مودی نے بھارت ٹرمپ کے ’’حوالے‘‘ کردیا

Spread the love

انسانی تاریخ کا طائرانہ جائزہ لیا جائے تو مزاحمت کرنے والے کو باغی اور غدار قراردیا جاتا ہے، پھر وقت گزرنے یا اقتدار بدلنے پر وہی غدار اور باغی ایک قومی ہیرو کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ اقتدار اور حاکمیت کا سفر کئی مراحل طے کرتا ہوا جمہوریت کے پلیٹ فارم پر رُک جاتاہے۔ جمہوریت کی گاڑی الیکشن ’جنکشن‘ پر رکتی ہے، ایندھن (مینڈیٹ) لیتی ہے اور زیادہ ٹکٹ(نشستیں) رکھنے والے مسافروں کو لیکراقتدار ایکسپر یس یا پسنجر(بمطابق ایندھن) گاڑی اُن کے متعین کردہ رُوٹ پر چل پڑتی ہے۔ ٹکٹ عوام سے ایک پروگوگرام اور منشور کے تحت حاصل کیا جاتا ہے جس میں ملک و ملت کی بھلائی سماج کی بہبود و ترقی بنیادی نکات ہوتے ہیں

نواز طاہر کا کالم میڈیا بحران اور سازشیں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

لیکن ایسے نکات بھی بعض اوقات سامنے آتے ہیں جو جو منفرد، مشکوک، مبہم اور خوفناک ہوتے ہیں اور ان کے اثرات معاشرے میں منفی اثرات کا باعث بنتے ہیں اور ان کی پذیرائی یا مسترد کرنا عوام کی اپنی پسند ناپسند ہوتی ہے۔ مقررہ وقت پراگلے جنکشن پر پہنچنے پر جمہوری اقتدار کی اس گاڑی نے پھر سے ایندھن حاصل کرنا ہوتا ہے۔ ایسے بہت سے مسافر اس گاڑی میں سوار دکھائی دیتے ہیں جن کے بارے میں لوگوں کی رائے اچھی نہیں ہوتی لیکن انہیں مینڈیٹ مل جاتا ہے۔

ان مسافروں ‘ کا ٹکٹ لینے کا اپنا طریقہ ہے، کوئی منافقت سے لیتا ہے اور کوئی طاقت اور’’حکمت‘‘ سے حاصل کرلیتا ہے یہ تینوں طریقے جمہوری عمل میں کسی نہ کسی انداز سے ناپسندیدہ لیکن ٹرین پر سفر کیلئے قابلِ قبول ہیں ہے حالانکہ ٹرین کے اس ٹکٹ کو عوام کی منشا کے سرف سے خوب دُھلا اور اُجلا خیال کیا جاتا ہے، جس پر داغ کا تصور نہیں، پھر بھی کئی مسافر داغدار ٹکٹ پر دندناتے ہوئے سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

جیسے ماضی میں حاکموں، بادشاہوں کے سامنے کلمہ حق کہنے والوں کو باغی یا غدار قرار دیا جاتا ہے، جمہوری حکمرانی میں بھی یہ روایت قائم ہے البتہ طریقِ کار مختلف ہے، کہیں وضع ہے، کہیں وضع نہیں ہے، جہاں وضع ہے، وہاں اس کی تمثیل بھی ہے۔ اس وضع شدہ طریقے کو مخالفین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے،ایک پروپیگنڈہ دوسرا مقدمہ بازی۔

وضع طریق میں ریاست کے استحکام کے منافی اقدامات(بعض معاشروں میں آئیں سے انحراف بحیثیت مجموعی دونوں ایک ہی ہیں) کو غداری اور بغاوت قراردیا گیا ہے۔

اقتدار کی گاڑی کے مسافروں میں جرائم پیشہ افراد کا سوار ہونا بھی ناپسندیدہ (بعض گاڑیوں میں ممنوع) قرادیا گیا ہے۔

بر صغیر کی تقسیم کے بعد اس خطے میں چلنے والی گاڑیوں کے مسافروں کی ایسی بڑی تعداد دکھائی دیتی ہے جنھیںٹرین سے باہر کھڑے لوگ جرائم پیشہ قرار دے رہے ہوتے ہیں۔

جمہوری حکمرانی میں ریاست کا ایک اہم ادارہ عدلیہ ہے جسے قانون سازی کا اختیار نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری قانون سازی کی تشریح ہے اور اور قانون کی پرکھ بھی یہ ادارہ کرتا ہے اور اپنی سفارشات بھی دیتے ہے جسے رولنگ قراردیا جاتا ہے جو قانون ساز ادارے کیلئے رہنما ئی ہوتی ہے۔ اس ادارے کی تشریح اوررولنگ کی روشنی میں کئی قوانین میں تبدیلی یا ان کی تنسیخ ہوجاتی ہے۔

عمرانیات کے ایک طالبعلم کی حیثیت سے بھارت کی عدالتِ عظمیٰ کا ایک فیصلے انتہائی اہم معلوم ہوا جس میں اس نے اقتدار ٹرین کے مسافروں کی پاکیزگی یعنی جرائم پیشہ افراد کا سفر روکنے کے لئے اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے۔

