880ارب روپے کا ریلیف پیکیج،ڈیزل ، پٹرول سستا،شرح سود میں1.50فیصد کمی

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیراعظم عمران خان نے مختلف شعبہ جات کے لیے تقریباً 880 ارب روپے کے ریلیف پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 15 روپے کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ سینئر صحافیوں کے ساتھ ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں افراتفری پھیلائی جا رہی ہے، سب سے زیادہ خطرہ ہمیں کرونا وائرس سے نہیں بلکہ خوف میں آ کر غلط فیصلے کرنے سے زیادہ خطرہ ہے۔ مختلف شعبہ جات کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ملکی حالات سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کرنے ہیں، میں ایک چیز کلیئر کرنا چاہتا ہوں نیشنل سیکورٹی کونسل کی میٹنگ کے دوران ہی ملک لاک ڈاؤن ہونا شروع ہو گیا تھا۔ سکولز بند ہو گئے تھے، ٹرانسپورٹ بند تھی۔عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کی آخری قسم کرفیو ہیں، کرفیو لگانے سے معاشرے پر بہت برا اثر پڑے گا، وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کیلئے تمام ضروری اقدامات کررہے ہیں تاہم فی الحال کرفیو نہیں لگاسکتے ہم نے 70 سالہ تاریخ میں سیکھا نہیں، جیلیں کمزور لوگوں سے بھری پڑی ہیں،

ان کا کہنا تھا کہ عدالتی نظام میں طاقتور اور کمزور کے لیے الگ الگ نظام ہے۔ ہسپتالوں میں ایک وقت بہت اچھے تھے، لیکن آہستہ آہستہ پرائیویٹ ہسپتال بن گئے اور امرا بیرون ملک چلے گئے۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اگر میں ڈیفنس میں رہتا ہوں تو میں نے بہت سامان جمع کر کے رکھ ہوا ہے تو مجھے کوئی مسئلہ نہیں لیکن اگر غریب کے بارے میں سوچیں کہ وہاں کیا ہو گا، جو دیہاڑی دار ہے وہ کیا کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ میری سب سے پہلی ترجیح کے غریبوں تک کھانا پہنچاؤں، کیونکہ دیہاڑی دار ملازم کیا کرے گا، روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لے رہے ہیں، کل پتہ چلا کہ کراچی پورٹ بندہوا اور دالیں کم ہو گئی ہیں۔عمران خان کا کہنا تھا کہ لیبر کے لیے ہم دو سو ارب روپے رکھ رہے ہیں، بیروزگار ہونے والوں کیلئے پلان بنا رہے ہیں، اس کے لیے صوبوں سے بات کر رہے ہیں کہ اگر فیکٹریاں بند ہو گئیں تو کیا کرنا پڑے گا۔ انڈسٹری کے لیے سو ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈ دیں گے، میڈیم انڈسٹری اور زرعی شعبہ کے لیے 100 ارب روپے رکھا ہے۔

میڈیا نمائندگان سے گفتگو کے دورران وزیراعظم کا کہنا تھا کہ تین ہزار روپے غریبوں کو دیں گے، اس کے لیے چار ماہ کے دوران ڈیڑھ سو ارب روپے رکھ رہے ہیں، پناہ گاہوں کو بڑھائیں گے، کیونکہ موجودہ پناہ گاہوں پر بہت زیادہ رش ہے۔کرونا وائرس کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کے لیے 50 ارب روپے رکھے گئے ہیں، تاکہ وہاں پر کسی چیز کی قلت نہ ہو، پٹرول کی قیمتوں میں 15 روپے کمی کا فیصلہ کیا ہے۔بلوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ان کی قسطیں کی جا رہی ہیں، یہ قسطیں تین ماہ کے لیے ہوں گی، ہسپتالوں کے لیے پچاس ارب روپے رکھا گیا ہے،کھانے پینے کی چیزیں، گھی پر ٹیکسز ختم کر دیئے گئے ہیں یا کم کر دیئے گئے ہیں تاکہ قیمتیں مزید کم ہو سکیں۔عمران خان نے کہا کہ یہ ٹی ٹوئنٹی کا میچ نہیں، ہوسکتا ہو سکتا ہے یہ صورتحال 6 مہینے چلے، ہمیں افراتفری کے بجائے دانشمندانہ فیصلے کرنا ہوں گے ، ٹرانسپورٹ بندکرنے سے سب سے بڑاامسئلہ سپلائزکا آتا ہے،

لوگوں کوپکڑکر جیلوں میں ڈالاگیاتووہاں بھی کوروناپھیل سکتاہے۔وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعدصوبے خودفیصلہ کرتے ہیں ہم صرف تجویزکرسکتے ہیں، وقت نے چین میں پاکستانی طلبہ سے متعلق ہمارافیصلہ درست ثابت کیا۔وزیراعظم نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کیاثرات سے نمٹنے کیلئے 100ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، 300یونٹ تک گیس اوربجلی کے بل 3ماہ تک قسطوں میں لیے جائیں گے، ہرخاندان کو4ماہ تک ماہانہ 3ہزارروپے دییجائیں گے۔ گندم کی سرکاری خریداری کیلئے 280ارب ، انتہائی غریب طبقے کیلئے 150ارب روپے مختص کردیے، 100 ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈسے صنعتیں لیبرپرخرچ کرسکیں گی، برآمدی صنعت کو100ارب روپے کے ٹیکس ریفنڈ فوری دینے کافیصلہ کیاہے وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ چین کے ساتھ بہت ہی اچھے تعلقات ہیں جو آزمائش کی ہر گھڑی پر پورے اترے ہیں۔ سی پیک منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد ملکی مفاد میں ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت توانائی منصوبوں کے جائزہ سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب خان، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر، چیئرمین پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ، وزارت توانائی، پٹرولیم اور منصوبہ بندی ڈویڑن کے سیکرٹریز، چیئرپرسن ایف بی آر، چیف سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر اور سینئر افسران اور چیف سیکرٹری پنجاب نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔اس موقع پر چیئرمین سی پیک اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے اجلاس کو سی پیک منصوبوں پر پیشرفت سے آگاہ کیا۔ بریفنگ کے دوران چیئرمین سی پیک اتھارٹی نے بتایا کہ سی پیک میں توانائی کے کل 22 منصوبے شامل ہیں جن میں سے 9 منصوبوں پر پہلے ہی کام شروع ہو چکا ہے۔اجلاس میں کوہالہ پن بجلی منصوبہ، آزاد پتن پن بجلی منصوبہ، گوادر پاور پراجیکٹ، تھر میں توانائی منصوبے اور کروٹ ہائیڈرو پاور منصوبہ سمیت توانائی شعبہ کے منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ چین، پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبہ پاکستان کی ترقی کیلئے اہم ہے اور ان منصوبوں سے روزگار، مواصلات اور معاشی ترقی کے وسیع مواقع میسر آئیں گے۔

وزیر اعظم عمران خان کا پریس کانفرنس کے دوران میڈیا کے حوالے سے بات کرنے سے انکار دیا جب ایک صحافی نے ان میڈیا کی آزادی کی بات کی اور میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کا ذکر کیا تو وزیراعظم عمران خان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح کی میڈیا کو پاکستان میں آزادی ہے میں چیلنج کرتا ہوں مجھے دکھا دیں کہ ایسی آزادی کسی مغربی ملک میں ہے؟ مجھ سے اس وقت میڈیا کی بات نہ کریں۔لیکن ایک اور صحافی نے میڈیا کی آزادی کے حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی تو وزیراعظم نے سختی سے جواب دیا کہ اگر آپ نے کرونا کو چھوڑ کر کوئی اور ایجنڈا لینا ہے تو ہم ٹاک ختم کر دیتے ہیں میں کسی اور ایجنڈہ پر بات نہیں کرنا چاہتا ہوں، کرونا پر بات کریں اور اسی پر بات ہو گی، کونسے ملک میں تنقید نہیں ہو رہی سب کر رہے ہیں۔

ریلیف پیکیج

ریلیف پیکیج

ریلیف پیکیج

ریلیف پیکیج

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں