طب یونانی نئے کورسز 179

طب یونانی میں نئے شعبہ جات اور کورسز کی ضرورت

Spread the love

شمیم ارشاد اعظمی
صدر شعبہ علم الادویہ، اسٹیٹ یونانی میڈیکل کالج ،آلہ آباد ،اترپردیش

طب یونانی ایک قدیم اور مفید طریقہ علاج ہے۔ یونان، روم، عرب اور ایران اس کا گہوارہ رہے ہیں۔ ابتدائی قوموں اور تہذیبوں میں اب تقریباً یہ طریقہ علاج مفقود ہے، ایران میں حکومتی اور عوامی سطح پر اس طریقہ علاج کو ’’طب سنتی‘‘ کے نام سے کافی شہرت اور مقبولیت حاصل ہے۔ ہندوستان، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش اور ساوتھ افریقہ میں اس کے ادارے قائم ہیں۔ لیکن حکومتی سطح پر ہندوستان ہی ایک ایسا ملک ہے جہان طب یونانی کے فروغ اور اشاعت پر وافر بجٹ ملتا ہے۔ پڑوسی ملکوں میں اس طب کو حکومتی سطح پر بری طرح نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں سنٹرل کونسل آف انڈین میڈیسن (CCIM) طب یونانی اور دیگر طبوں کے تعلیمی معیار کو طے کرتا ہے، لیکن بد قسمتی یہ ہے کہ اس فن کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جا رہی۔ یہ ایک خود مختار ادارہ ہوتے ہوئے بھی محدود پیمانہ پر اصول و ضوابط طے کرتا ہے۔

شمیم ارشاد اعظمی کے قلم سے یہ بھی پڑھیں : مجربات شفاء الملک

طب یونانی میں بر وقت 14 شعبہ جات چل رہے ہیں اور ابھی بھی چار شعبوں میں پوسٹ گریجویٹ کی سطح تعلیم نہیں ہو پارہی۔ گذشتہ سالوں میں علم السموم کے نام سے علیحدہ ایک شعبہ کا قیام ہوا تھا، لیکن اسے پھر بند کر دیا گیا۔ اس کے برعکس دیگر طبوں میں بدستور نئے شعبے اور نئے کورسز ترتیب دیئے جا رہے ہیں اگر ذمہ دارانِ فن اس طرف توجہ نہیں کریں گے تو مستقبل میں یونانی طب کا بہت نقصان ہوگا۔ جہاں ہم اپنی حکومت اور معاصرین فن کی توجہ چاہتے ہیں اسی طرح یہ بھی چاہتے ہیں کہ ہمارے ہمسایہ ممالک کے ساتھ ساتھ دنیا میں جہاں جہاں طب یونانی ابھی دم خم کی حامل ہے وہاں پر میری گزارشات پر نگاہ کرنے کی ضرورت ہے اور فوری طور پر کم اَز کم درج ذیل شعبوں اور کورسز کا قیام ضروری ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ شعبہ علاج بالتدبیر نے اس سال سے علاج بالتدبیر میں ڈپلومہ کورس کا آغاز کیا ہے۔ اس کورس کے وجود میں آجانے کے بعد یقیناً کچھ دکانوں کا نقصان ہوگا جو علاج بالتدبیر کے سنٹر کے نام پر خطیر رقم لے کر سرٹیفکیٹ تقسیم کر رہے تھے۔

ہمیں ٹوئیٹر پر فالو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

1- علاج بزریعہ غذا کو فروغ دیا جائے اس کے لیے ضروری ہے کہ Nutrition مین ڈپلومہ کورس کا آغاز کیا جائے. طب یونانی کے علمی سرمایہ مین اغذية المرضي اور أغذية للاصحي پر کافی مواد ہے.
2- علم السموم کے شعبہ کو دوبارہ کھولا جائے.

3-تاریخ طب کا شعبہ کھولا جائے.

4،نفسیات کا علاحدہ سے شعبہ بنایا جائے. حکومت اترپردیش مین آج بھی نفسیات کے نام سے پروفیسر، ریڈر اور لکچرر کی پوسٹ ہے، مگر شعبہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ پوسٹین بھی ختم ہو جائین گی.

5- پنچ کرما کے طرز پر علاحدہ شعبہ قائم کیا جائے.

6- کشتہ جات اور رساین کو علیحدہ شعبہ کی حیثیت دی جائے.

7- دواسازی، ہاسپٹل مینجمنٹ، کاشت ادویہ وغیرہ پر سرٹیفیکیٹ اور ٹکنیشین وغیرہ کے کورس شروع کئے جائین.

8-غیر مدونہ امراض پر طب یونانی کے قدیم سرمایہ اور جدید طب کی روشنی میں لٹریچر تیار کیا جائے.

9- سر جري مين MS جاري ہے،مگر پریکٹس سے متعلق ٹھوس اصول و ضوابط نہین بنائے گئے ہیں، ایم ایس کرنے کے بعد فارغین سرجری کا عمل کرنے کے مجاز نہین ہین.

آیورویدک طب مين سرطان اور ایڈز جیسے امراض پر ریسرچ اور علاج کے لیے اسپیشل سینٹر بنے ہوئے ہین اور طب یونانی جسم کے محدود نظام کے علاج و معالجہ تک محدود ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...