کرونا وائرس سائنس حکومت

کرونا وائرس اور سائنس و حکومت کی بے بسی

Spread the love

حکیم محمد شیراز، لکچرر شعبہ ٔمعالجات، کشمیر یونیورسٹی، کشمیر۔sheeraz.rrium@gmail.com

اس وقت سارا عالم کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے۔موصلہ تازہ خبروں کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 468,523 ہو گئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 21,276 ہو چکی ہے۔یہ اعداد و شمار جان ہاپکنز یونیورسٹی کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ 7,503 ہلاکتیں اٹلی میں ہوئی ہیں جبکہ سپین میں 3,647، چین میں 3,163، ایران میں 2,077، فرانس میں 1,331، امریکہ میں 1,031، برطانیہ میں 465، نیدرلینڈ میں 356، جرمنی میں 206 جبکہ بلجیئم میں 178 افراد اس وبا کے باعث ہلاک ہو چکے ہیں۔اگرچہ ہلاکتوں میں اٹلی سرِفہرست ہے مگر کورونا وائرس کے مصدقہ کیسز اب بھی چین میں زیادہ ہیں۔

حکیم محمد شیراز کے قلم سے یہ بھی پڑھیں:کروناوائرس۔ غلط فہمیاں،تدابیر ازالہ، صحت

چین میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 81,667، اٹلی میں 74,386، امریکہ میں 68,572، سپین میں 49,515، جرمنی میں 37,323، ایران میں 27,017، فرانس میں 25,600، سوئزرلینڈ میں 10,897، برطانیہ میں 9,640 جبکہ ساؤتھ کوریا میں مصدقہ کیسز کی تعداد 9,137 ہے۔

روم: اٹلی میں موت راج کرنے لگی، ہر طرف لاشیں ہی لاشیں نظر آنے لگیں، کرونا وائرس کے باعث ایک ہی دن میں 627 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ اسپتالوں میں بستر اور قبرستانوں میں دفنانے کیلئے جگہ نہ بھی ختم ہوگئی۔ تفصیلات کے مطابق کروناوائرس کی وبا نے ترقی یافتہ ممالک کو بھی مجبور بنادیا ہے، اٹلی میں کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے حکومت کے ناقص انتظامات اور لوگوں کی غیر سنجیدگی اور لا پرواہی سے صورتحال انتہائی خوفناک ہوگئی۔ ملک بھر میں لاشوں کے انبار لگ گئے جبکہ اسپتالوں میں بستر اور قبرستانوں میں دفنانے کیلئے جگہ بھی نہیں بچی، ایک ہی دن میں 627 افراد جان سے گئے، جس کے بعد ہلاکتیں 74021ہوگئی ہیں۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لوگوں نے احتیاط کی اور نہ ہی بات سنی، مریضوں کیلئے بستر نہیں ہیں روز کئی سو لوگ مر رہے ہیں۔ اٹلی کے علاقے لمبارڈی میں صورتحال قابو سے باہر ہے، لمبارڈی کے اسپتال میں مرنے والوں کی تعداد زیادہ ہے، آرمی ٹرک میں لاشوں کو بھر کر قبرستانوں میں پہنچایا جارہا ہے۔ اطالوی نرسیں کرونا کے باعث مرنے والوں کی لاشیں گن گن کر بے حال ہوگئی ہے، نرسوں کا کہنا ہے کہ ہم اب مزید لاشیں نہیں گن سکتے۔اس طرح اٹلی شرح اموات میں پہلے نمبر پر ہے۔

ہمیں ٹوئیٹر پر فالو کریں

وائرس کی تباہی اور عوام کی لاپرواہی:

