671 کورونا ٹیسٹ منفی 93

گلگت میں کورونا کا ایک اور مریض سامنے آ گیا

Spread the love

پشاور ، لاہور ، کراچی ، کوئٹہ (جنرل رپورٹر)گلگت میں کورونا کا ایک اور مریض سامنے آ گیا, گلگت بلتستان میں کورونا وائرس کا ایک اور مریض سامنے آ گیا ہے جس کے بعد ملک میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔ترجمان حکومت گلگت بلتستان نے کورونا وائرس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ شگر کے رہائشی مظہر علی میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔صوبائی حکومت کے ترجمان کے مطابق گلگت بلتستان میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 3 ہو گئی ہے۔ترجمان کا بتانا ہے کہ مریض چند دن قبل ایران سے آیا تھا اور اسکردو اسپتال میں زیر علاج ہے۔

دوسری جانب وزیراعلی خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت کورونا وائرس سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں وائرس کے تدارک کے لیے وزیراعلیٰ کی سربراہی میں ٹاسک فورس تشکیل دی گئی۔حکام کا بتانا ہے کہ کورونا وائرس کے سلسلے میں کل صبح کابینہ کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا ہے، اجلاس میں اسکولوں کی بندش، سیاسی اور سماجی رابطوں پر جزوی پابندی کے معاملے پر بھی غور ہو گا۔اس کے علاوہ اجلاس میں طورخم بارڈر کی بندش کا معاملہ وفاق کے ساتھ اٹھانے کا بھی فیصلہ ہوا۔ کرونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر صوبہ پنجاب میں میڈیکل ایمرجنسی نافذ کرتے ہوئے وائرس سے نمٹنے کیلئے ایک ارب روپے فنڈز کی منظوری دیدی گئی ہے۔یہ فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان کے زیر صدارت ہونے والے کابینہ اجلاس میں کیا گیا۔ پنجاب کابینہ کی جانب سے منظور فنڈز کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے اقدامات میں استعمال ہوں گے۔ پہلے 26 کروڑ روپے اس مد میں مختص کیے گئے تھے۔

ادھر مختلف تکنیکی کمیٹیوں سے کرونا وائرس کیخلاف اقدامات کیلئے سفارشات بھی مانگ لی گئی ہیں۔اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ہم نے اس وائرس سے متعلق چین کے بہترین اقدامات پر غور کیا ہے۔ پنجاب حکومت کرونا وائرس سے بچاؤ کے اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ 5 ایئرپورٹس پر ویجیلنس بڑھا دی گئی ہے۔ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے مختلف ہسپتالوں میں آئسولیشن سینٹرز قائم ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے مصافحہ سے گریز، بار بار ہاتھ دھوئیں اور غیرضروری آمدورفت سے گریز کیا جائے۔وزیر صحت پنجاب کا کہنا تھا کہ مشکوک مسافر کو فوری قرنطینہ بھیجا جائے گا۔ پنجاب کے 3 ہسپتالوں میں تیاری کر لی گئی ہے۔ دوسری طرف سول ایوی ایشن نے ملک میں کورونا وائرس کی روک تھام کے سلسلے میں مزید اقدامات کیے ہیں جن کے تحت بین الاقوامی پروازوں کے مسافر ہیلتھ ڈیکلیریشن فارم پْر کیے بغیر ائیرپورٹ سے باہر نہیں آسکتے۔سول ایوی ایشن حکام کے مطابق ملک کے تمام بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کا عمل سختی سے جاری ہے، کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں پر اسکریننگ کے بارے میں شکایت کا نوٹس لیا ہے اور سیکریٹری ایوی ایشن نے مسافروں کی اسکریننگ اور فارم پر کروانے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ ہوائی جہاز کی لینڈنگ وزارت صحت کے فارم پر ہونے سے قبل ممکن نہیں ہو گی، کنٹرول ٹاور پائلٹ کو لینڈنگ اور پیسنجر برج پر آنے سے پہلے تمام فارم پر کروائے گا جب کہ مسافروں سے فارم پْر ہونے اور واپس لے لینے کی پابندی بھی کروائی جائے گی۔

سول ایوی ایشن حکام نے مزید بتایا کہ جناح ٹرمینل پربیرون ملک سیآئے مسافروں کو تھرمل اسکینر اور تھرمل گن سیچیک کیاجارہا ہے، وزارت صحت کا عملہ مسافروں میں نزلہ اور زکام کے اثرات بھی چیک کررہا ہے،کورونا کے اثرات نظر آنے پر مسافر کو روک کر قرنطینہ میں رکھا جاتا ہے۔ وزارت صحت کی جانب سے کرونا وائرس کے حوالے سے ہدایت نامہ جاری کر دیاگیا، ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ ماسک کا استعمال صرف کرونا وائرس کا متاثرہ مریض کرے ۔ کرونا وائرس سے متاثرہ مریض کا علاج کرنے والے ڈاکٹر ماسک پہن سکتے ہیں ۔ترجمان کی جانب سے مزید بتایاگیا ہے کہ کرونا وائرس کے مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے رشتے دار بھی ماسک پہن سکتے ہیں ۔ وزارت صحت کی ایڈوائزی میں ماسک پہننے اور اتارنے کا طریقہ کار بھی بتایاگیا ہے

۔بلوچستان حکومت نے ایران سے آنے والے سندھ کے شہریوں کو صوبے میں قرنطینہ میں رکھنے سے انکار کردیا۔بلوچستان حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سندھ کے رہائشیوں کو سکھر تک پہنچایا جائے گا۔ادھر سندھ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر ورکرز ویلفیئر بورڈ کی لیبر کالونی کو قرنطینہ بنانے کے اقدامات شروع کردیے ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ سندھ ہائی کورٹ سکھر بینچ نے شہر کو قرنطینہ بنانے سے متعلق حکم امتناع جاری کردیا ہے جس کے بعد سکھر میں قرنطینہ بنانے کا کام رک گیا ہے۔ذرائع سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ حکم امتناع ختم کروانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بلوچستان حکومت نے صوبے کے تمام سرکاری اور نجی تعلیمی ادارے 31مارچ تک بند رکھنے کا اعلان کردیا۔کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلا کو روکنے کے لیے بلوچستان بھر کے تعلیمی ادارے 15مارچ تک بند ہیں تاہم اب اس میں مزید 16دن کا اضافہ کردیا ہے، جس کے بعد اب صوبے کے تمام تعلیمی ادارے 31مارچ تک بند رہیں گے۔

گلگت میں کورونا کا ایک اور مریض سامنے آ گیا

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...