سپریم کورٹ رپورٹس مسترد 134

کراچی میں شہریوں کی زندگی عذاب ہوگئی ہے،چیف جسٹس

Spread the love

کراچی (کورٹ رپورٹر ) سپریم کورٹ نے کراچی سرکلر ریلوے کیس کی سماعت کے دوران اے جی سندھ سے ناظم آباد میں تعمیر کی جانے والی غیر قانونی عمارتوں کی رپورٹ طلب کرلی ،چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں سارے پروجیکٹ مٹی کا ڈھیر ہیں جو گرجائیں گے، شہریو کی زندگی عذاب ہوگئی ہے،گرین لائن کو تین سال ہوگئے، تین سال میں تو پورے ایشیا میں روڈ بن جاتیں،ملک بھر کی کچرا بسیں کراچی میں چل رہی ہیں، ایک سال میں تمام پروجیکٹ کیوں مکمل نہیں ہوئے، اتنی بڑی بڑی روڈز ہیں ایک سال میں بن جاتی ہیں ۔

جمعہ کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سرکلر ریلویکی بحالی سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں ایڈووکیٹ جنرل سندھ، اٹارنی جنرل، چیف سیکریٹری اور سیکریٹری ریلوے سمیت دیگر حکام عدالت میں پیش ہوئے۔ سماعت کے آغاز پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے گزشتہ سماعت کا آرڈر پڑھ کر سنایا اور کراچی ماس ٹرانسپورٹ پلان کی کاپی عدالت میں پیش کی۔ ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ گرین لائن پروجیکٹ اور اورنج لائن مکمل ہوچکا اور یہ جلد آپریشنل ہوجائیں گے جب کہ دیگر پر کام ہورہا ہے، ورلڈ بینک اور ایشین ڈیولپمنٹ بینک پیسہ فراہم کررہے ہیں۔ اے جی سندھ کی رپورٹ پر چیف جسٹس پاکستان جسٹس گلزار احمد نے مکالمہ کیا کہ جس طرح نقشے دیتے ہیں اس طرح کام بھی ہونا چاہیے، یہ فیوچر ٹرانسپورٹ پلان نہیں ہے، آپ خرچا کرنا چاہ رہے تھے اور پیسہ بانٹنا چاہ رہے تھے۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے بتایا کہ گرین لائن سرجانی ٹاون سے شروع ہورہا ہے اور اس پر کام تین سال پہلے شروع ہو ا تھا۔ اس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تین سال میں تو پورے ایشیا میں روڈ بن جاتیں، پیسہ ہے، بندے ہیں، ایک سال میں تمام پروجیکٹ کیوں مکمل نہیں ہوئے، اتنی بڑی بڑی روڈز ہیں ایک سال میں بن جاتی ہیں۔

حکام نے عدالت کو بتایا کہ اورنج لائن اگلے سال تک آپریشنل کردیں گے جس پر چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ اس ماہ کیوں آپر یشنل نہیں ہوسکتا؟ آپ لوگ پیسے نہیں دیتے، ناظم آباد چلے جائیں کوئی کام نہیں ہورہا ہے، ہر وقت کوئی نہ کوئی بدلتا رہتا ہے، لوگوں کو خواب دکھاتے رہتے ہیں اور ان کی زندگی عذاب ہوگئی ہے، لوگ مررہے آپ لوگ بین بجا رہے ہیں، یہ سارے پروجیکٹ مٹی کا ڈھیر ہیں، گر جائیں گے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ جو لوگ کراچی میں کام کررہے ہیں ان کو کراچی کا کیا پتا؟ جتنے فلائی اوورز بنائے ہیں آپ خود ہی اگلے 5 سال میں گرادیں گے، ملک کے لیے کام کریں، جب تک ڈنڈا اوپر سے آتا نہیں آپ لوگ کام نہیں کرتے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ کیماڑی کا برج گرنے والا ہے کیماڑی کا رابطہ کراچی سے ختم ہو جائے گا۔

جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ یہ بسیں روڈزپر کب چلیں گی؟ اس پر ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ بسیں چل رہی ہیں، جسٹس سجاد علی شاہ نے جوابا کہا کہ شام کو ناظم آباد چلے جائیں وہاں سے ائیرپورٹ 4 گھنٹے میں پہنچیں گے۔ چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ یہاں 1955 والی بسیں چل رہی ہیں، ملک بھرکی کچر ابسیں یہاں چل رہی ہیں، یہ بسیں تب چلیں گی جب میں گھر چلاجاں گا، میرے دوسریساتھی چلیجائیں گے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کل کے واقعے میں اتنے لوگ مرگئے، سب آرام کی نیند سوئے ہیں، اس پر اے جی سندھ نے بتایا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے20 افسران کو معطل کیا گیا ہے۔ عدالت نے اے جی سندھ سے ناظم آباد میں تعمیر کی جانے والی غیر قانونی عمارتوں کی رپورٹ طلب کرلی۔

شہریوں کی زندگی عذاب

شہریوں کی زندگی عذاب

اپنا تبصرہ بھیجیں