طالبان رہائی سہیل شاہین 119

چند طالبان کی رہائی قبول نہیں: سہیل شاہین

Spread the love

طالبان قیدیوں کو رہا نہ کرنا امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے، ترجمان سہیل شاہین

دوحہ(طالبان رہائی سہیل شاہین)(انٹرنیشنل ڈیسک)افغان طالبان کے دوحہ دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے کہا ہے کہ پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا نہ کر کے افغانستان میں مستقل قیام امن کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ طالبان قیدیوں کو رہا نہ کرنا امن معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ صرف ایک ہزار یا 1500 طالبان قیدیوں کی رہائی قابل قبول نہیں۔

امریکہ افغان طالبان امن معاہدہ،اسلامتی کونسل نے توثیق کر دی

ا مریکہ سے امن معاہدہ سے قبل ہم نے ایک ہفتہ کے لئے تشدد میں کمی کے وعدہ پر عمل کیا تاہم ہم حملے کر سکتے ہیں

ہمیں ٹوئیٹر پر فالو کریں

ا مریکہ سے امن معاہدہ سے قبل ہم نے ایک ہفتہ کے لئے تشدد میں کمی کا وعدہ کیا تھا اس پر عمل ہو چکا ہے تاہم ا من معاہدے کے بعد گنجائش موجود ہے کہ ہم حملے کر سکتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں ہونے والے انتخابات صحیح نہیں ہیں تاہم ہمارے مذاکرات تمام افغان گروپوں سے ہوں گے جن میںعبداللہ عبداللہ، کابل انتظامیہ اور دیگر حکام بھی شامل ہیں۔ ہم تمام گروپس کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار سہیل شاہین نےادارے سے انٹرویو میں کیا۔

پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا نہ کر کے افغانستان میں مستقل قیام امن کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ایک سال سے زائد عرصہ مذاکرات کے بعد امریکہ سے امن معاہدہ کیا ہے اور اس معاہدہ کے مطابق طالبان قیدیوں کی رہائی ہونی چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاہدہ میں لکھا گیا ہے کہ بین الافغان مذاکرات سے قبل پانچ ہزار طالبان قیدی رہا ہوجائیں گے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو اس کا مطلب ہے یہ معاہدہ کی خلاف ورزی ہے اور اس سے ہم مطمئن نہیں ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں ہونے والے انتخابات صحیح نہیں ہیں تاہم ہمارے مذاکرات تمام افغان گروپوں سے ہوں گے

ان کا کہناتھا کہ اگر بین الافغان مذاکرات سے قبل پانچ ہزار افغان قیدیوں کی رہائی ہو جائے تو یہ ٹھیک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پانچ ہزار قیدیوں کی جگہ صرف ایک ہزاریا1500طالبان قیدیوں کو رہا کیاجائے اور باقیوں کو رہا نہ کیا جائے تو یہ امن معاہدہ کی صریح خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان ہونے والے امن معاہدہ میں لکھا گیا ہے کہ انٹراافغان ڈائیلاگ سے قبل پانچ ہزار طالبان قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔

بین الافغان مذاکرات میں ہم آئندہ اسلامی حکومت کے بارے میں بھی بات چیت کریں گے

ان کا کہنا تھا کہ ا مریکہ سے امن معاہدہ سے قبل ہم نے ایک ہفتہ کے لئے تشدد میں کمی کا وعدہ کیا تھا اس پر عمل ہو چکا ہے تاہم ا من معاہدے کے بعد گنجائش موجود ہے کہ ہم حملے کر سکتے ہیں۔ امن معاہدہ میں کیا گیا ہے کہ جلد انٹراافغان مذاکرات شروع ہو ں گے اور ہمارے پانچ ہزار قیدی رہا ہوں گے۔ بین الافغان مذاکرات میں ہم آئندہ اسلامی حکومت کے بارے میں بھی بات چیت کریں گے اور ایک جامع سیزفائر کے بارے میں بھی بات چیت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ پانچ ہزار قیدیوں کو رہا نہ کر کے افغان حکو مت انٹراافغان مذاکرات میں رکاوٹیں کھڑی کر رہی ہے۔

طالبان رہائی سہیل شاہین

اپنا تبصرہ بھیجیں