ماں قسط نمبر10 Mother novel 120

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 3

Spread the love

(ماں قسط نمبر 3)ایک ہفتہ کے وسط میں تعطیل کے دن گھر سے جا تے ہوئے پاویل نے ماں کی طرف مڑ کر اس سے کہا:

’’امید ہے کہ ہفتے کے روز یہاں کچھ لوگ آئیں گے‘‘

ماں: میکسم گورکی قسط نمبر 2

کون لوگ! ماں نے پوچھا
کچھ لوگ تو ہمارے گاوں سے ہی ہوں گے جب کہ شہر سے آئیں گے۔

’’ماں نے سر ہلاتے ہوئے کہا ’’شہر سے ‘‘ اور اس کے ساتھ ہی سسکیاں لینے لگی۔

’’ماں! ……… بات کیا ہے؟‘‘ پاویل نے جھلاکر پوچھا۔

اس کی ماں نے اپنے ایپرن سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا ’’ مجھے نہیں معلوم اس نے ٹھنڈا سانس بھرتے ہوئے کہا۔ ’’کوئی خاص بات نہیں۔۔۔‘‘

’’ڈرتی ہو؟‘‘

’’ہاں!‘‘ اس نے اعتراف کیا۔

وہ ماں کی طرف جھکا اور اپنے باپ کی طرح ترش روی سے بولا:

خوف نے ہم سب کو برباد کر دیا ہے۔ اور جو لوگ ہم پر حکمرانی کرتے ہیںو ہ ہمارے خوف ہی سے فائدہ اٹھا کر ہم پر اور زیادہ ظلم کرتے رہتے ہیں۔‘‘

’’خفا مت ہو!‘‘ اس کی ماں نے رنجیدگی سے کہا۔’’میں کیسے نہ ڈروں؟ ساری زندگی ڈرتی ہی تو آئی ہوں۔ میری تو روح پر بھی خوف خوف طاری ہے۔‘‘

’’ماں، مجھے معاف کر دو، مگر راستہ یہی ہے‘‘ پاویل نے نرمی سے کہا۔ اور چلا گیا۔

تین دن تک اس کا دل لرزتا رہا۔ جب بھی سوچتی کہ کچھ اجنبی اور شاید خطرناک قسم کے لوگ اس کے گھر آئیں گے تو وہ چونک سی پڑتی اور اس کا دل بیٹھ جاتا۔ ان ہی لوگوں نے تو اس کے بیٹے کو وہ راستہ دکھایا تھا جس پر وہ چل رہا تھا۔۔۔

ہفتے کے دن پاویل شام کو کارخانے سے گھرآیا، باہر جانے کے لیے منہ ہاتھ دھو، کپڑے تبدیل کئے۔

’’اگر کوئی آئے تو کہنا کہ میں ابھی آتا ہوں‘‘ اس نے ماں کی طرف دیکھے بغیر کیا۔ ’’ اور خدا کے لئے تم ڈرو مت۔۔۔‘‘

وہ کمزوری سے ایک بنچ پر بیٹھ گی۔ پاویل نے اکھڑے اکھڑے انداز میں اس کی طرف دیکھا۔

’’کیا یہ بہتر نہ ہو گا کہ۔۔۔ آج تم کہیں اور۔۔۔ چل جائو‘‘ اس نے تجویز پیش کی۔

اس کے الفاظ سے ماں کو تکلیف پہنچی۔

’’ نہیں، میں کیوں چلی جائوں؟‘‘

ہمیں فالو کریں

نومبر کے آخری دن تھے۔ دن کے وقت یخ بستہ زمین پر باریک اور خشک برف گر چکی تھی اور اس نے اپنے بیٹے کے جاتے وقت اس کے قدموں کے نیچے برف کے چرمرانے کی آواز سنی۔ تاریکی کھڑکیوں سے لپٹی دل میں عداوت سے لئے کسی کی تاک میں لیٹی ہوئی تھی۔ وہ وہیں دونوں ہاتھوں سے بنچ کو پکڑے دروازے پر نظریں گاڑے بیٹھی رہیــ……….

اسے ایسا محسوس ہوا کہ ہر طرف سے برے لوگ عجیب وغریب کپڑے پہنے اندھیرے میں رینگ رہے ہیں۔ پھر گھر کے چاروں طرف دبے پائوں چلنے کی آوازیں آنے لگیں اور دیواروں پر انگلیوں کی سرسراہٹ سی محسوس ہونے لگی۔

اس نے سنا کہ کوئی شخص سیٹی میں کوئی دھن بجا رہا ہے۔ آواز نے خاموشی میں ہلکا سا ارتعاش پیدا کیا، مغموم اور سریلی آواز ویران تاریکی میں بھٹکنے لگی جیسے کسی کی تلاش میں سرگرداں ہو۔ پھر وہ آواز نزدیک آتی گئی اور اسی کھڑکی کے پاس پہنچ کر دفعتاً ختم ہو گئی جیسے دیوار کی لکڑی میں سرایت کر گئی ہو۔

ڈیوڑھی میں پیروں کی چاپ سنائی دی۔ ماں چونک کر کھڑی ہو گئی۔ اس کی بھویں تنی ہوئی تھیں۔

دروازہ کھلا۔ پہلے ایک سر جس پر لمبے لمبے بالوں کی بڑی سی ٹوپی تھی نمودار ہوا، اس کے بعد چھوٹے سے دروازے سے ایک لمبا جسم جھک کر سامنے آیا۔ اس کے بعد وہ شخص سیدھا ہوا۔ اس نے سلام کے لئے سیدھا ہاتھ اٹھایا اور ٹھنڈا سانس بھر کرکہا:

’’آداب!ــ‘‘

ماں نے کچھ کہے بغیر جھک کر سلام کا جواب دیا۔

’’پاویل گھر پر ہے؟‘‘

نووارد نے اطمینان سے سمور کی جیکٹ اتاری۔ ایک ٹانگ اوپر اٹھا کر اپنی ٹوپی سے بوٹ کی برف صاف کی پھر دوسری ٹانگ کے ساتھ یہی عمل کیا، کونے میں اپنی اچھال کرپھینک دی اور بڑی سبک گامی سے کے دوسرے کونے میں چلا گیا۔ ایک کرسی کو اچھی طرح دیکھنے کے بعد جیسے اطمینان کر رہا ہو کہ وہ اسے سنبھال سکے گی یا نہیں، وہ اس پر بیٹھ گیا اورا پنے منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائی لی۔ اس کا جسم سڈول اور بال چھوٹے چھوٹے ترشے ہوئے۔ ڈاڑھی منڈی ہوئی تھی۔ البتہ اس کی مونچھیں ضرور تھیں جن کے سرے نیچے کی طرف لٹک رہے تھے۔ اس نے اپنی بڑی بڑی، بھورے رنگ کی، ابھری ہوئی انکھوں سے کمرے کا بڑے غور سے جائز لیا۔

’’یہ آپکا اپنا جھونپڑا ہے یا کرایہ پر لیا ہے؟‘‘اس نے پیر پر پیر رکھ کر کرسی پر جھولتے ہوئے دریافت کیا۔

’’کرایہ کا ہے‘‘ ماں نے، جو اس کے مقابل میں بیٹھی ہوئی تھی، جواب دیا۔

’’یہ زیادہ اچھی جگہ نہیں ہے‘‘اس نے رائے ظاہر کی۔

’’پاشا ابھی آجائے گا۔ بس تھوڑی دیر انتظار کرو۔‘‘

اس کے سکون واطمینان، اسکی نرم آواز اور اس کے سیدھے سادے چہرے کی وجہ سے ماں کی ہمت بندھی۔ اس کی نگاہوں سے صاف دلی اور دوستی کا اظہار ہوتا تھا اور اس کی شفاف آنکھوں کی گہرائیوں میں مسرت کے شعلے رقصاں تھے۔ اس دبلے پتلے،جھکے ہوئے اور لمبی ٹانگوں والے جسم میں ایک قسم کی کشش تھی۔ وہ ایک نیلی قمیص اور ڈھیلی سی سیاہ پتلون پہنے ہوئے تھاجس کے پائینچے اس کے جوتوں میں گھسے ہوئے تھے۔ وہ اس سے پوچھنا چاہتی تھی کہ وہ کون ہے، کہاں سے آیا ہے اور آیاوہ اسکے بیٹے کو بہت دنوں سے جانتا ہے۔ مگراس نے آگے کی جانب قدرے جھک کے خود ہی گفتگو کا سلسلہ شروع کر دیا۔

’’تمہارے ماتھے پر اتنی زور سے کس نے ماراتھاننکو (یعنی ماں)؟‘‘اس نے پوچھا۔

اس کی آواز میں ہمدردی تھی اور اس کی آنکھوں میں مسکراہٹ جھلک رہی تھی لیکن عورت کے جذبات کو اس سوال سے ٹھیس پہنچی۔

’’تم یہ سب کیوں جاننا چاہتے ہو نوجوان؟ ‘‘اس نے ہونٹوں کو بھینچ کر سے سرد مہر شائستگی کے ساتھ پوچھا۔

’’اس میں خفا ہونے کی کوئی بات نہیں!‘‘ اس نے ماں کی طرف پوری طرح جھکتے ہوئے کہا۔ ’’میں نے تم سے صرف اس لئے پوچھا کہ میری رضاعی ماں کے بھی اسی قسم کا زخم تھا، جیسے تمہارے ہے۔ اسے اس کے مرد نے مارا تھا جس کے ساتھ وہ رہتی تھی۔ وہ موچی تھا اور اس نے اسے لکڑی کے قالب سے مارا تھا۔ وہ دھوبن تھی اور وہ موچی۔ اسے کہیں مل گیا تھا۔ اور اسے ہمیشہ پچھتاوا ہی رہا کیو نکہ وہ پکا شرابی تھا۔ یہ سب مجھے گود لینے کے بعد ہوا۔ اف! اسے کس طرح مارتا تھا! میرا تو ڈر کے مارے برا حال ہو جاتاتھا!‘‘

اس کے اعتماد نے ماں کو لاجواب کر دیا اور اسے ڈر ہوا کہ اس کو روکھائی سے جواب دینے پر پاویل اس سے خفا نہ ہو جائے۔

’’میں دراصل خفا نہیں تھی ‘‘ اس نے محجوب تبسم کے ساتھ کہا۔ ’’لیکن تم نے بہت اچانک سوال کر ڈالا۔ خدا اسے جنت نصیب کرے۔

مجھے بھی میرے شوہر نے ہی ماراتھا………… اچھا یہ بتاو کیا تم تاتاری ہو؟‘‘ (قدیم روسی میں لنڈے کا کام کرنے والے کو تاتاری کہا جاتا تھا)

اس شخص نے اپنے پیروں کو جنبش دی اور اس زور سے ہنسا کہ اس کے کان بھی ہل گئے پھر اس نے سنجیدگی سے کہا :

’’تمہاری بول چال روسیوں کی طرح کی نہیں ہے‘‘ ماں نے مذاق کو سمجھتے ہوئے مسکرا کر اپنا مطلب سمجھایا۔

’’میرا لہجہ تو روسیوں سے بھی بہتر ہے‘‘ مہمان نے مزاحیہ انداز میں کہا۔ ’’میں ’’خوخول‘‘ (اہل یوکرین کو انقلاب اکتوبر سے قبل روسی مذاقاً خوخول کہا کرتے تھے)ہوں، کانیف شہر کا رہنے والا۔‘‘

’’یہاں بہت دنوں سے ہو؟‘‘

’’ـ شہر میں تو تقریباًسال بھر سے ہوں لیکن کارخانے میں آئے ہوئے ایک مہینہ ہوا۔ یہاں مجھے اچھے لوگ ملے ہیں: آپ کا بیٹا اور چند اور لوگ۔ اس لئے میرا خیال ہے کہ اب شاید یہیں رہوں گا‘‘ اس نے اپنی مونچھوں کو مروڑتے ہوئے کہا۔

اسے یہ شخص اچھا معلوم ہوا۔اور اس کے بیٹے کے متعلق اس نے جو کلمات خیر کہے تھے اس کے لئے وہ اسے کوئی صلہ دینا چاہتی تھی۔

’’ایک پیالی چائے تو ضرور پیو گے؟‘‘ اس نے دریافت کیا۔

’’صرف میں ہی کیوں پیوں؟ ‘‘اس نے اپنے شانوں کو ہلکی سی جنبش دیتے ہوئے کہا۔ ’’دوسروں کو بھی آنے دو۔ پھر ہم سب کی خاطر کرنا۔۔۔‘‘

اس کے الفاظ نے ماں کے خوف کو پھر تازہ کر دیا۔

’’کاش دوسرے بھی اسی شخص کی طرح ہوں ‘‘اس نے سوچا۔

ڈیوڑھی میں ایک بار پھر پیروں کی چاپ سنائی دی۔ دروازہ تیزی سے کھلا اور ماں ایک بار پھر کھڑی ہو گئی۔ لیکن اسے یہ دیکھ کر تعجب ہوا کہ ایک لڑکی باورچی خانے میں داخل ہوئی۔ وہ کچھ چھوٹی سی تھی، کسانوں کی طرح سیدھا سادہ چہرہ تھا اور کے سنہرے بالوں کی ایک موٹی سی چوٹی گندھی ہوئی تھی۔

’’کیا مجھے دیر ہو گئی؟ ‘‘لڑکی نے قدرے نرم لہجے میں پوچھا۔

’’نہیں، دیر نہیں ہوئی‘‘ خو خول نے دروازے سے جھانکتے ہوئے کہا۔ ’’پیدل آئی ہو؟‘‘

’’اور نہیں تو کیا۔ آپ پاویل میخا ئلووچ کی ماں ہیں؟ آداب۔ میرانام نتاشاہے۔۔۔‘‘

’’اور تمہارا پدری نام؟‘‘ ماں نے دریافت کیا۔

واسیلیونا۔اور آپ کا نام ؟‘‘

’’پلاگیا نلوونا۔‘‘

’’تو اب ہم لوگ ایک دوسرے سے متعارف ہو گئے ہیں۔‘‘

’’ہاں‘‘۔ ماں نے لڑکی کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا۔اس وقت اس کی آواز میں خفیف سا ارتعاش تھا۔

’’سردی لگ رہی ہے ؟‘‘لڑکی کا لبادہ اتارتے ہوئے خو خول نے پوچھا۔

’’بے انتہا۔ باہر کھیتوں میں توزیادہ ہی ہے! ‘‘

اس کی آواز گہری، لطیف اور نرمل تھی۔ اس کا دھن چھوٹا اور ہونٹ بھرے بھرے تھے اور مجموعی طور پر اس کا جسم سیب کی طرح تازہ، گول اور گدازتھا۔

اپنا کوٹ وغیرہ اتارنے کے بعد اس نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے، جو سردی کی وجہ سے سوج گئے تھے، اپنے گلر نگ رخساروں کو رگڑا۔ فرش پر جوتوں کی ایڑیوں سے شور مچاتی ہوئی تیزی سے دوسرے کمرے میں داخل ہوگئی۔

’’یہ لڑکی ربر کے جوتے نہیں پہنتی‘‘ ماں نے دل ہی دل میں سوچا۔

’’اررر‘‘ لڑکی نے تھر تھراتے ہوئے کہا۔ ’’میں تو سردی سے بالکل جم گئی!‘‘

’’ٹھہرو میں ابھی سماوار رکھتی ہوں‘‘ ماں نے جلدی سے باورچی خانے میں جاتے ہوئے کہا۔ ’’ابھی ایک منٹ میں۔۔۔‘‘

اسے ایسا ہوا جیسے وہ اس لڑکی سے ایک عرصہ سے واقف ہے اور وہ ایک ماں کی پیاری، ہمدردانہ محبت کے ساتھ اسے چاہنے لگی۔ دوسرے کمرے میںہونے والی گفتگو کو سن کر اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگی۔

’’کیا سوچ رہے ہو نخور کا؟‘‘ لڑکی نے دریافت کیا۔

’’کوئی خاص بات نہیں‘‘ خوخول نے آہستہ سے جواب دیا۔ ’’ان بیوہ خاتون کی آنکھیں بڑی اچھی ہیں اور میں سوچ رہا تھا کہ ممکن ہے میری ماں کی آنکھیں بھی ایسی ہی ہوں۔ میں اکثر اپنی ماں کے متعلق سوچتا ہوں او رمجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ زندہ ہے۔‘‘

’’لیکن تم نے تو کہا تھا کہ ان کا انتقال ہو گیا۔‘‘

’’میری رضاعی ماں کا انتقال ہوا تھا، میں اپنی ماں کی بات کر رہا ہوں۔ وہ شایدکیف کی سڑکوں پر بھیک مانگ رہی ہو گی اور ووڈکا پی رہی ہوگی۔ اور جب زیادہ پی جاتی ہو گی تو شاید پولیس والے اسے تھپڑ مارتے ہوں گے۔‘‘

’’بیچارہ لڑکا‘‘ ماں نے ٹھنڈی سانس لیتے ہوئے سوچا۔

نتاشا نے کوئی بات بڑے تیز، نرم، ملائم اور جوشیلے انداز میںکہی۔ خوخول کی آواز ایک دفعہ پھر گونجی:

’’تم ابھی بالکل ناسمجھ بچی ہو، تم نے ابھی دنیا نہیں دیکھی! انسان کو جنم دینا بڑا کٹھن کام ہے لیکن اس سے بھی مشکل کام ہے اسے شرافت سکھانا۔‘‘

’’ہائے بیچارہ!‘‘ ماں نے اپنے آپ ہی کہا اور اس کا جی چاہا کہ وہ اس خوخول کے پا س جا کر ہمدردی کے الفاظ کہے، لیکن دروازہ کھلا اور بڑھے چور دانیلو کا بیٹا نکولائی وسوف شیکوف داخل ہوا۔ وہ ساری بستی میں اپنے آپ کو لئے دیئے رہتا تھا اور اسی وجہ سے لوگ اس کو چھیڑتے اور چڑاتے تھے۔

’’کیا بات ہے نکولائی؟‘‘ ماں نے حیرت سے پوچھا۔

’’پاویل گھر میں ہے؟‘‘ اس نے اپنے چوڑے چیپک رو چہرے کو اپنے ہاتھوں سے پونچھتے ہوئے، ماں کو سلام کئے بغیر دریافت کیا۔

’’نہیں۔‘‘

اس نے کمرے میں جھانک کر دیکھا اور پھر اندر چلا گیا۔

’’آداب ساتھیو۔۔۔‘‘ اس نے کہا۔

’’یہ بھی!‘‘ ماں نے جب دیکھا کہ اس نے نتاشا نے اس طرح ہاتھ ملایا جیسے اس سے مل کر اسے خوشی ہوئی ہو تو اسے بڑا تعجب ہوا۔

نکولائی کے بعد دو آدمی اور آئے۔ دونوں ابھی نو عمر لڑکے ہی تھے۔ ماں ان میں سے ایک کو جانتی تھی جس کا ناک نقشہ تیکھا، بال گھنگریالے اور ماتھا چوڑا تھا۔ اس کا نام فیدور تھا اور وہ کارخانے کے پرانے مزدور سیزوف کا بھتیجا تھا۔ دوسرا شرمیلا سا تھا۔ اس کے بال سیدھے اور سر پر چپکے ہوئے سے تھے۔ ماں اسے نہیں جانتی تھی لیکن اس کی ذات سے بھی کوئی خوف ودہشت پیدا نہیںہوا۔ آخر کار پاویل بھی داخل ہوا۔ اس کے ساتھ کارخانے کے دو نوجوان مزدور تھے جنہیں وہ جانتی تھی۔

ماں قسط نمبر 3 ماں قسط نمبر 3 ماں قسط نمبر 3 ماں قسط نمبر 3 ماں قسط نمبر 3 ماں قسط نمبر 3

اپنا تبصرہ بھیجیں