mir shakeel mariyam aurangzab

میر شکیل الرحمان کا 7 اپریل تک جسمانی ریمانڈ

Spread the love

لاہور (کورٹ رپورٹر)لاہور کی احتساب عدالت کے ڈیوٹی جج جواد الحسن نے جنگ اور جیو کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کو سات اپریل تک جسمانی ریمانڈ پر نیب لاہور کے حوالہ کر دیا۔ نیب لاہور نے 34سال پرانے پراپرٹی کیس میں میرشکیل الرحمان کو 12مارچ کو گرفتار کیا تھا۔ بدھ کے روز جسمانی ریمانڈ ختم ہونے پر نیب حکام نے میرشکیل الرحمان کو لاہور کی احتساب عدالت کے ڈیوٹی جج جواد الحسن کی عدالت میں پیش کیا۔

ایڈیٹر انچیف جنگ گروپ میرشکیل الرحمان کو نیب نے حراست میں لے لیا

میرشکیل الرحمن نے رضاکارانہ طور پر خود کو نیب میں پیش کیا،انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا جائےوکیل امجد پرویز

ٹوئیٹر پر فالو کریں

دوران سماعت میر شکیل الرحمان کی جانب سے خواجہ امجد پرویز بطور وکیل پیش ہوئے۔کیس کی سماعت کئی گھنٹے جاری رہی اور دو دفعہ دوران سماعت وقفہ بھی کیا گیا اور اس کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا ۔ دوران سماعت امجد پرویز کا کہنا تھا کہ ان کے مئوکل تمام ریکارڈنیب کو فراہم کر چکے ہیں ، جب بھی نیب نے انہیں طلب کیا وہ پیش ہوئے۔امجد پرویز کا کہنا تھا کہ میر شکیل الرحمان کے خلاف 28فروری سے پانچ مارچ تک کوئی انکوئری منظور نہیں کی گئی تھی جبکہ میر شکیل الرحمان کو جب نوٹس ملا تو انہوں نے رضاکارانہ طور پر خود کو نیب میں پیش کیا اور وہ نہ صرف ایک بار پیش ہوئے بلکہ دوسری بار بھی پیش ہوئے اور انہیں جو سوالنامہ دیا گیا تھا اس کا جواب دینے کے لئے بھی وہ تیار تھے۔

اراضی کے واحد مالک میرشکیل الرحمان ہیں،نیب پراسیکیوٹر

امجد پرویز کا کہنا تھا کہ چیئرمین نیب نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور ان کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ رضاکارانہ طور خود انکوائری کے لئے پیش ہوئے تھے، وہ تعاون کر رہے تھے اور تمام جواب دے رہے تھے اس کے باوجود ان کی بات نہیں سنی گئی اور انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ نیب پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اراضی کے واحد مالک میرشکیل الرحمان ہیں تاہم امجد پرویز نے دستاویزات عدالت کو فراہم کیں اور بتایا کہ اراضی کے سات مالکان ہیں اور اس حوالہ سے تمام قوانین کو پورا کیا گیا اور جب بھی اس سے قبل کوئی انکوائری ہوئی، تفتیش ہوئی یا تحقیق ہوئی تو اس میں تمام ٹھوس کاغذات اور جوابات دیئے گئے اس حوالہ سے نیب پراسیکیوٹر کا مئوقف درست نہیں ہے۔

راضی کے سات مالکان ہیں اور اس حوالہ سے تمام قوانین کو پورا کیا گیا،وکیل امجد پرویز

نیب پراسیکیوٹر نے میر شکیل الرحمان سے مزید تفتیش کے لئے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ دینے کی استدعا کی جبکہ امجد پرویز نے عدالت سے استدعا کی میر شکیل الرحمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوادیا جائے ہم انہیں آزاد کرنے یا ضمانت دینے کا نہیں کہہ رہے۔ امجد پرویز کا کہنا تھا کہ نیب کا عمل بالکل ناجائز ہے اور میر شکیل الرحمان کو ناجائز حراست میں رکھا گیا ہے۔ تاہم عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے میر شکیل الرحمان کو سات اپریل تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالہ کر دیا ہے۔ میر شکیل الرحمان کی عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے۔

نیب میر شکیل الرحمن نیب میر شکیل الرحمن نیب میر شکیل الرحمن

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں