میرا جسم تیری مرضی(ایک فکر انگیز تحریر)

Spread the love

ملک میں اس وقت ایک بات زیر بحث ہے اور وہ ہے ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ آپ جہاں جس طرف منہ کریں اسی کا چرچا ہے، ہر طرف عورتیں حقوق کے لیے مارچ کرنے کو تیار ہیں، یہ پہلا موقع ہے کہ ہمارے ملک میں ’’مارچ‘‘ مارچ کے مہینے میں ہی ہو رہا ہے ورنہ اس سے قبل ستمبر اکتوبر میں مارچ ہوتا رہا ہے۔ اس مارچ کو روکنے کے لیے علما کرام نے اپنا لائحہ عمل مرتب کر کے 8 مارچ عالمی یوم نسواں کے موقع پر ’’عورت مارچ‘‘ کے خلاف اس دن کو ’’یوم شرم و حیا‘‘ کے طور پر منانے کا عندیہ دیا ہے۔ مگر میرا جی چاہتا ہے کہ اس عورت مارچ میں اپنی ٹیم کو لے کر پہنچ جاوں اور بالکل اسی طرح کتبے اور بینرپر نعرے درج کروں جس طرح عورتوں نے درج کئے ہیں اور ہمارا نعرہ ہو ’’میرا جسم تیری مرضی‘‘، ’’میں نے کھانا گرم کر لوں گا تم بستر ٹھنڈا نہ ہونے دینا‘‘، ’’موزے میں ڈھونڈ لوں گا تم میرے لیے رشتہ ڈھونڈو‘‘اور اسی طرح کے دیگر نعرے بھی پیش کئے جا سکتے ہیں۔

قریب دو سال سے ہمارے ہاں عورت مارچ اور میرا جسم میری مرضی زیر بحث ہے اور اس موضوع پر ہر ہر فریق اپنی اپنی رائے کے ساتھ مورچے سنبھالے ہوئے ہیں مگر فریق اول جو کہ اس نعرے کی بانی ہے انہوں نے کسی موقع پر اس نعرے کی وضاحت نہیں کی کہ میرا جسم میری مرضی سے ان کی کیا مراد ہے؟ ان کے کون کون سے حقوق سلب کئے جا رہے ہیں اور وہ کون ہے جو ان کے حقوق سلب کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ یہ سوال بھی پوچھا جانا ضروری ہے کہ فریق اول کے جو حقوق سلب کئے گئے ہیں ان کے بارے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کیا ہے؟ کیا عدالتوں نے بھی ان کے حقوق دینے سے انکار کیا ہے؟ کیا انہوں نے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اب باضابطہ طور پر ایک الگ ادارہ قائم کر دیا گیا ہے اور وہاں پر خاتون محتسب بھی تشریف فرما ہیںایسا اس لیے کیا گیا ہے تاکہ عورتوں کو اپنا مسئلہ بیان کرنے میں سہولت ہو اور اس لیے بھی کہ عورت ہی عورت کا مسئلہ بہتر سمجھ سکتی ہے۔

ایماندار صحافی بمقابلہ بدعنوان افسران

حقیقت میں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ حقوق کس کے سلب ہو رہے ہیں اور مظلوم کون ہے۔ یہاں ہمیں تصویر کا ایک ہی رخ دکھا کر اپنا منجن بیچا جا رہا ہے، جیسا کہ عورتوں سے کوئی نہیں پوچھ رہا ہے کہ ان کے کون سے حقوق سلب ہو رہے ہیں اور وہ کیا مطالبات ہیں جن کا حصول ان کے لیے ضروری ہےوہاں پر آج تک کسی نے یہ دیکھنے کی کوشش نہیں کی کہ مردوں کے حقوق سلب کیے جا رہے ہیں یا ان کا استحصال تو نہیں ہو رہا۔

ہمارے معاشرے میں عورت ہمیشہ سے مرد کی ذمہ داری رہی ہے پیدا ہوتی ہے تو باپ کی ذمہ داری، باپ کے بعد بھائی پھر خاوند اور خاوند کے بعد وہ بیٹوں کی ذمہ داری ہوتی ہےیعنی مرد زندگی کے ہر دور میں اس کی کفالت کا ذمہ دار ہے اس کے برعکس عورت پر کسی قسم کی کوئی بیرونی ذمہ داری عائد نہیں کی گئی، اس کو مرد کے متوازی درجہ دینے کے لیے جیسے بیرونِ خانہ مرد کو ذمہ دار بنایا گیا ہے اسی طرح گھر داری عورت کی ذمہ رکھ دی۔ عورتوں کی کفالت کرنا مرد پر فرض کیا گیا ہے لیکن گھر، بچے، کھانا بنانا یہ سب عورت پر فرض نہیں کیا گیا، یعنی عورت کو مرد کی نسبت ایک جز آزادی زیادہ دی گئی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی عورت کاروبار کرنا چاہے یا اپنی مرضی سے نکاح کرنا چاہے یا کسی کو نکاح کا پیغام دینا چاہے تو اس کے لیے بھی دین عورت پر پابندی نہیں لگاتا، مثال کے طور پر ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ علیہاالسلام کاروباری خاتون تھیں اور انہوں نے پیغمبر اعظم کو نکاح کا پیغام بھی خود سے بھیجا تھا۔ اسی طرح عورت کی مرضی کے بغیر اس کا نکاح نہیں کیا جا سکتا، اگر وہ کسی مرد کے ساتھ نہ رہنا چاہتی ہو تو طلاق لے سکتی ہے، اگر مرد طلاق نہ دے تو وہ خلع کے لیے عدالت جا سکتی ہے۔ اسی طرح جس چیز کے بارے میں بھی سوال کیا جائے اس کی آزادی حاصل ہے۔

اب تصویر کا دوسرا رخ دیکھا جائے تو معلوم ہو گا کہ فریق ثانی کے حقوق سلب ہو رہے ہیں مگر وہ ’’میرا جسم تیری مرضی‘‘ کے نعرے کے ساتھ باہر نہیں نکلا اور نہ ہی اس نے شور مچایا حالانکہ اس کا اپنے حقوق کے لیے باہر نکلنا چاہیے، اس کو یہ کہنا چاہیے کہ اے ہماری عفت مآب خواتین، تحمل سے سوچو کہ مجھے دین نے استعاعت رکھنے اور عدل کرنے کی شرط پر ایک سے زائد شادیوں کی اجازت دی مگر اس ملک میں ہماری لگام عورتوں کے ہاتھوں میں دیتے ہوئے شرط رکھ دی گئی ہے کہ پہلی بیوی اجازت دے تو دوسری شادی کی جا سکتی ہے اور یہی عورت کا سب سے بڑا خوف تھا کہ اس کا مرد دوسری شادی نہ کر لے۔ عورتوں کی تمام تر اخراجات اور دیگر ضروریات کے لیے مرد کو پابند کیا گیا ہے کہ اگر وہ اس پر عملدرآمد نہیں کرتا تو اس پر قانونی چار جوئی کا حق عورت کے پاس ہے وہ اس سے اخراجات طلب کر سکتی ہے اور عدالتوں کا ریکارڈ دیکھا جا سکتا ہے کہ لاکھوں خواتین کو اس ادائیگی کے احکامات کے ساتھ ادائیگی کو یقینی بنانے کے لیے اس کا دھان بھی رکھا جا رہا ہے۔

عورت اور مرد کی کچھ فطری ضرورتیں ہیں جو انہوں نے ایک دوسرے سے پوری کرنا ہوتی ہیں، اب تو یہ بھی مقرر کر دیا گیا ہے کہ یہ ضرورت محض باہمی رضا مندی سے ہی پوری کی جاسکتی ہیں اور ان میں نکاح کی شرط لازم ہے۔ اب اگر کوئی مرد اپنی عورت سے زبردستی یہ ضرورت پوری کرے تو وہ اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتی ہے اور اس سلسلہ میں متعدد عورتوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتوں سے رجوع بھی کیا ہے۔

اس طرح کی بےشمار مثالیں اور بھی دی جا سکتی ہیں جس سے مضمون طویل ہو کر اپنی افادیت کھو سکتا ہے، اب تصویر کے اس رخ کو دیکھنے پر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اگر کسی کے حق کا تعین کرنے کی ضرورت ہے تو وہ مرد ہے بے چارہ مرنے تک پستا ہے اور کوئی اس کو پوچھنے والا نہیں۔

ہمیں فالو کریں

جو عورتیں اپنے حقوق کے لیے باہر آوازیں بلند کر رہی ہیں ان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مرد بھی محنت کرتا ہے اور اپنے سرمائے سے خاندان کو پالتا ہے مگر جنت جیسی اعلی و ارفع چیز جس کے لیے ہر آفاقی اور غیر آفاقی مذہب خواہش رکھتا ہے اور نیک اعمال اسی کے حصول کے لیے سرانجام دیتا ہے اس اعلی و ارفع جنت کو بھی ماں کے قدموں تلے رکھ دیا گیا ہے۔

میں سمجھتا ہوں کہ عورت ہو یا مرد جہاں وہ اپنے حقوق کے لیے بات کرے یا آواز بلند کرے تو اس کو اپنے فرائض پر بھی اسی طرح نگاہ رکھنی ہو گی جس طرح اپنے حقوق پر رکھے ہوئے ہے۔ میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اگر آپ میں سے کسی کا بھی کوئی حق تسلیم نہیں کیا جا رہا تو اس کے لیے سڑکوں پر مارے مارے پھرنے سے پہلے درست فورم پر اٹھایا جانا چاہیے اگر قانونی طریقہ کار سے آپ کا حق حاصل نہ ہو تو پھر اگلا مرحلہ دیکھنے میں کیا حرج ہے۔

میری رائے میں علما، عدلیہ اور مقننہ تینوں کو مل کر اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے اگر فریق اول ان کے پاس آنے کو تیار نہیں تو ان لوگوں کو خود جا کر مسئلہ معلوم کرنا چاہیے اور دیکھنا چاہیے کہ اس جسم اور مرضی کی کہانی میں کچھ کھوٹ صداقت کا تو نہیں کچھ میل حقیقت کا تو نہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ ٹسل بازی سے پرہیز کرنا چاہیے، مقابل ہو کر ٹکر لینے سے قبل مسئلہ پوچھ لینا چاہیے تاکہ اس کا کوئی مستقل اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔

میرا جسم تیری مرضی

میرا جسم تیری مرضی

میرا جسم تیری مرضی

میرا جسم تیری مرضی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں