2 ارب کا نقصان

کورونا وائرس ،پی آئی اے کو 2 ارب کا نقصان

Spread the love

2 ارب کا نقصان

لاہور (جنرل رپورٹر)کورونا وائرس کے باعث سعودی عرب کی جانب سے عمرہ زائرین کی آمد پر پابندی کے باعث پی آئی اے کو ایک ماہ کے دوران 2 ارب روپے سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق قومی ایئر لائن کی ملک کے مختلف ایئر پورٹس سے ہر روز کئی پروازیں عمرہ زائرین کو لاتی اور لے جاتی ہیں۔

گیم پر توجہ مرکوز رکھنے کے لیے ببل کھاتا ہوں، بین ڈنک

لاہور سے عمرہ زائرین کیلئے ہر ہفتے 12 ، اسلام آباد سے 11، کراچی سے10،ملتان سے 8 ، پشاور اور سیالکوٹ سے 3،3 پروازیں چلائی جاتی ر ہیں

لاہور سے عمرہ زائرین کے لئے ہر ہفتے 12 ، اسلام آباد سے 11، کراچی سے10،ملتان سے 8 جب کہ پشاور اور سیالکوٹ سے 3،3 پروازیں چلائی جاتی ر ہیں۔ اس طرح پاکستان سے ہر ہفتے پی آئی اے کی 47 پروازیں عمرہ زائرین کو لے کر جدہ اور مدینہ جاتی ہیں۔پی آئی اے حکام نے بتایا کہ کورونا وائرس کے باعث سعودی حکومت کی پابندی سے 50 ہزار سے زائد عمرہ زائرین اپنے شیڈول کے مطابق سعودی عرب روانہ نہیں ہوسکے۔

کوروناوائرس کے باعث لگنے والی پابندی سے 50 ہزار سے زائد عمرہ زائرین اپنے شیڈول کے مطابق سعودی عرب روانہ نہیں ہوسکے،حکام پی آئی اے

پی آئی اے نے 31 مارچ تک عمرہ زائرین کی ٹکٹس منسوخ کر رکھی ہیں۔ بزنس ویزا اور اقامہ ہولڈرز مسافروں کی کم تعداد کے باوجود پی آئی اے خالی پروازیں چلانے پر مجبور ہیں۔ ایک ماہ کے دوران عمرہ زائرین پر پابندی سے قومی ایئرلائن کو ایک ماہ میں 2ارب سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔ اس قدر بھاری مالی نقصان کے باعث پی آئی اے کو آئندہ سال کے ہدف کا حصول خواب بن گیا۔

کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں سے ملاقات نہیں کرنی چاہئے،سعید غنی

کراچی(نامہ نگار)صوبائی وزیر برائے تعلیم سعید غنی نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں سے ملاقات نہیں کرنی چاہئے، شام سے پاکستان آنے والے کورونا وائرس کے مریض سے ملاقات کرنے والے بھی متاثر ہوئے ہیں۔

انہوں نےکہا کہ ایک کورونا وائرس کا متاثرہ شخص 10 دن پہلے آیا تھا شام سے واپس آیا تھا، اس مریض سے ملنے والے افراد بھی متاثر ہوئے ہیں، کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں سے ملاقات نہیں کرنی چاہئے۔

اسکول بند کرنے کا فیصلہ درست تھا، جب اسکول بند کئے تھے اس وقت کورونا وائرس کا پہلا کیس آیا تھا

انہوں نے مزید کہا کہ اسکول بند کرنے کا فیصلہ درست تھا، جب اسکول بند کئے تھے اس وقت کورونا وائرس کا پہلا کیس آیا تھا، پہلے ہمارے پاس صرف ایئرپورٹ سے آنے والوں کی فہرست تھی۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے متعلق جو بھی اعداد و شمار ہوتے ہیں ہم چھپاتے نہیں، دیگر صوبوں میں جو بھی اقدامات ہورہے ہیں ان کی معلومات ملنی چاہئے۔

کورونا وائرس سے متعلق جو بھی اعداد و شمار ہوتے ہیں ہم چھپاتے نہیں،صوبائی

واضح رہے کہ سندھ میں کورونا وائرس کے مزید 8 نئے کیس سامنے آگئے جس کے بعد صوبے میں متاثرہ افراد کی تعداد 13ہوگئی۔ ترجمان محکمہ صحت کے مطابق 5 مریض شام سے براستہ دوحہ کراچی آئے جبکہ 3 مریض لندن سے براستہ دوبئی کراچی پہنچے جن میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

ہمیں فالو کریں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں