نرسنگ سکالر شپ پروگرام

پاکستان کا پہلا سکالرشپ پروگرام شروع

Spread the love

(نرسنگ سکالر شپ پروگرام)اسلام آباد(مہتاب پیرزادہ سے) وفاقی وزیر تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت شفقت محمود نے کہا ہے موجودہ حکومت نے ملکی تاریخ میں پہلی بار ایسے شعبوں کیلئے سکالرشپ سکیم متعارف کروائی ہیں جنہیں ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا۔ اسلام آباد میں نیشنل اینڈوومنٹ سکالرسپ برائے ٹیلنٹ (نیسٹ)کے زیر اہتمام نرسنگ کے شعبے کیلئے پہلی بار چار سالہ ڈگری پروگرام کے ایک ہزار طلباء و طالبات کیلئے سکالرشپ کی افتتاحی تقریب سے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے شفقت محمود نے کہا کہ آٹھ ماہ پہلے جب یہ پروگرام وزارت تعلیم میں آیا تو ہم نے سوچا کہ اس پرگرام کو کیسے آگے لے جایا جائے۔

ہمیں فالو کریں

ایک ارب 24 کروڑ روپے کی خطیر رقم سے چار سال میں ساڑھے چار ہزار طلباء کو نرسنگ کی تعلیم کیلئے سکالرشپ دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پھر وزارت نے فیصلہ کیا کہ نیسٹ سکالرشپ ایسے شعبوں کی ترقی کیلئے استعمال کی جائے گی، جنہیں ماضی میں نظر انداز کیا جاتا رہا یا انہیں ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی سکالرشپ نہیں مل رہیں۔ اس سلسلے میں نیسٹ کے تحت ایک ماہ پہلے آرٹس اور کلچر کی اعلیٰ تعلیم کیلئے 400 سکالرشپس کا اجرا کیا۔ انہوں نے کہا کہ آج نرنسگ کے شعبے کی ترقی و ترویج اور اعلیٰ انسانی وسائل کیلئے نرسنگ کے شعبے میں ایک ہزار سکالرشپس دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چار سال میں نرسنگ سکالرسپ پروگرام پر ایک ارب چوبیس کروڑ روپے خرچ کئے جائیں گے، جبکہ مجموعی طور پر ساڑھے چار ہزار نرسز کو مفت تعلیم کے حصول کیلئے یہ سکالرشپس فراہم کی جائیں گی۔

مودی سرکار قتل عام رکوائے ،ایران کا بھارت سے مطالبہ

رواں برس 31 کروڑ روپے کی لاگت سے ایک ہزار نرسز کو مفت تعلیم کیلئے سکالرشپس فراہم کی جائیں گی۔

وفاقی وزیر شفقت محمود کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت انڈر گریجویٹ کے لیے سالانہ 50000 سکالرشپ دے رہے،نرسنگ ایک ایسا شعبہ ہے جس میں سکالرشپ کی کمی ہے، اور بہت سارے بچے اس شعبے میں آنا چاہتے لیکن مہنگی تعلیم ہونے اور وسائل کی کمی کی وجہ سے وہ یہ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے۔ شفقت محمود نے کہا کہ پاکستان میں نوجوانوں کی آبادی مجموعی آبادی کا 65 فیصد ہ، ان نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر دینا لازمی ہے، اگر نوجوانوں کو تعلیم و ہنر نہ دیا گیا تو یہی ہم پر بوجھ بن سکتے ہیں۔

اگلے بیس مہینے میں ایک لاکھ ستر ہزار نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ نوجوانوں کی ٹریننگ کا پروگرام شروع کیا ہے اور اگلے بیس مہینے میں ایک لاکھ ستر ہزار نوجوانوں کو ہنر سکھایا جائے گا۔ دنیا کے جدید ٹرینڈز کے مطابق نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کیلئے دس ارب روپے کی خطیر رقم سے ووکیشنل ٹریننگ کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترکی کی حکومت پاکستان میں ہاسپیٹیلیٹی سینٹر تیار کر رہی ہے جہاں سیاحت کے شعبے میں نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جائے گی۔۔نیشنل اینڈوومنٹ سکالرشپ برائے ٹیلنٹ کی پروگرام منیجر حاجرہ سہیل نے تقریب سے خطاب میں بتایا کہ نرسنگ سکالرشپ کے تحت 886 سکالرشپس چار سالہ بیچلرز پروگرام، 119 سکالرشپس ماسٹرز ان نرسنگ، اور 13 سکالر شپس پی ایچ ڈی کیلئے سالانہ دی جائیں گی۔

عالمی معیار کو پورا کرنے کیلئے پاکستان میں نرسنگ سٹاف کی تعداد 8 لاکھ ہونی چائیے۔

جن میں ہر سال دس فیصد اضافی سکالرشپ بھی فراہم کی جائیں گی۔ پاکستان نرسنگ کونسل کی رجسٹرار فوزیہ مشتاق نے اس موقع پر وفاقی حکومت اور نیسٹ کا شکریہ ادا کیا کہ اس شعبے کیلئے بھی مستحق اور قابل طلباء و طالبات کیلئے سکالرشپ پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں ہر سال 5 ہزار نرسز تعلیم مکمل کر کے فیلڈ میں آتی ہیں۔ پاکستان میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق 80 ہزار نرسنگ سٹاف موجود ہے، جبکہ عالمی معیار کو پورا کرنے کیلئے پاکستان میں نرسنگ سٹاف کی تعداد 8 لاکھ ہونی چائیے۔ سکالرشپ پروگرام کے تحت ملک بھر کے 52 اعلیٰ اسپتالوں اور نرسنگ کالجز کا انتخاب کیا گیا ہے جہاں پسماندہ علاقوں کے رہنے والے، مستحق اور غریب طلباء کو سکالرشپ کیلئے منتخب کیا جائے گا۔

نرسنگ سکالر شپ پروگرام

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں