موت کا وقت مقرر

کیا موت کا وقت مقرر ہے؟ قرآن کیا کہتا ہے

Spread the love

سید مہتاب حسین شاہ، پی ایچ ڈی سکالر

عام طور پر یہی کہا جاتا ہے کہ موت کا وقت مقرر ہے ۔لیکن اس کے باوجود ہم بیمار ہوتے ہیں تو علاج کرتے ہیں ،سڑک عبور کرتے ہوئے دونوں اطراف دیکھتے ہیں کہ کوءی گاڑی نہ کچل ڈالے۔جب موت کا دن مقرر و معین ہے تو یہ احتیاط کیسی ؟ تو اس کے جواب میں جو کچھ کہا جاتا ہےوہ اطمینان بخش نہین ہوتا۔


عربی زبان میں کسی بھی چیز کی مدت کی انتہاء کو “اجل” کہا جاتا ہے۔ جب انسان کے بارے میں “اجل”استعمال کرتے ہیں تو اس سے اس کی زندگی کا خاتمہ اور موت مراد لیا جاتا ہےقرآن  کی سورہ انعام میں انسان سے متعلق دو قسم کی اجل کا تذکرہ آیا ہے: ایک “مُسَمّیٰ” کی قید کے ساتھ اور دوسرا اس قید کے بغیر جیسا کہ فرمایا:

هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِيْنٍ ثُمَّ قَضٰٓى اَجَلًا ۭ وَاَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَه  ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ

وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے بنایا ہے ‘ پھر ایک وقت معین کردیا ہے اور ایک اور معین وقت اس کے پاس موجود ہے ‘ پھر بھی تم شک کرتے ہو ۔

اس آیت کی رو سے انسان کی دو اجل ہیں ۔دو کیسے ہیں ؟ اور کون کون سی ہیں ؟ اس بارے میں مفسرین نے متعدد مفہوم نکالے ہیں ،امام رازی نے چھے اقوال اس کی تفسیر میں لکھے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے انسان کی دو اجل ہیں ایک طبعی اور دوسری غیر طبعی ،جہاں تک طبعی کا تعلق ہے تو اگر انسان بیرونی عوامل سے محفوظ رہتا ہے تو وہ اپنی مدت پوری کرتا ہے۔جبکہ غیر طبعی بیرونی حالات  کی وجہ سے ہوتی ہے جیسے ڈوبنا ،جلنا ، موذی حشرات کا کاٹنا اور دیگر پریشان کن امور۔

یعنی  ایک اجل مقضی جو غیر حتمی یا غیر معین ہے۔دوسری اجل مسمی ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی جسمانی حالات کے مطابق ٹھہرا دی ہے یہ حتمی یا طبعی ہے۔یعنی انسان طبعی یا جسمانی لحاظ سے 100 سال یا اس سے زیادہ زندگی پا سکتا ہے۔لیکن بعض بیرونی عوامل جیسے حفظان صحت کے اصولوں کا خیال نہ رکھنا ، خودکشی قتل یا حادثہ وغیرہ اس کی زندگی کو اجل مسمی یعنی ایکسپائری ڈیٹ سے پہلے ختم کر سکتے ہیں۔

ہر انسان اجل مسمی یعنی ایکسپائری ڈیٹ تک جینا چاہتا ہے  تواس کا طریقہ سورہ نوح میں  پروردگار نے بیان فرما کہ :

 أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى 

اور سورہ ھود میں فرمایا :

وَاَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ یُمَتِّعۡکُمۡ مَّتٰعًا حَسَنًا اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی

یعنی : 1۔اللہ کی عبادت 2۔خوف خدا  3۔اطاعت رسول ﷺ 4۔ توبہ واستغفار

اسی طرح احادیث و اثار میں صلہ رحمی اور نیکیوں کو عمر میں اضافے یعنی اجل مسمی تک پہنچنے کی بشارت موجود ہے۔

اور خود ہمارا پروردگار یہی چاہتا ہے کہ ہم جوان ہوں پھر اپنے بوڑھے ہوں پھر  اپنی اجل مسمی تک پہنچیں جیسا کہ فرمایا :

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ تُرَابٍ ثُمَّ مِنۡ نُّطۡفَۃٍ ثُمَّ مِنۡ عَلَقَۃٍ ثُمَّ یُخۡرِجُکُمۡ طِفۡلًا ثُمَّ لِتَبۡلُغُوۡۤا اَشُدَّکُمۡ ثُمَّ لِتَکُوۡنُوۡا شُیُوۡخًا وَمِنۡکُمۡ مَّنۡ یُّتَوَفّٰی مِنۡ قَبۡلُ وَلِتَبۡلُغُوۡۤا اَجَلًا مُّسَمًّی

”وہ وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا پھر تمہیں بچہ کی صورت میں نکالتا ہے ، پھر ( تمہیں بڑھاتا ہے کہ ) تم اپنی پوری قوت کو پہنچ جاؤ پھر بوڑھے ہو جاؤ تم میں سے بعض اس سے پہلے ہی فوت ہو جاتے ہیں ( وہ تمہیں چھوڑ دیتا ہے ) تاکہ تم (اجل مسمی)مدت معین تک پہنچ جاؤ ”

ٹوئیٹر پر ہمیں فالو کرنے کے لیے یہاں کلک کریں

یہ نقطہ نظر   مکتب اہل بیت کی کتب میں کہیں کہیں نظر آتا ہے۔ علامہ طباطبائی صاحب تفسیر المیزان  کے مطابق اجل مُسَمّیٰ انسان کی حتمی اور تغییر ناپذیر موت کو کہا جاتا ہے جس کے بارے میں خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اس کے مقابلے میں اجل مُعَلَّق ہے جس سے مراد انسان کی طبیعی موت ہے جس میں کچھ عوامل کی بنا پر کمی بیشی کا امکان پایا جاتا ہے۔علامہ اس سلسلے میں مزید لکھتے ہیں کہ اجل معلّق انسان کی اس موت کو کہا جاتا ہے جو اس کی جسمانی حالات کی بیناد پر اس پر طاری ہوتی ہے۔ مثلا ایک انسان طبیعی اور اس کے جسمانی حالات کی بنیاد پر سو سال زندہ رہ سکتا ہے تو مذکورہ مدت میں اس کی زندگی کا خاتمہ اجل معلق کہلائے گا لیکن بعض بیرونی عوامل کی وجہ سے اس میں کمی بیشی ہونے کا امکان موجود ہوتا ہے یوں ممکن ہے یہی شخص جو سو سال زندہ رہنا تھا بعض عوامل کی وجہ سے 80 سال کی عمر میں وفات کر جائے یا ممکن ہے بعض عوامل کی بنا پر 120 سال تک زندہ رہے جسے اجل مسمی کا نام دیا جاتا ہے۔

سندھ مکمل ، خیبر پختونخوا کی جزوی بندش کا فیصلہ

محسن نجفی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں : ائمہ اہل بیت علیہم السلام کی رہنمائی کے مطابق انسانی زندگی کو دو قسم کے عوامل کا سامنا ہے: طبیعی اور غیر طبیعی۔ انسان بھی ایک مشینری ہے، جو طبیعی حالات میں ایک معین مدت تک کے لیے بنایا گیا ہے۔ اس کا انحصار مشینری بنانے والے پر ہے لیکن کسی حادثے کی صورت میں اس مشینری کی زندگی مختصر بھی ہو سکتی ہے۔ اس کا دار و مدار حالات پر ہے۔ بالکل اسی طرح انسان کو اللہ نے طبیعی اعتبار سے، مثلاً ایک سو چالیس (۱۴۰) سال زندہ رہنے کے لیے بنایا ہے، اس کے بعد اسے حتمی طور پر مرنا ہے، جسے اجل مسمیٰ کہا گیا اور اجل محتوم بھی اور اسے طبیعی موت بھی کہتے ہیں لیکن کسی غیر طبیعی علل و اسباب کی وجہ سے انسان کی عمر مختصر بھی ہو جاتی ہے۔ یہ مدت غیر معین ہے چونکہ اس کا دار و مدار حالا ت پر ہے۔ اس کی موت کو غیر حتمی اور اجل غیر مسمیٰ کہیں گے۔ یہ دونوں مدتیں اللہ ہی کی طرف سے ہیں۔ صرف یہ کہ حتمی اجل فیصلہ کن اور ناقابل تغیر ہے، جب کہ غیر حتمی، قابل تغیر ہے۔

قابل توجہ بات یہ ہے کہ دونوں مدتوں کا تعین علم خدا میں ہے لیکن علم خدا کے باوجود طبیعی تقاضے اپنی جگہ قابل تغیر ہیں۔ انسان کی عمر ایک حتمی ہے اور ایک غیر حتمی۔ غیر حتمی عمر کا بھی اللہ کو علم ہے کہ یہ انسان اپنے اختیار اور پوری خود مختاری سے کون سی مضر صحت چیزوں کا استعمال کرے گا، جس سے اس کی موت جلدی واقع ہو جائے گی، جب کہ اللہ نے اس کے لیے جو طبیعی موت مقرر کی تھی، اس کی مدت اس سے زیادہ تھی۔ شیخ طوسی امام صادقؑ سے نقل کرتے ہیں: “جو لوگ اپنی گناہوں کی وجہ سے مرتے ہیں ان کی تعداد ان لوگوں سے بہت زیادہ ہیں جو اپنی طبیعی موت مرتے ہیں اسی طرح جن لوگوں کی عمر میں نیک کاموں کی وجہ سے اضافہ ہوتا ہے ان کی تعداد ان لوگوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہیں جن کی عمریں طبیعی طور پر طولانی ہوتی ہیں”۔

ایک اعداد و شمار کے مطابق جیسے جیسے 20 ویں صدی میں ترقی ہوئی، جنگ کے سالوں کے علاوہ، عالمی سطح پر صحت کی دیکھ بھال اور بچپن سے حفاظتی ٹیکوں کے تعارف سے مزید فوائد حاصل ہوئے۔ سنہ 1970 کی دہائی سے خاص طور پر سٹروک اور دل کے دورے کے مریضوں کی دیکھ بھال کے سلسلے میں بڑے پیمانے میں پیش رفت ہوتی رہی۔ یہاں تک کہ 21 ویں صدی کے آغاز تک، خواتین کے لیے متوقع عمر 80 جبکہ مردوں کے لیے 75 برس ہو گئی۔ امریکی سائنس دانوں نے کہا ہے کہ انسانی زندگی کو طویل کرنے کی زیادہ سے زیادہ حد 115 برس تک ہے۔ سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یہ نتائج انسانی طول عمری کے کئی عشروں پر محیط جائزے کے بعد اخذ کیے گئے۔

اس وقت  دنیا کرونا  وائرس کی زد میں ہے ہم  احتیاط اور  ڈاکٹروں کی ہدایات پر عمل کر کے اس سے نجات پا سکتے ہیں ۔ احتیاط بہت ضروری ہے   ،یہی اللہ کا حکم ہے لیکن اس سے خوفزدہ ہونا اور خوف وہراس پھیلانا بھی دانشمندی نہیں ہے۔

موت ہماری کوتاہی سے  آئے یعنی اجل مقضی ہو یا طبعی یعنی اجل مسمی  سے آئے،دونوں حالتوں میں اللہ کے قانون و ضابطے سے آتی ہے اس لئے اللہ ہی کی طرف منسوب کی جاتی ہے اور ان ضابطوں کے تحت کوئی اپنی موت سے بچ نہیں سکتا۔اور جب آتی ہے تو ایک لمحے کی تاخیر نہیں ہوتی

 فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّلَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ

جب اللہ نے ہمیں دو آپشن دئیے ہیں کہ اجل مقضی سے جلد اپنی زندگی ختم کی جاسکتی ہے اور اجل مسمی یعنی طبعی عمر تک جیا جا سکتا ہے تو کیوں نہ ہم اپنی زندگیوں کو خوشگوار اور صحت مند بنائیں اور احتیاط اپنائیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ

 وَلاَ تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّہْلُکَۃِ:  اپنے آپ کو ہلاکت مین نہ ڈالو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں