ایک بار پھر کسی مبہم سی چیز کے لئے اس کے دل میں جذبہ تشکر پیدا کیا۔ وہ اس کے سامنے فرش پر بیٹھ گئی۔ لڑکی آگے کی طرف سے جھکائے کچھ سوچ کی مسکراتی رہی۔

’’ماں باپ سے جدا ہو کر؟‘‘ اس نے دھرایا۔ ’’یہ بات زیادہ اہم نہیں ہے۔ میرا باپ سخت گیر انسان ہے اور میرا بھائی بھی ویسا ہی ہے۔ اس کے علاوہ وہ شرابی بھی ہے۔ میری بڑی بہن بہت دکھی ہے …… …. اس کی شادی ایک ایسے شخص سے ہوئی ہے جو عمر میں اس سے کئی برس بڑا ہے……… بہت امیر لیکن بہت کمینہ اورکنجوس ہے۔ البتہ مجھے اپنی ماں کا خیال آتا ہے۔ وہ سیدھی سادی سی عورت ہے۔ بالکل تمہاری طرح۔ ایک چھوٹی سی گلہری کی مانند۔ وہ چلتی بھی بالکل گلہری کی طرح سے ہی ہے اور ہر چیز سے اسی طرح ڈرتی بھی گلہری کی طرح سے ہی ہے۔ کبھی کبھی ماں سے ملنے کو جی چاہتا ہے۔ بہت بری طرح!‘‘

’’بیچاری بچی!‘‘ ماں نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا۔ لڑکی نے فوراً سر اوپر اٹھایا اور اپنا ہاتھ آگے کی طرف بڑھایا جیسے کسی چیز کو سامنے ہٹا رہی ہو۔

’’ارے نہیں! کبھی کبھی تو میں اتنی خوش ہوتی ہوں کہ کچھ حد نہیں! انتہائی مسرور!‘‘

اس کا چہرہ زرد پڑگیا اور اس کی نیلگوں آنکھیں چمکنے لگیں۔ اس نے اپنے ہاتھ ماں کے کاندھے پر رکھ دیئے۔

’’کاش تمہیں معلوم ہوتا ………. کاش تم سمجھ سکتیں کہ ہم کتنا عظیم الشان کام کر رہے ہیں!‘‘ اس نے نرمی اور اعتماد سے کہا۔

پلاگیا ولاسودا کے دل میں ایک عجیب سا جذبہ ابھرا جس میں کچھ رشک کی ملاوٹ تھی۔

’’یہ سب سمجھنے کے لئے میں بہت بوڑھی ہو چکی ہوں اور ان پڑھ بھی‘‘ اس نے فرش پر سے اٹھتے ہوئے دکھ بھرے انداز میں کہا۔۔۔

………. پاویل اب اکثر وبیشتر مباحث میں حصہ لیتا اور پہلے سے زیادہ دیر تک اور زیادہ شدت اور گہرائی سے بولتا تھا۔ وہ برابر دبلا ہوتا رہا۔ اس کی ماں کو ایسا محسوس ہوتا کہ جب وہ نتاشا کی طرف دیکھتا اور اس سے باتیں کرتا ہے تو اس کی نگاہوں کی سختی نرم پڑ جاتی، اس کی آواز میں زیادہ شگفتگی پیدا ہو جاتی اور اسکے انداز میں زیادہ ملائمت آجاتی تھی۔

’’خدا کرے ایسا ہی ہوجائے‘‘اس نے سوچا اور مسکرائی۔

جب بھی ان کے اجتماع میں بحث تیزی اور شدت اختیار کر جاتی تو خوخول کھڑا ہو جاتا اور گھنٹی کی موگری کی طرح آگے پیچھے جھومتا اور کچھ ایسے نرم اور سیدھے سادے جملے کہتا کہ ہر شخص ٹھنڈا پڑ جاتا۔ چڑ چڑا وسوف شیکوف ہمیشہ دوسروں کو کچھ نہ کچھ کرنے کے لئے اکسایا کرتا۔ وہ اور سرخ بالوں والا شخص جسے وہ لوگ سموئلوف کہتے تھے ہمیشہ بحث شروع کرتے تھے۔ ان کی تائید گول سر والا ایوان بوکن کرتا جو ایسا نظر آتا جسے سجی دار پانی سے نہلا کر نکا لا گیا ہے۔ یاکوف سوموف جو ہمیشہ صاف ستھرا رہتا تھا بہت کم بولتا لیکن بہت سنجیدگی سے باتیں کرتا، وہ اور کشادہ پیشانی والا فیدور مازن بحث میں ہمیشہ پاویل اور خوخول کی تائید کرتے۔

بعض اوقات نتاشا کے بجائے ایک دوسرا شخص آتا جس کا نام تھانکولائی ایوانووچ۔ وہ عینک لگاتا تھا۔ اور اس کی چگی ڈاڑھی بھورے رنگ کی تھی۔ وہ کسی دور دراز علاقے میں پیدا ہو اتھا اور یہی وجہ تھی کہ وہ ’’و‘‘ کو ذرا عجیب انداز سے کھینچ کر بولا کرتا تھا۔ مجموعی طور پر وہ کچھ ’’مختلف‘‘تھا۔ وہ روز مرہ کی سیدھی سادی چیزوں کی باتیں کرتا: خاندانوں کی نجی زندگی اور بچوں کے متعلق اور تجارت اور پولس اورروٹی اور گوشت کی قیمت کے متعلق۔ غرض ان ساری چیزوں کے متعلق جن کا تعلق لوگوں کی روز انہ کی زندگی سے تھا۔ لیکن وہ اس انداز سے باتیں کرتا کہ ان ساری جھوٹی اور غیر عقلی، ساری واہیات اور مضحکہ خیز چیزوں کی قلعی کھل جاتی جو عوام کے لئے نقصان دہ ہوتیں۔

ماں کو ایسا محسوس ہوتا کہ وہ بہت دور سے، کسی دور دراز ملک سے آیا ہے بلکہ ایسی جگہ سے جہاں ہر شخص آرام اور ایمانداری سے زندگی بسر کرتا ہے۔ یہاں کی ہر چیز اس کے لئے عجیب وغریب تھی اور وہ اس زندگی کا عادی نہ ہو سکا اور اسے ایک ناگزیر حقیقت سمجھ کر قبول نہ کر سکا۔ وہ اس زندگی کو اپنی مرضی کے مطابق بدلنے کا ایک بھرپور اور پرسکون جذبہ پیدا کر دیا تھا۔ اس کا چہرہ کچھ زردی مائل تھا اور اس کی آنکھوں کے گرد باریک باریک جھریاں پڑی ہوئی تھیں۔

اس کی آواز بڑی نرم تھی اور اس کے ہاتھ ہمیشہ گرم رہتے تھے۔ جب کبھی وہ پلاگیا ولاسووا سے مصافحہ کرتا تو وہ اس کا پورا ہاتھ اپنی انگلیوں میں لے لیتا اور ماں کو ہمیشہ اس سے سکون اور آرام سا ملتا تھا۔

ان محفلوں میں شہر کے دوسرے لوگ بھی شامل ہونے لگے۔ عموماً ایک لمبی دبلی سی لڑکی آیا کرتی جس کے زرد چہرے پر بہت ہی بڑی بڑی آنکھیں تھیں اور جس کا نام تھا ساشا۔ اس کی چال اور اس کی حرکات وسکنات میں کچھ مردانہ پن سا تھا۔ وہ اپنی گھنی سیاہ بھوئوں کو بڑے تیکھے انداز میں سکیڑ لیتی اور جب بات کرتی تو تو اس کی ستواں ناک کے باریک نتھنے پھڑکنے لگتے۔

سب سے پہلے اسی نے ایک تیز اور بلند آواز میں اعلان کیا تھا:

’’ہم۔ سوشلسٹ ہیں……….‘‘

جب ماں نے یہ سنا تو وہ لڑکی کی طرف خاموشی سے خوفزدہ انداز میں دیکھتی رہی۔ ماں نے سن رکھا تھا کہ سوشلسٹوں نے زار کو قتل کیا تھا۔ یہ تب کی بات ہے جب وہ جوان تھی۔ اس زمانے میں یہ قصہ مشہور تھا کہ نوابوں اور زمین داروں نے زار سے جس نے ان کے زرعی غلام آزاد کر دیئے تھے، انتقام لینے کے لئے یہ قسم کھائی تھی کہ وہ اس وقت تک اپنے بال نہ منڈوائیں گے جب تک زار کو قتل نہ کر دیں اسی لئے انہیں سوشلسٹ کہا جانے لگا۔ پلاگیا کی سمجھ میں یہ نہیں آتا تھا کہ اس کا بیٹھا او راس کے دوست اپنے آپ کو سوشلسٹ کیوں کہتے ہیں۔

جب سب لوگ اپنے گھروں کو چلے گئے تو وہ پاویل کے پاس گئی۔

’’پاشا تم سوشلسٹ ہو کیا؟‘‘ اس نے دریافت کیا۔

’’ہاں!‘‘ اس نے کہا، وہ ہمیشہ کی طرح سیدھا اور طاقت ور ماں کے سامنے کھڑا تھا۔ ’’کیوں پوچھ رہی ہو؟‘‘

اس کی ماں نے ٹھنڈا سانس بھرااور نظریں جھکا لیں۔

’’واقعی، پاویل؟ لیکن وہ لوگ تو۔ زار کے خلاف ہیں۔ا نہوں نے ایک زار کو تو قتل بھی کر دیا تھا۔‘‘

پاویل کمرے میں ٹہلنے لگا اور اپنے گالوں کو ہاتھوں سے سہلانے لگا۔

’’ہمیں اس قسم کی حرکتیں کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے‘‘ اس نے ایک مختصر سی ہنسی ہنس کر کہا۔

پھر وہ بڑی دیر تک بڑی نرمی اور سنجیدگی سے اسے سمجھاتا رہا۔ ماں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو اسے خیال آیا:

’’یہ کوئی غلط حرکت نہیں کرے گا! کبھی نہ کرے گا!‘‘

اس کے بعد وہ خوفناک لفظ بار بار دھرایا گیا یہاں تک کہ الفاظ کی تیز دھار کند پڑ گئی۔ اور ماں کے کان اس لفظ سے اسی طر ح آشنا ہو گئے جیسے دوسرے درجنوں الفاظ سے جنہیں وہ لوگ استعمال کرتے تھے۔ لیکن اسے نتاشا پسند نہ آئی اور اس کی موجودگی میں وہ کچھ بے چین اور گھبرائی ہوئی سی رہتی تھی۔

ایک دن اس نے ساشا کے متعلق خوخول سے بات کی اور اپنے ہونٹ اس طرح بھینچ لئے جیسے وہ اسے انتہا ناپسند ہو۔

’’اوفوہ، کس قدر سخت گیر لڑکی ہے! ہر شخص کو حکم دیا کرتی ہے۔ یہ کرو، وہ کرو!‘‘

’’کیسی صحیح بات کہی ہے، بالکل صحیح ننکو! پاویل تمہارا کیا خیال ہے؟‘‘ ماں کو آنکھ سے اشارہ کرتے ہوئے اس نے کہا۔ ’’یہ ہے طبقہ اشرافیہ!‘‘

’’وہ بہت اچھی لڑکی ہے‘‘ پاویل نے خشک انداز میں کہا۔

’’ٹھیک ہے‘‘ خوخول نے جواب دیا۔ ’’لیکن وہ ایک بات نہیں سمجھتی: وہ کہتے ہیں، کرنا چاہئے، ہم کہتے ہیں ’کر سکتے ہیں، اور’ ’چاہتے ہیں۔‘‘ اور وہ کسی ایسی چیز کے متعلق بحث کرنے لگے جو ماں کی سمجھ میں نہیں آئی۔

ماں نے یہ بھی محسوس کیاکہ ساشا پاویل کے ساتھ سب سے زیادہ سختی سے پیش آتی تھی، او رکبھی کبھی اس پر خفا بھی ہوتی تھی۔ ایسے وقت پاویل کچھ نہ کہتا، وہ صرف ہنس دیتا اور شائستگی و محبت کے ساتھ اس کے چہرے کی طرف دیکھتا جس طرح وہ کبھی نتاشا کی طرف دیکھا کرتا تھا۔ ماں کو یہ بات بھی اچھی نہ لگتی تھی۔

ماں کو یہ دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کہ بعض اوقات ایک دم سب لوگوں پر بے انتہا خوشی کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ یہ عموماً انہیں دنوں میں ہوتا جب وہ دوسرے ملکوں کی مزدور تحریک کے متعلق اخباروں سے خبریں پڑھتے۔ اس وقت ان سب کی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگتیں اور وہ لوگ کچھ عجیب انداز سے بچوں کی طرح خوش ہوتے اور ان کی ہنسی صاف شفا ف اور معصوم ہوتی، اور وہ ایک دوسرے کی پیٹھ کو بڑے پیار سے تھپتھپاتے۔

’’ہمارے جرم ساتھی زندہ باد!‘‘ کوئی چیختا جیسے خود اپنی خوشی کے نشے میں مست ہو۔
’’اٹلی کے مزدور زندہ باد!‘‘ دوسرے وقت انہوںنے نعرہ لگایا۔

جب وہ اپنے دور دراز رفیقوں کے نام، جو نہ تو انہیں جانتے تھے اور نہ ہی ان کی زبان سمجھ سکتے تھے، یہ نعرے بلند کرتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ انہیں یقین ہے کہ ان نامعلوم لوگوں نے ان کی آوازیں سن لیں اور انکی خوشی کو سمجھ لیا ہے۔

’’کتنا اچھا ہو اگر ہم انہیں خط لکھ سکیں!‘‘ خوخول نے کہا۔ اس کی آنکھوں میں بے پایاں محبت کی چمک تھی۔ ’’تاکہ انہیں معلوم ہو سکے کہ یہاں رو س میں بھی ان کے دوست رہتے ہیں جو اسی مذہب میں یقین رکھتے ہیں اور اسی کا پرچار کرتے ہیں جو ان کا مذہب ہے اور جن کی زندگی کا مقصد بھی وہی ہے جو ان کا ہے اور جو انہیں فتوحات اور کامیابیوں سے خوش ہوتے ہیں جن سے وہ ہوتے ہیں!‘‘

جب وہ فرانسیسی اور انگریز اور سویڈش لوگوں کا ذکر کرتے تو ان کے ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ اور چمک ہوتی جیسے وہ اپنے دوستوں کا ذکر کر رہے ہوں، ایسے لوگوں کا جو انہیں عزیز ہیں، جن کی وہ عزت کرتے ہیں اور جن کے رنج ومسرت میں وہ شریک ہیں۔

اس چھوٹے سے دم گھٹنے والے کمرے میں ساری دنیا کے مزدورں کے ساتھ ایک روحانی رشتے کے احساس نے جنم لیا تھا۔ اس احساس نے ماں کو بھی متاثر کیا اور سب کو ایک عظیم جذبے کے رشتے میں باندھ دیا تھا حالانکہ اس احساس کے پورے معنی اس کے لئے ناقابل فہم رہے لیکن وہ اس احساس کی بھر پور طاقت کا اندازہ کر سکتی تھی، جو انتہائی خوشگوار اور بھرپور امید کی حامل تھی۔

ماں نے خوخول سے کہا ’’کیسی عجیب سی بات ہے!‘‘ ’’تمام لوگ تمہارے رفیق ہیں۔ یہودی اور آرمینی اور آسٹرین۔ تم سب کے لئے خوش ہوتے اور سب کے لئے افسوس کرتے ہو!‘‘

’’سب کے لئے میری ننکو، سب کے لئے!‘‘ خوخول نے جواب دیا۔ ’’ہمیں کوئی قبیلہ نہیں چاہئے، کوئی قوم نہیں چاہئے۔ لوگ یا تو ہمارے رفیق ہیں یا دشمن۔ سارے محنت کش ہمارے رفیق ہیں، سارے امیر لوگ اور ساری حکومتیں ہماری دشمن ہیں۔ تم ساری دھرتی پر نظر ڈالو اور دیکھو کہ ہم مزدور کتنی تعداد میںہیں اور ہم کتنے طاقتور ہیں تو پھر تمہارے دل میں مسرت اور شادمانی کی کوئی انتہا نہیں رہے گی! فرانسیسی اور جرمن اور اطالوی بھی جب زندگی کو دیکھتا ہے توا سے بھی یہی محسوس ہوتا ہے۔

ہم سب ایک ہی ماں کے بچے ہیں، اور ساری دنیا کے مزدوروں کی برادری کا ناقابل شکست عقیدہ ہماری زندگیوں کو سوز و ساز بخشتا ہے یہی عقیدہ ہمارےاندر ایک نئی روح اور ولولہ پیدا کرتا ہے۔ یہ عدل وانصاف کے آسمان کا چمکتا ہوا سورج ہے اور وہ آسمان مزدور کے دل میں ہے۔ وہ کوئی بھی ہو اور اس کا نام کچھ ہی ہو ایک سوشلسٹ تمام عمر کے لئے ہمارا روحانی بھائی رہے گا۔ کل اور آج اور بلکہ کہنا چاہیے ہمیشہ کے لئے!‘‘

وہ معصومانہ اور راسخ عقیدے کا بار بار اعادہ کرنے لگے۔ اور رفتہ رفتہ اس میں شدت آتی گئی۔ جب ماں نے اس قوت کو دیکھا تو اسے غیر شعوری طور پر محسوس ہوا کہ بلاشبہ دنیا نے کسی ایسی چیز کو جنم دیا ہے جو سورج کی طرح عظیم اور سچی اور اچھی ہے، جسے وہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی ہے۔

کبھی کبھی وہ لوگ اونچی مسرور آوازوں میں سیدھے سادے گانے گاتے، جن سے ہر شخص واقف تھا، کبھی ترنم ہوتا لیکن جن کی دھن کچھ غیر معمولی سی ہوتی تھی ان گیتوں کو وہ دھیمے سروں میں گرجا کے گانوں کی طرح گاتے۔ گانے والے کے چہرے عرق آلود اور سرخ ہو جاتے اور گونجتے ہوئے الفاظ بھر پور قوت کا اظہار کرتے تھے۔

ماں خاص طور پر ایک نئے گانے سے بہت متاثر ہوئی۔ اس گیت میں کسی زخم خور دہ روح کے کرب ناک تفکر کا اظہر نہ تھا جو شبہات اور تذبذب کی بھول بھلیوں میں تن تنہا بھٹکتی پھر رہی ہو۔ اور نہ اس میں ان لوگوں پر نوحہ وماتم تھا جنہیں ضرورتوں نے کچل دیا تھا، خوف نے دیوانہ بنا دیا تھا اور جن سے ان کا رنگ روپ اور کردار چھین لیا گیا تھا۔ اور اس میں ایسی قوت کی ماتمی سرد آہیں بھی نہ تھیں جو آنکھیں بند کئے فضائے بسیط میں متلاشی اور سر گرداں پھر رہی ہو، اور نہ ہی اس میں ناعاقبت اندیش جوش کی مبار زطلب چیخ پکار تھی جو اچھے برے دونوں پر ایک ہی طرح برس جانے کے لئے تیار ہو۔ اس گیت میں تکلیف اور انتقام کا وہ ناشناسا نہ احساس بھی نہ تھا جو ہر چیز کو تباہ تو کر سکتا ہے لیکن تعمیر کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ غرض اس گیت میں پرانی غلامانہ دنیا کی کسی چیز کا شائبہ تک نہ تھا۔

ماں کو اس گیت کے سخت الفاظ اور کھردری سی دھن پسند نہ آئی۔ لیکن الفاظ اور دھن کے پیچھے کوئی اورعظیم تر چیزتھی جس نے الفاظ اور دھن کو پس پشت ڈال دیا اور دل میں کسی ایسی چیز کا احسا س ابھا ر دیا تھا جو اپنی عظمت اور بے پایانی کی وجہ سے خیال کی گرفت میں آہی نہیں سکتی۔ ماں نے اسی چیز کو ان نوجوانوں کی آنکھوں اور چہروں میں دیکھا اور اسے محسوس ہوا کہ وہ چیز ان کے سینوں کے اندر رہتی ہے اور اس نے ایسی چیز کا احساس ابھار دیا تھا جو اپنی عظمت اور بے پایانی کی وجہ سے خیال کی گرفت میں آہی نہیں سکتی۔ اس نے اس چیز کو ان نوجوانوں کی آنکھوں اور چہروں میں دیکھا اور اسے نے ایسی قوت کے آگے سے جھکا دیا جس کا احاطہ نہ الفاظ کر سکتے ہیں نہ کوئی دھن۔ وہ دوسرے گیتوں کے مقابلے میں اس گیت کو زیادہ توجہ اور شدید تر جوش وہیجان کے ساتھ سنتی۔

وہ لوگ اس گیت کو دوسرے گیتوں کے مقابلے میں کومل سروں میں گاتے لیکن اس کا تاثر زیادہ بھر پور ہوتا اور وہ تاثر تمام میں گاتے لیکن اس کا تاثر زیادہ بھرپور ہوتا اور وہ تاثر تمام لوگوں کو مارچ کے ایک خوبصورت دن کی، آتی ہوئی بہار کے پہلے دن کی، ہوا کی طرح لپیٹ لیتا۔

