66

مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کا پابندیوں کے نام پر لوگوں کے ساتھ بیہمانہ برتائو

Spread the love

سرینگر (صرف اردو مانیٹرنگ ڈیسک) مقبوضہ کشمیر میں کورونا وائرس کے پھیلائو سے بچنے کو یقینی بنانے کیلئے سرینگر اور دیگر تمام ضلعی و تحصیل صدر مقامات میں کرفیو جیسی سخت پابندیاں عائد ہیںجس کے باعث پہلے سے لاک ڈائون کا سامنا کرنے والے کشمیریوں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے اور معمولات زندگی بری طرح سے مفلوج ہیں۔ جمعرات کی صبح مہلک وائرس کے باعث پہلی موت واقع ہونے کے بعد لوگوں میں سراسیمگی اور خوف و ہراس پھیل گیا ہے ۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق کشمیریوں کا کہنا ہے کہ سڑکوں پر تعینات بھارتی سکیورٹی فورسز اہلکار پابندیوں کے نام پر لوگوں کے ساتھ بہیمانہ رویہ روا رکھتے ہیں اور گھروں سے باہر آنے والے ہر کسی شخص پر بغیر کسی پوچھ گچھ کے تشدد کرتے ہیں ۔قابض انتظامیہ نے لازمی خدمات فراہم کرنے والے دفاتر کو چھوڑ کر باقی تمام سرکاری دفاترکو 14اپریل تک بند رکھنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔ تعلیمی ادارے ، پبلک ٹرانسپورٹ ، بازار اور عوامی مقامات گزشتہ ایک ہفتے سے بند ہیں۔

اسرائیل نے کرونا وائرس کے خلاف جنگ کے لیے جوہری بنکر کھول دیا

ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق سرینگر میں خاموشی اور خوف کا ماحول چھایا ہوا ہے ، سڑکوں پر جگہ جگہ بھارتی فورسز کے اہلکار تعینات ہیں ، گلی کوچوںکو خار دار تاروں کے ذریعے بند کیا گیا ہے ، لوگوں کو روکا جارہا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جارہی ہے اور انہیں بلا وجہ تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ سرینگر سے شائع ہونے والے اردو اخبار ’’روزنامہ روشنی‘‘ کی خبر میںکہا گیا کہ بھارتی فورسز پابندیوں کے نام پر لوگوں کے ساتھ نامناسب سلوک روا رکھ رہے ہیں حتی ٰ کہ ضروری خدمات انجام دینے والے جن لوگوں کو انتظامیہ کی طرف سے باہر نکلنے کی اجازت ہے ان کے ساتھ بھی بہیمانہ سلوک کیا جا رہا ہے۔اخبار نے لکھا ہے کہ لوگوں کا کہنا ہے کہ دراصل انتظامیہ کے پاس مہلک وائرس سے نمٹے کیلئے ضروری انتظامات و سازوسامان کی نہایت کمی ہے۔ خبر رسا ں ادارے سائوتھ ایشین وائر کے مطابق جموںوکشمیرمیں اس وقت5124 افراد کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے شبہ میں زیر نگرانی ہیں اور اب تک 11افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔3 ہزار 61 افراد کو گھریلو قرنطینہ جبکہ 80 افراد کو ہسپتالوں میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔

مقبوضہ کشمیر

اپنا تبصرہ بھیجیں