سیر لاہور 193

سیر لاہور: سردار منشی گلاب سنگھ

Spread the love

نام کتاب: سیر لاہور

مصنف: رائے صاحب منشی گلاب سنگھ

تحقیق، تخریج و حواشی: سید فیضان نقوی، (المعروف لاہور کا کھوجی) چیئرمین لاہور شناسی فاونڈیشن لاہور

پبلشر: فکشن ہاوس بک سٹریٹ مزنگ اڈا لاہور

تبصرہ: شعبہ تحریر و تصنیف، صرف اردو ڈاٹ کام

لاہور کو آباد ہوئے صدیاں بیت چکی ہیں لاہور کی شان و شوکت ، دیگر شہروں سے برتری اور صوبائی دارالحکومت ہونے کی روایت آج بھی قائم و دائم ہے۔ہر دور میں جہاں اس شہر کو لوٹنے والے آتے رہے ہیں وہاں لاہور کو سنوارنے والے بھی ہر دور کی پہچان بنے ہیں۔ سب سے پہلے راجہ لوہ، اس کے بعد ایاز، اکبر، جہانگیر، شاہ جہاں، رنجیت سنگھ ، انگریز وں کے طویل ادوار شامل ہیں۔ اس کے بعد پاکستان کے مختلف ادوار میں بھی یہ سلسلہ اس طرح جاری و ساری رہا ہے۔ لاہور کی پہچان ایک تو اس کی ماضی کی عظیم الشان تاریخ ہے جس کے آثار و باقیات یہاں آج بھی موجود ہیں

یہ بھی پڑھیں: عشق باز ٹڈا (خواجہ حسن نظامی)

شہر لاہور کی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے بہت سے لوگوں نے اس عظیم الشان شہر کو اپنی تصنیفات کا محور ہی بنائے رکھا۔ انہوں نے اپنے تذکروں اور یاداشتوں میں جس خوش اسلوبی اور سلیقے سے لاہور کو بیان کیا ہے وہ کل اور آج کا ایک قیمتی اثاثہ بن اس حیثیت کا حامل ہے جسے میں اور آپ تاریخ کہتے ہیں۔

برصغیر پر تاج برطانیہ کی حکومت قائم ہوئی تو بہت کچھ بدلا بہت سے آثار پریشاں ہوئے بہت سا علمی اثاثہ یہاں سے منتقل ہوا تو مولوی نور احمد چشتی نے 1868 میں محسوس کیا کہ لاہور کو از سر نو ایک شناخت کی ضرورت ہے ’’تحقیقات چشتی‘‘ اسی سوچ کا آئینہ ہے۔ معلوم نہیں کہ تحقیقات چشتی سے قبل کتنے نقوش عظمت رفتہ مٹے ہوں۔ اس کے بعد رائے بہادر کنہیا لال ہندی نے تاریخ لاہور کے نام سے 1884 ءمیں لاجواب کتاب کا تحفہ دیا اس کتاب کو آج بھی لاہور کی تاریخ میں بنیادی ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔ پھررائے بہادر جج سید محمد لطیف نے تاریخ لاہور، کرنل بھولا ناتھ وارث کی تاریخ شہر لہو ر، منشی محمد دین فوق کی ’’مآثر لاہور‘‘ اور پروفیسر گلاب سنگھ نے ’’سیر لاہور‘‘ کے نام سے کتابیں لکھ کر نہ صرف لاہور سے اپنی بے پناہ محبت کا اظہار کیا بلکہ اس شہر کی تاریخ کے نیم مردہ جسم میں ایک نئی روح بھی پھونک دی۔ جیسا کہ یہ بات کسی سے چھپی ہوئی نہیں کہ لاہور ایک مردم خیز خطہ ہے اور ہر دور میں تہذیب و ادب کا گہوارہ رہا ہے تو اس چمن سے شگوفے پھوٹنے کا سلسلہ کبھی رکا ہی نہیں۔

تقسیم ہند سے قبل لاہور پر بدنصیبی کے بادل چھائے اور دیکھتے ہی دیکھتے یعنی تقسیم ہند کا وقت آنے تک اور اس کے بعد لاہور پر جو گزری وہ ایک الگ المیہ ہے۔ اسی بدنصیبی نے اس بلادالعروس کو ایک مرتبہ پرھ برباد کیا۔ لاہور سے اجڑ کر جانے والے ہندو لاہوریوں نے اپنے تذکروں میں لاہور کو ایک بار پھرزندہ کرنے کی کوشش کی۔ جن میں سوم آنند کی ’’باتیں لاہو کی‘‘ ؟ گوپال متل کی ’’لاہور کا جو ذکر کیا‘‘، سنتوش کمار کی ’’لاہور نامہ‘‘ پھر اے حمید جو کہ خود امرتسر سے لاہور آئے تھے نے اپنے افسانوں میں لاہور کا بے شمار ذکر کیا۔ پرانے لاہوریوں میں سے بابا یونس ادیب نے لاہور کی ثقافت پر شاہکار کتاب ’’میرا شہر لاہور‘‘ کے نام سے تصنیف کی۔ اس کے بعد 1960 ءمیں ادارہ نقوش نے لاہور نمبر شائع کیا جو لاہور کی تاریخ پر گرا ں قدر کام ہوا۔ جس میںقدیم و جدید تقریبا تمام لاہور کو ہی سمو دیا گیا۔

پھر 1990 ءکی دہائی کے بعد محمد طفیل، منشی محمد دین فوق، اصغر امرتسری، مولوی ذکاءاللہ، ڈاکٹر عبد اللہ چغتائی، انیس ناگی، امتیاز حسین سبزواری، طاہر لاہور ی، ڈاکٹر مبارک علی، رضوان عظیم، شفقت حسین شرافت کی گمشدہ لاہور پروفیسر انجم رحمانی ،محمد الیاس عادل ، ڈاکڑ غافر شہزاد، ڈاکٹر ایم ایس ناز، ایف ای چودھری، منیر احمد منیر راؤجاوید اقبال ، محمد نعیم مرتضی ، مدثر بشیر ، ایم آر شاہد، ہارون خالد نے اپنی تصنیفات میں لاہور کو مرکز بنا کر پیش کیا۔

ان کے ساتھ ساتھ لاہور کی جستجو میں مگن ہمارا نواجون سید فیضان نقوی بھی شامل ہے عرف عام میں فیضان کو لاہور کا کھوجی بھی کہا جاتا ہے اور یہ لفظ لاہور کا کھوجی اس کے لیے ہر طرح سے مناسب ہے میں نے فیضان کو کام کرتے دیکھا ہےیوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے اس نے لاہور کو کھود کھود کر تلاش کیا ہے اور پھر سے اس لاہور کو ایک نئی پہچان اور نئی رفعتوں سے روشناس کرایا ہے۔ فیضان سمیت ان سب احباب کی کوششوں کے نتیجے میں لاہور کی تاریخ اور یاداشتوں پر مشتمل ایک خوبصورت گلدستہ تیار ہوگیا ہے۔ جس کی مسحور کن خوشبو آنے والی کئی صدیوں تک لوگوں کے قلب و اذہان کو معطر کرتی رہے گی۔

زیر نظر یہ کتاب سردار منشی گلاب سنگھ کی تحریر ہے۔ بنیادی طور پر انہوں نے یہ کتاب 1936 ءمیں اسکول کے طلباءکے لئے تحریر کی تھی۔ جس میں انہوں نے طلباءکے ذہنی معیار کے مطابق لاہو رکو بہت ہی آسان انداز میں سیر کروائی ہے۔ ان کا انداز بیان دوسرے تمام مصنفین سے ہر طرح منفرد اور نمایاں ہے۔ آج یہ کتاب ناپید ہو چکی ہے۔ پرانے نسخے نا معلوم کتب خانوں کے گم نام گوشوں میں مٹی میں دبے اپنی آخری سانسیں لے رہے ہیں۔

اس نایاب کتاب کی تلاش کا سہرا فیضان نقوی کے سر ہے جس کے لیے محبان تاریخ لازمی طور پر ممنون ہوں گے۔ یہاں ایک شخصیت جناب امجد صاحب جن کا تعلق جھنگ سے کا تذکرہ بھی کرنا ضروری ہے جنہوں نے اپنے کتب خانہ سے یہ قدیم نسخہ عنایت کیا۔ فیضان نقوی نے اس کتاب کو ازسر نو مرتب کیا ہے کتاب کا متن من و عن شائع کیا گیا ہے البتہ اس میں ذکر کئے جانے والے مقامات کے بارے میں مفید حواشی کے ذریعے نئے دور کے قارئین کو معلومات بہم پہنچائی گئی ہیں۔ اس نئے اور پرانے مسودے نے ایک نیا روپ بھر لیا ہے۔ فیضان نقوی نے اس پر حواشی لکھ کر نئی نسل کی تشنگی مٹا دی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے اسی نوعیت کی پرانی نایاب کتابوں کو دور حاضر کی ضرورتوں کے مطابق جدید کر کے آنے والوں کی راہنمائی کے لئے آسانی پیدا کی جائیں۔

ہمارا فیس بک پیج لائیک اور فالو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں