غزل ڈاکٹر ساجد فراہی 164

غزل (ڈاکٹر ساجد فراہی)

Spread the love

ڈاکٹر محمد ساجد فراہی کی تازہ غزل پیش خدمت ہے۔ ڈاکٹر ساجد فراہی کا تعلق، مشہور مفسر قرآن اور صاحب نظام القرآن علامہ حمید الدین فراہی کے وطن سے ہے. پھریھا، ضلع اعظم گڑھ کا مشہور قریہ ہے ڈاکٹر ساجد صاحب کا تعلق اسی گاوں سے ہے۔ بروقت محمدیہ طبیہ کالج، مالیگاؤں میں شعبہ حفظان صحت میں ایسوسی ایٹ پروفیسر اور صدر شعبہ کی خدمت انجام دے رہے ہیں۔ طب سے متعلق لاتعداد تحقیقی مضامین اور ایک کتاب بھی شائع ہو چکی ہے۔ درس وتدريس کے ساتھ اعلی شعری مذاق رکھتے ہیں۔

ہونٹوں پہ مرا نام نہ آنے کا سبب کیا؟
میں تیری محبت ہوں چھپانے کا سبب کیا؟

اک درد مسلسل نہیں جب عشق تمہارا
بھیگی ہوئی پلکیں نہ اٹھانے کا سبب کیا؟

جب ترک تعلق ہی مقدر ہے ھمارا
پھر عہد وفا یار نبھانے کا سبب کیا؟

کہتے ہو بھلا دونگا تجھے جب تو میری جاں
تصویر مری دل سے لگانے کا سبب کیا؟

جب کوئی حسیں محو تخاطب ہوا مجھ سے
بے طرح ترا آنکھ دکھانے کا سبب کیا؟

فرصت میں تیرے نقش جو ڈھالے ہیں خدا نے
اوپر سے اداؤں کے دکھانے کا سبب کیا؟

عریاں نہیں پردے میں اگر جسم تمہارا
اک آنچ سی پھر تجھ سے یہ آنے کا سبب کیا؟

روٹھے ہیں وہ تجھ سے تو قیامت نہیں ٹوٹی
ساجد یہ ترا گر کے منانے کا سبب کیا؟

ہمارا فیس بک پیج لائیک کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

یہ بھی پڑھیں: مجروح سلطانپوری: غزل کامسیحا

غزل ڈاکٹر ساجد فراہی غزل ڈاکٹر ساجد فراہی

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...