غیر ملکی ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں بھارت کی تمام سیاسی جماعتوں جماعتوں کو مجرمانہ پس منظر رکھنے والے امیدواروں کی فہرست اپنی ویب سائٹ پر جاری کرنے کا حکم دیا ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق جسٹس آر ایف نریمن اور جسٹس ایس روندر بھٹ پر مشتمل بینچ نے توہین عدالت کے ایک کیس میں اپنے حکمنامے میں سیاسی جماعتوں سے یہ بھی کہا ہے کہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے امیدواروں کے جیتنے کی وجوہات بھی بتائی جائیں ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ اگر سیاسی جماعتیں اس ہدایت پر عمل نہ کریں تو الیکشن کمیشن کو اس بات کی اجازت دی جاتی ہے کہ وہ سیاسی پارٹیوں کے بارے میں یہ معلومات عدالت عظمی کو فراہم کرے۔ سیاست کو جرائم سے پاک کرنے کے لئے عدالت نے سیاسی پارٹیوں کے لئے رہنما اصول جاری کرتے ہوئے مشاہداتی تجزیہ پیش کیا ہے کہ ہندوستان میں گذشتہ چار عام انتخابات میں سیاست میں جرائم کا تیزی کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔

اگر کوئی سیاسی جماعت مجرمانہ پس منظر رکھنے والے کسی فرد کو ٹکٹ دیتی ہے تو اس کے جرائم کی تفصیلات پارٹی کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا پر جاری کرنی ہوں گی اور یہ بھی بتانا ہوگا کہ اس کی جگہ کسی بے داغ فرد کو ٹکٹ کیوں نہیں دیا گیا؟

انتخابی عمل کو بہتر بنانے کے لئے بھارت کی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ انتہائی اہمیت کا حامل اور قابلِ تحسین ہے جو بھارت کی جمہوریت مجرمانہ سوچ جیسی خرابیوں کی نشاندہی کرتا ہے اور اندازہ لگانے کے لئے کافی ہے کہ بھارت ایک سیکولر سٹیٹ کے دعوے کرتا ہوا فاشزم کی جانب کیسے بڑھ رہا ہے؟ اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں انتہا پسندی کو کیسے فروغ مل رہا ہے، بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر پر قبضے اور شہریت کے قانون میں متنازع ترامیم جیسے اقدامات اس انتہا پسندی کی واضح مثالیں ہیں اور ان حالات میں یہ سوال ابھرتا ہے کہ گجرات فسادات کے بعد جب مودی کو دنیا بھر میں ناپسندیدہ انسان قراردیا گیا، امریکہ اور برطانیہ کے لوگوں نے مودی پر سخت پابندیوں کے مطا لبے کیے اور پھر انہی ملکوں میں اُسی مودی کے شاندار استقبال کیے گئے تو درپردہ منصوبہ کیا تھا ؟

ایک انسان دشمن اتنہا پسند ایک سیکولر ملک کا وزیراعظم کیسے بن گیا اور دنیا میں اہمیت کے حامل ملکوں میں اس کی پذیرائی کے معنی کیا ہیں اور تو اور کچھ مسلمان ملک بھی پیچھے نہیں رہے جنہوں نے مودی کا شہزادوں اور شہنشاہوں جیسا استقبال کیا۔ ان حالات میں کیا گجرات فسادات کی ازسرنو عالمی کمیشن کے ذریعے تحقیقات نہیں ہونا چاہئیں ؟

جہاں تک بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے میں مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے الیکشن میں حصہ لینے کے لئے روک لگانے کی ابزرویشن کا تعلق ہے تو اس کا اطلاق بھارت سمیت ہر جمہوری معاشرے میں ہونا چاہئے اور یہ لازم قراردینا چاہئے کہ جب تک مجرمانہ سرگرمیوں کی تحقیقات مکمل اور حتمی فیصلہ نہ ہوجائے تب تک ایسی کسی امیدوار کو الیکشن لڑنے کی اجازت ہی نہ دی جائے لیکن اس میں عدالتی نظام میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی بھی ضرورت ہے اور سیاسی جماعتوں میں انسان دوستی کا جذبہ بیدار ہونا بھی لازم ہے۔ ریاستی اداروں کو سیاسی جماعتوں اور طاقتور لوگوں سے زیادہ عوام کے مفادات کے تحفظ کا احسا س ہونا بھی لازم ہے بجائے اس کے کہ وہ کسی جماعت، طاقتور انسان یا ادارے کی خواہشات کا احترام کریں۔

اس میں دو رائے نہیں کہ ریاست کے لئے کسی کو غدار کہہ دینا یا کسی کے خلاف مقدمات درج کردینا کوئی مشکل نہیں بلکہ برصغیر میں تو یہ روایت بن چکی ہے ایسی کئی مثالیں موجود ہیں، بھارت میں اس کی تازہ ترین مثال ریاست اتر پردیش کے ڈاکٹرکفیل خاں ہیں جنہیں دیانتداری کی سزا دینے کیلئے سب سے پہلے بچوں کی ہلاکت کا ذمہ دار قراردیکر گرفتار کیا گیا اور پھرشہریت کے متنازع قانون پر’’ زبان چلانے‘‘ پر گرفتار کرلیا گیا، اتر پردیش میں انہیں تیس بچوں کی ہلاکت کے جس معاملے میں گرفتار کیا گیا اس کے پیچھے بھی ایسے ہی عناصر تھے جن کی نشاندہی بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے ہوتی ہے

کیونکہ ذمہ دار افراد نے سیاسی پشت پناہی رکھنے والوں کے ایما پر ہسپتال کو اوکسیجن گیس فراہم نہیں کی تھی جس سے بچوں کی ہلاکتیں ہوئی اور ان گیس کی عدم فراہمی جیسے معاملات کینشاہدہی کرنے والے ڈاکٹر کفیل خان کو گرتار کرلیا گیا۔ اب جبکہ متنازع شہریت قانون پر انہوں علی گڑھ یونیورسٹی میں اس قانون کے خلاف بیان دیا تو انہیں پھر سے نہ صرف گرفتار کرلیا گیا بلکہ جب عدلات نے رہائی کا حکم دیا تو رہا ئی کے بجائے ان پر نیشنل سیکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) لگادیا گیا ہے جبکہ بھارت کی سب سے بڑی عدالت کے سابق فیصلوں کے مطابق اس ایکٹ کا نفاذ نہیں ہوسکتا۔

اجتماعی ریپ

برصغیر میں جمہوریت اور حاکمیت کے انداز کھلی چغلی کھاتے ہیں کہ یہاں مجرمانہ سوچ اور غیر ملکی مفادات کو اپنے شہریوں سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور ایجنڈا بنا کر اس پر عملدرآمد کیا جاتا ہے جیسا کہ بھارت کی مارکسیسٹ کمیونست پارٹی کے رہنما سیتا رام یچوری نشاندہی کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ امریکی حکومت بھارتی منڈیوں تک اپنی مصنوعات کی فراہمی یقینی بنانے کے عوض بھارت کے متنازع شہریت قانون اور مقبوضہ کشمیر پر قبضے کے لئے دفعہ تین سو ستتر جیسے معاملات کی مخالفت نہیں کررہی۔

اسی منفی سوچ کے پیشِ نظر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے موقع پر بھارت میں بائیں بازو کی جماعتوں نے احتجاجی مظاہرے کرنے کا بھی اعلان کیا ہے،سیتا رام پیچوری کے مطابق

امریکی حکومت اپنی مصنوعات کو ہندوستان میں زیادہ سے زیادہ برآمد کرنے کے لئے ہندوستان پر دباؤ ڈال رہی ہے، امریکی حکومت نے نریندرمودی کے سامنے شرط رکھی ہے کہ اگر وہ امریکی مصنوعات کو ہندوستانی منڈیوں میں آنے کی اجازت دیں گے تو واشنگٹن بھی سی اے اے اور دفعہ تین سو ستر جیسے معاملے پر ان کی حمایت کرے گا۔

ٹکٹ گاڑی مودی ٹرمپ

ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی بھی ایسے ہی راستے پر چلی تھی اور شائد بھارت کو بائیں بازو کی جماعتیں یہی محسوس کررہی ہیں کہ مارکیٹ جب امریکی مصنوعات سے بھر جائے گی تو مقامی مصنوعات کی کھپت کہاں ہوگی؟ مہنگائی بڑھے گی اور عام آدمی بھوکا مرے گا۔

ایک طرف بھارت کی سپریم کورٹ چلا رہی، دوسری جانب بھارت کی حکومت اپنے فاشسٹ عزائم کی تکمیل کے لئے بھارت کے مجموعی مفادات کے برعکس امریکہ کے سامنے لیٹی ہوئی ہے،ایسے ایجنڈے تبھی پایہ تکمیل تک پہنچ سکتے ہیں جب مجرمانہ ذہن رکھنے والے لوگ اقتدار میں ہوں،اسی بات کو بھارت یسپریم کورٹ نے اپنے محدود ’’حالات‘‘ میں محسوس کیا ہے لیکن اصل طاقت عوام ہیں جو جب تک خود اپنے مفادات کا مکمل شعور کے ساتھ تحفظ نہیں کریں گے،جمہوری فاشزم برقرار رہے گا،حاکمانِ وقت جسے چاہیں گے غدار قراردیتے رہیں گے، عووام میں حقیقی اور غیر حقیقی غداروں کے فرق میں ابہام رہے گا،غدار اپنا اپنے کام کرتے رہیں گے۔

ٹکٹ گاڑی مودی ٹرمپ

ٹکٹ گاڑی مودی ٹرمپ

ٹکٹ گاڑی مودی ٹرمپ

ٹکٹ گاڑی مودی ٹرمپ

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں