گمنام ستارہ

Spread the love

معروف شاعرہ وادیبہ ڈاکٹر شاکرہ نندنی پاکستان و بھارت سمیت یورپی ممالک لندن، پُرتگال پولینڈ کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کی دنیا میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ہیں۔ علمی اور ادبی حلقوں میں ان کی ایک خاص پہچان ہے ۔ وہ نامور ادیبہ ہیں ۔ ان کا شمار ادیبوں کے اس طبقے سے ہوتا ہے جو تہذیب و فن کے امین و علمبردار ہیں۔ شاکرہ نندنی کی نگارشات کا سب سے اعلی وصف یہ ہے کہ قاری اس کے سحر سے نہیں نکل سکتا کیونکہ ان کی نگارشات دل میں اترتی چلی جاتی ہے اور ہر ایک کو اپنی ہی داستان محسو س ہو تی ہے کیو نکہ سیاحت نے ان کے مشاہدے میں چا ر چا ند لگا دیئے ہیں۔ اوران کی موضوعات میں ہجر و وصال کا موضوع تمام موضوعات پر غالب نظر آتا ہے۔ لیکن اس میں مایو سی کی جگہ امید کی پریاں جھلملاتی ہیں۔

= جنگ میں کاغذی افراد سے کیا ہوتا ہے
ہمتیں لڑتی ہیں تعداد سے کیا ہوتا ہے

ڈاکٹرشاکرہ نندنی نسلِ نو کی نمائندگی کرنے والی صاحب اسلوب ادیبہ ہیں۔ ان کا لب و لہجہ پختہ اور فطری ہے۔ جس سے ان کی ادبی انفرادیت کا اظہار ہوتا ہے۔انہوں نے اپنے اردگرد کے ماحول سے قوتِ اظہار حاصل کر کے اُسے اشعار کے سانچے میں ڈھالا ہے۔ جس سے ان کے موضوع عصرِ حاضر کی آواز بن گیا ہے۔ انہوں نے ہجر و وصا ل کے ساتھ ساتھ زمانے کے دکھ درد اور معاشرتی نا ہمواری کی بات کی ہے۔ جہاں تک شاکرہ نندنی کے شعری اسلوب کا تعلق ہے وہ انتہائی موثر ہے۔ ان کے اشعار ان کے اسلوب کے حوالے سے پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے اسلوب میں انفرادیت بتدریج نظر آتی ہے۔

= حوصلہ کسی حکیم سے کم نہیں ہوتا
ہر تکلیف میں طاقت کی دوا دیتا ہے

= کہیں بہتر ہے ترِی امیری سے مُفلِسی میری
چند سِکّوں کی خاطر تُو نے کیا نہیں کھویا ہے
مانا نہیں ہے مخمل کا بچھونا میرے پاس
پَر تُو یہ بتا کتنی راتیں چین سے سویا ہے

ان کی نعتیہ اور حمدیہ شاعری بھی بے نظیر ہے جو کہ دل کی گہرایئو ں سے پیار و خلو ص کی آئینہ دار ہے انھو ں نے خاص کر نعتیہ کلام بہت عمدہ لکھا ۔

یاد دل میں بسی ایسی تیری
صرف نظروں میں ہے ہستی تیری
تری ہستی کے سامنے ہیچ ہیں سب
سب پہ لازم ہے بندگی تیری

اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں
اس کے کرنے کو میری زباں ہی نہیں
جس کسی دل میں ان کی محبت نہ ہو
ایک پتھر ہی ہے اس میں جاں ہی نہیں

اردو شاعری میں جو موضوعات ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگی کے متعلق ہیں۔ ان میں محبت، خواہش اور امید سب سے نمایاں ہیں۔ جب ہجر کی آندھی چلتی ہے تو امید انسان کو اچھے دنوں کی خبر دیتی ہے۔ جس کی وجہ سے ڈاکٹر شاکرہ نندنی کے ہاں محبت کا جذبہ ماند نہیں پڑتا۔

ڈاکٹر شاکرہ نندنی مردانہ اسلوب یا لب و لہجہ کی شاعرہ نہیں ان کا کلام نسائی حسیات پر مبنی ہے۔ وہ عورت کے جذبات اور احساسات کی کومل ترجمانی کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ان کی شاعری میں درد کی کسک، جذبے کا خلوص اور شدتِ احساس کی لپک ہے

ہمارے شہر آجائو ہمیشہ بارش برستی ہے
کبھی بادل برستے ہیں کبھی آنکھیں برستی ہیں

اسی طر ح ان کے افسانے اور کہانیا ں بھی لا جواب ہیں جن کی خا ص خو بی حقیقت نگاری اور سادگی ہے۔ ان کی تحریر قارئین کے دل میں گھر کر تی جا تی ہے جو کہ ڈاکٹر شاکرہ نندنی کو دوسرے لکھنے والو ں میں منفرد و ممتاز کرتی ہے۔

گمنام ستارہ شاکرہ نندنی

گمنام ستارہ شاکرہ نندنی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں