عیون الانباء فی طبقات الاطباء 296

طب یونانی کے گمشدہ خزانے

Spread the love

نام کتاب:عیون ُ الانباء فی طبقات الاطباّء(اردو ترجمہ)

مبصر :حکیم محمد شیراز، لکچرر شعبۂ معالجات، کشمیر یونیورسٹی، سری نگر، جموں و کشمیر۔

مصنف:ابن ابی اصیبعہ

مترجم:سینٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسین، نئی دہلی۔

سن اشاعت:1990ء

یونانی طب کی تاریخ بہت طویل ہے۔ اس طب کا آغاز تقریباً پانچ سو سال قبل مسیح میں یونان کی سر زمین پر ہوا۔ اس کے بعد اس طب نے مصر، ایران، عرب اور یوروپ تک رسائی حاصل کی اور تیرھویں صدی عیسوی میں یہ فن ہندوستان میں ترقی کی راہ پر گامزن ہوا اور تاحال برصغیر میں یہ طریقہ علاج رائج اور عوام میں مقبول ہے۔ اس اڑھائی ہزار سال کے عرصہ میں اس فن کے بے شمار ماہرین ہوئے جن کے علمی و عملی و کارناموں نے اس فن کو فروغ دیا اور اس کی بقا کا باعث بنے۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ یونانی طب کا ماضی بہت شاندار رہا ہے جس کا سبب اس فن کے ماہر اور قابل اطبا کے علمی و عملی کارنامے رہے ہیں۔ان اطبا کے حالات سے واقفیت موجودہ دور کے اطبا کے لیے نہایت ضروری ہے۔


پرانا لاہور: ترجمہ: پروفیسر شعیب رضا

طبیبہ ام الفضل صاحبہ اس کتاب کے پیش لفظ میں رقم طراز ہیں کہ طبیب فاضل موفق الدین ابولعباس احمد بن قاسم بن خلیفہ بن یونس سعدی خزرجی معروف بہ ابن ابی اصیبعہ کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’عیون الانباء فی طبقات الاطباء‘‘ (اردو ترجمہ) مطبوعات کونسل کی ایک اہم کڑی ہے۔ علامہ ابن ابی اصیبعہ کی یہ کتاب اطبائے قدیم کے حالات پر ایک مستند کتاب تسلیم کی جاتی ہے۔ جس میں طب کے ابتدائی دور سے تیرھویں صدی عیسوی تک کے اطباء کے حالات اور ان کے فنی کارنامے تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ مصنف نے اس کتاب کو 643ھ میں دمشق میں مکمل کیااور امین الدولہ بن غزال وزیر الملک الصالح بن الملک العادل کے سامنے پیش کیا۔ ابن ابی اصیبعہ اپنے زمانے کے یکتا عالم اور تیرھویں صدی کے بہترین مورخ طبیب گزرے ہیں۔ ابن ابی اصیبعہ تحریر کرتے ہیں کہ میں نے جب اس کتاب کو تحریر کرنے کا ارداہ کیا تو اس زمانے میں جس قدر تاریخی مواد موجود تھا اس کا بغور مطالعہ کیا اور جو چیزیں ان میں سے میری تحقیق کے مطابق صحیح ثابت ہوئیں ان کو لے لیا اور بقیہ کو ترک کر دیا۔اس لحاظ سے تاریخ الاطباء پر یہ ایک مستند و محقق معلومات ہے۔تقریباً500سال تک یہ کتاب قلمی صورت ہی میں رہی۔

1883ء میں مصر کے مشہور عالم امرا القیس بن الطحان نے اس کے قلمی نسخہ کو خدیو مصر کے کتب خانہ میں دیکھا اور پڑھنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچے کہ اگر اس قلمی نسخہ کو شائع کر دیا جائے تو علمی حلقہ کے لیے یہ بہت مفید ثابت ہو گا۔ چنانچہ اس مقصد کے لیے انھوں نے کئی قلمی نسخوں کا مطالعہ کیا تو ہر نسخہ میں فرق محسوس کیا۔اس فرق کو دور کرنے کے لیے انھوں نے آکسفورڈ ، آسٹریا، المانیہ، لندن، پیرس، لیڈن، فلمنک، برلن کی لائبریریوں کے موجود نسخوں کا باہمی مقابلہ کیا۔علاوہ ازیں مسٹر نکلسن(لندن)، مسٹر شقر( پیرس) کے نسخوں کا بھی گہرا مطالعہ کرنے کے بعد ایک ایسا نسخہ مرتب کر لیا جو ہر اعتبار سے مستند مانا جاتا تھا۔نیز امراء القیس نے جس قدر اس کتاب میں واقعات تھے ان کو تاریخ الحکماء، مصنفہ جمال الدین قفطی،کتاب التعریف فی طبقات الامم مصنفہ قاضی صاعد بن احمد طلیطلی، کتاب نزہۃ الارواح و روضۃ الافراح مصنفہ محمد بن محمود شہر زوری، کتاب ُ الفہرست مصنفہ محمد بن اسحاق وغیرہ تاریخی کتب سے مطابقت کی ۔جب یہ نسخہ ان کی کوششوں کے بعد مکمل ہو گیا تو علامہ مصطفیٰ آفندی مالک مطبع و ہبیہ مِصر نے 1883ء میں پہلی بار خاص اہتمام کے ساتھ شائع کیا۔اس طرح عیون النباء کا موجودہ نسخہ دنیا کے صحیح ترین نسخوں میں شمار ہوتا ہے۔

فیس بک پر ہمیں فالو کریں

ہندوستان میں طب یونانی کے پہنچنے سے قبل تک کے اطبا کے بارے میں معلومات کے لیے یہ کتاب بہترین ماخذ ہے۔ اردو میں اتنی ضخیم کتاب اس موضوع پر ابھی تک شائع نہیں ہوئی۔تایخ الحکماء (ابن قفطی) کا ترجمہ بھی ہوا ہے۔لیکن اطبا کے حالات پر یہ کتاب مختصر معلومات فراہم کرتی ہے۔

ترجمہ کے لیے حکیم عبدالمجید اصلاحی صاحب کی خدمات حاصل کی گئیں ۔ جواردو داں اطباء اور طلبائے طب کے علاوہ اس موضوع پر تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے یہ کتاب انتہائی مفید ماخذ ثابت ہوئی۔

اس کتاب میں مولّف کے مقدمے کے تحت رقم ہے کہ اس کتاب کے ابواب اس طرح ہیں:

ابتدائیہ: طب کی ابتداء اور اس کے اولین واقعات

باب اول :اطباء جن سے طب کے کچھ اجزاء وجود میں آئے اور فن کا آغاز ہوا

باب دوم:اسقلیبوس کی نسل سے پیدا ہونے والے اطباء

باب سوم:یونانی اطباء جن کے درمیان بقراط نے طب کی اشاعت کی۔

باب چہارم : اطباء نے جو جالینوس کے عہد میں اور قریب تر زمانے میں پید اہوئے ۔

باب پنجم: اطبائے اسکندریہ اور ہم عصر عیسائی اطباء وغیرہ۔

باب ششم:آغاز اسلام میں پیدا ہونے والے اطبائے عرب وغیرہ۔

باب ہفتم : عہد عباسی کے آغاز میں سریانی اطباء

باب ہشتم:یونانی سے عربی میں کتب طب وغیرہ کے مترجمین۔

باب نہم: بلاد عجم میں پیدا ہونے والے اطباء

باب یاز دہم:ہندوستانی اطباء

باب دو از دہم:بلاد مغرب میں پیدا ہونے والے اور اقامت گزیں اطباء۔

باب سیز دہم:دیار مصر کے مشہور اطباء

باب چہار دہم:شام کے معروف اطباء

خلاصہ:

اس نادر و نایاب کتاب سے موجودہ دور میں تحقیق و تدوین میں خاصی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔جیسا کہ حکیم سید ظل الرحمٰن صاحب نے آئینۂ تاریخ طب میں طب یونانی میں تحقیق کے ممکنات میں رقم کیا ہے کہ وہ کتابیں جن کا تذکرہ اس قسم کی تاریخی کتب میں ہے ، انھیں یا ان کے مخطوطات جو بھی میسر آئیں انھیں جمع کیا جائے ، ان پر تحقیق کی جائے ممکن ہے کہ دور حاضر کے تقاضوں کو پورا کرنے میں وہ کتابیں یا مخطوطات معاون ثابت ہوں۔مخطوطات کو جمع کرنے میں دیگر طبیں ، طب یونانی پر سبقت لے جاتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں نیز اپنے مخطوطات کے ڈج،ٹالئزیشن میں مصروف ہیں۔یہ ایک مستقل شعبہ ہے، جس پر اہلیان طب یونانی کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مراجع و مصادر

۱۔عیون الانباء فی طبقات الاطباء (اردو ترجمہ)، ابن ابی اصیبعہ، سی۔سی۔آر۔یو۔ایم، نئی دہلی، 1990ء۔

۲۔تاریخ طب، حسان گرامی۔

۳۔تاریخ طب و اخلاقیات، حکیم اشہر قدیر۔

عیون الانباء فی طبقات الاطباء عیون الانباء فی طبقات الاطباء عیون الانباء فی طبقات الاطباء

اپنا تبصرہ بھیجیں