’’اب تو وہ وقت ہے کہ ہم اس گیت کو سڑکوں پر گائیں!‘‘ وسوف شیکوف جھنجھلا کر کہتا۔

جب اس کا باپ دوبارہ چوری کے جرم میں جیل بھیج دیاگیا تو وسوف شیکوف نے ا پنے ساتھیوں سے آہستگی سے کہا:

’’اب ہم سب لوگ میرے گھر پر بھی جمع ہو سکتے ہیں۔‘‘

تقریباً ہر روز شام میں پاویل کا کوئی نہ کوئی دوست کام کے بعد اس کے ساتھ گھر آتا اور وہ لوگ ایک ساتھ بیٹھ کر پڑھتے اور نوٹ لیتے جاتے تھے۔ انہیں اتنی جلدی ہوتی اور وہ اپنے کام میں اتنے مصروف ہوتے کہ منہ ہاتھ دھونے کا وقت بھی نہ ملتا۔ وہ لوگ مطالعہ کے دوران ہی کھانا کھاتے چائے پیتے اورروزبروز کی یہ ساری صورتحال دیکھ کر بھی اب ماں کو سمجھ نہ آتی تھی کہ آخر یہ لوگ کس چیز کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔

’’ہمیں ایک اخبار نکالنا چاہئے‘‘ پاویل اکثر کہتا۔

زندگی زیادہ تیز رفتار اور زیادہ متحرک ہوگئی اور لوگ بڑی تیزی سے ایک کتاب کے بعد دوسری کتاب پڑھنے لگے جیسے شہد کی مکھیاں ایک پھول سے دوسرے پھول پر جا بیٹھتی ہوں۔

’’ہمارے متعلق باتیں شروع ہو گئی ہیں‘‘ ایک دن وسوف شیکوف نے کہا۔ ’’جلد ہی ہماری گرفتاریوں کا آغاز ہونے والا ہے۔‘‘

’’مچھلی تو پیدا ہی جال کے لئے ہوتی ہے‘‘ خوخول نے جواب دیا۔

خوخول روزبروز ماں کے نزدیک ہوتا گیا۔ جب وہ اسے ننکو کہہ کر پکارتا تو ایسا محسوس ہوتا جیسے کوئی ننہا بچہ اس کے رخساروں پر ہاتھ پھیر رہا ہو۔ اگر پاویل اتوار کو مصروف ہوتا تو خوخول لکڑیاں چیرتا۔ ایک دن وہ ایک تختہ اپنے کاندھے پر اٹھائے ہوئے آیا اس نے بڑی پھرتی اور مہارت کے ساتھ دھلیز کے لئے ایک تختہ بنا دیا اور اسے اس تختے کی جگہ لگا دیا جو بالکل گل چکا تھا۔ دوسری بار اس نے بہت ہی خاموشی سے حصار کو ٹھیک کر دیا۔ کام کرتے وقت وہ ہمیشہ سیٹی پر کوئی اداس دھن بجاتا تھا۔

’’خوخول کو اپنے گھر میں کرایہ دار کی حیثیت سے کیوں نہ رکھ لیں‘‘ ایک دن اس نے اپنے بیٹے سے کہا۔ ’’تم دونوں کے لئے اچھا رہے گا، تم لوگوں کو ایک دوسرے کے گھر نہیں بھاگنا پڑے گا۔‘‘

’’ماں تم اپنے لئے زیادہ مصیبت پالنا چاہتی ہو؟‘‘ پاویل نے کاندھے کو جھٹکا دیتے ہوئے جواب دیا۔

پاشا فضول بات نہ کرو، ویسے بھی میری تو ساری زندگی بغیر کسی مقصد کے مصیبت ہی میں گزری ہے۔
اگر اس جیسے شخص کی خاطر کچھ تھوڑی مصیبت بھی اٹھانی پڑے تو کیا ہوا۔‘‘

’’تم جیسا کہو‘‘ اس کے بیٹے نے کہا۔ ’’اگر وہ یہاں آگیا تومجھے خوشی ہو گئی۔۔۔‘‘

اور اس طرح خوخول ان کے گھر میں منتقل ہو گیا۔

ماں گورکی قسط 5 ماں گورکی قسط 5 ماں گورکی قسط 5 ماں گورکی قسط 5 ماں گورکی قسط 5 ماں گورکی قسط 5 ماں گورکی قسط 5 ماں گورکی قسط 5 ماں گورکی قسط 5 ماں گورکی قسط 5

ہمیں فالو کریں

کیٹاگری میں : ماں

اپنا تبصرہ بھیجیں