اس وائرس کا شکار ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد افراد اب تک صحتیاب بھی ہو چکے ہیں۔ دنیا بھر کے 173 ممالک میں کورونا کے مریض موجود ہیں۔وادیٔ کشمیر میں بھی اس وائرس سے ایک ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔لیکن عوام کی تو بات ہی کیا خواص بھی ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں ہیں۔وادی ٔ کشمیر میں اب بھی لوگ نکڑوں پر بیٹھ کر آپس میں باتیں کر رہے ہیں نیز وہ تمام احتیاطی تدابیر(جس کی تفصیل اس مختصر سے مضمون میںممکن نہیں) جن کا موجودہ حالات میں اختیار کرنے کا سائنسدانوں اور مخیرین انسانیت نے مشورہ دیا ہے ، انھیں بالائے طاق رکھا جا رہا ہے ۔نتیجتاً اس وائرس کی تباہی میں روز افزو ں اضافہ ہو رہا ہے۔حکومت کیا کیا قانون لاگو کرے اور کس کس طرح اس وبا پر قابو پائے۔حکومت کی بے بسی بھی دیدنی ہے۔علماء نے مسجد میں با جماعت نماز ادا کرنے نہ کی حمایت تو کر دی ہے مگر نکڑوں پر بیٹھ کر جو لوگ حالات حاضرہ پر تبصرہ کر رہے ہیں ان کا کیا علا ج ہے۔بالآخر جیت شیطان کی ہی ہوئی۔فرائض میں کوتاہی کا ایک عالم مرتکب ہو ا مگر وائرس سے بچنے کا کوئی انتظام نہ ہو سکا ۔شماریات کے مطابق ہر لمحہ اس وائرس سے متاثرین کی تعداد نیز مہلوکین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔انسانیت پروردگار کی قوت کے سامنے بے بس ہے۔ُسپر پاور ،صفر پاور بن گیا ہے۔ہندوستان کے ٹوُٹے ہاسپٹلوں کی تو بات ہی کیا ، امریکی سائنسدانوں کی سمجھ میںنہیں آرہا ہے کہ ان حالات میں کیا کیا جائے۔خدائی کا راپ الاپنے والے سر بگریباں ہیں۔
ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے ۔۔۔

خلاصہ :

اس وقت پوری انسانیت اپنے اعمال کے احتساب کرنے پر مجبور ہو گئی ہے۔’’ان فی ذلک لعبرۃ لاولی البصار‘‘۔ضرورت اس بات کی ہے اپنے گھروں میں بیٹھا جائے۔ توبہ و استغفار کی کثرت کی جائے۔صدقات کا اہتمام کیا جائے۔کینہ پروری ،جھوٹ ، سود خوری، گھمنڈ، عجب، غیبت، آنکھوں کے زنا ، موبائیل پر ضیاع وقت، ظلم و جور سے توبہ کی جائے ۔بلا وجہ لوگوں سے ملاقاتوں سے پرہیزکیا جائے۔بوقت ضرورت شدیدہ ماسک پہن کر ہی نکلیں۔اس سلسلے میں حکیم اجمل خان کی بتائی ہوئی ھدایات تیر بہدف کا کام کر سکتی ہیں۔جو قارئین کی نذر کی جاتی ہیں:(حوالہ:( حاذق، مصنف : حکیم اجمل خاں صاحب ادارہ کتاب الشفاء، دریا گنج، دہلی، سن 2002ء صفحہ نمبر 78 تا 81 )
حکیم صاحب رقم طراز ہیں:

بطور حفظ ما تقدم، اس وبا کے زمانے میں چائے کا استعمال ضرور رکھنا چاہیے۔

غذا میں احتیاط رکھنا، بھوک سے کم کھانا، قبض نہ ہونے دینا، اور کھلی تازہ ہوا میں رہنا، لباس صاف رکھنا، اس مرض کے حملے سے بچاتا ہے۔
حالت مرض میں مریض کو ایک علاحدہ کمرے میں آرام سے لٹائیں۔
پھر اس کے بعد علاج کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں، کہ شروع میں معدہ اور آنتوں کی صفائی کے لئے قرص ملین چار عدد نیم گرم پانی ساتھ دیں، تاکہ دو تین دست (موشنز) آکر معدہ کی صفائی ہو جائے۔
اخیر میں پرہیز بیان کرتے ہوئے کہا: کہ جن چیزوں سے زکام اور نزلہ میں پرہیز کرنا واجب ہے، وہی ملحوظ خاطر رکھیں۔
غذا کا تذکرہ کرتے ہوئے، اس بحث کو ختم کیا، لکھتے ہیں کہ:
غذا لطیف اور سریع الہضم، مثلاً شوربہ، یخنی آش، جو میں شربت بنفشہ ملاکر یا مونگ کی دال چپاتی کے ساتھ دیں۔ پانی کی جگہ مکوہ عرق گاؤ زبان، نیم گرم پلائیں۔

کرونا وائرس سائنس حکومت کرونا وائرس سائنس حکومت کرونا وائرس سائنس حکومت کرونا وائرس سائنس حکومت

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں