mir shakeel mariyam aurangzab 40

میر شکیل الرحمن کی درخواست ضمانت مسترد، ریمانڈ پرنیب کے حوالے

Spread the love

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس سرداراحمد نعیم اور مسٹر جسٹس فاروق حیدر پر مشتمل ڈویژن بنچ نے پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں جنگ اورجیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف کی رہائی کیلئے دائردرخواست مسترد کر دی۔ فاضل بنچ نے قراردیاکہ جسمانی ریمانڈ کے مرحلہ پر ضمانت کی درخواست قابل پذیرائی نہیں ، نیب پراسکیوٹر فیصل رضا بخاری نے عدالت کو بتایا کہ میر شکیل کو 26 سوال دیئے گئے لیکن ملزم میر شکیل نے تمام سوالات سے انکار کیا،

جہانگیر ترین کے ساتھ عمران کا سلوک دیکھتے ہیں: شیخ رشید

پراسکیوٹر نیب نے اعتزاز احسن کی جانب سے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین نیب کو ویڈیو لنک کے ذریعے تمام حقائق سے آگاہ کیا گیا تھا، نیب پراسکیوٹر نے دلائل میں کہا کہ آج کل تو سپریم کورٹ میں اور حکومتی فیصلے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے ہوتے ہیں،کیس کی تمام کارروائی چیئرمین نیب کے علم میں ہے اور انکی ہدایات پر تحقیقات کی جا رہی ہیں،نیب پراسکیوٹر نے بتایا کہ ملزم میر شکیل الرحمن نے شریک ملزم میاں نواز شریف کی ملی بھگت سے غیر قانونی طور پر پلاٹوں پر ایگزمپشن حاصل کی، میر شکیل الرحمن کو ایل ڈی اے پالیسی کے خلاف پورا بلاک الاٹ کیا گیا. ملکی تاریخ میں ایل ڈی اے، سی ڈی اے، ڈی ایچ اے کسی بھی ہائوسنگ سوسائٹی نے سڑکوں کو کسی پلاٹ میں شامل نہیں کیا،

ملکی تاریخ کا یہ پہلا کیس ہے جس میں کسی کو غیر معمولی رعایت دی گئی ہے ،میر شکیل ڈی ایل ڈی سے ملا اور خواہش کا اظہار کیا کہ اسے ایک ہی بلاک میں 54 کنال زمین پر ایگزمپشن دی جائے، اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں نواز شریف نے ملزم کی درخواست پر ایگزمپشن پر منظوری دی،سابق وزیر اعلیٰ نواز شریف نے سمری منظور کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ملزم کو خصوصی رعایت دی جائے، جسٹس سردار احمد نعیم نے نیب پراسکیوٹر سے استفسار کیا کہ کیا پالیسی میں ایسا ہے کہ سڑک بھی ایگزمپشن میں شامل کر دیا جائے؟ نیب پراسکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ کسی بھی ہائوسنگ سوسائٹی میں ایسا نہیں ہوتا، سڑک ہمیشہ سڑک ہی رہتی ہے، نیب پراسکیوٹر کے لیے دلائل پر جواب میر شکیل الرحمن کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا میر شکیل الرحمن بوڑھا اور بیمار ہے، ضمانت پر رہا کیا جائے ،

میر شکیل الرحمن کہیں بھاگنے نہیں لگا، ملزم سے زر ضمانت یا شورٹی لے لی جائے،عتزاز احسن کا کہنا تھا کہنیب کے جواب میں کسی ویڈیو لنک کا ذکر نہیں، وارنٹ گرفتاری پہلے جاری کر دیئے اور انکوائری بعد میں کی گئی،نیب تسلیم کر رہا ہے کہ ابھی انکوائری مکمل نہیں ہوئی ،نیب یہ بھی تسلیم کر رہا ہے کہ ملزم میر شکیل پر بزنس مین پالیسی کا نفاذ ہوتا ہے،تو پھر میر شکیل الرحمن کوکیوں گرفتار کیا گیا، فاضل بنچ نے تفصیلی دلائل سننے کے بعد میر شکیل الرحمن کی رہائی کی درخواستیں خارج کر دیں، یہ درخواستیں میر شکیل الرحمن نے خود اور ان کی اہلیہ شاہینہ شکیل کی طرف سے دائر کی گئی تھیں۔میر شکیل الرحمن کے وکیل امجد پرویز نے صحافیوں کے استفسار پر کہا کہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے حوالے سے مشاورت کے بعد کوئی اقدام کیاجائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں