160

رمنی (افسانہ) اسلم آزاد شمسی

Spread the love
ہنوارہ گڈا جھارکھنڈ(انڈیا)
+918210994074

اسلم آزاد شمسی نوجوان افسانہ نگار ہےبھارت سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان کے قلم میں پختگی اور روانگی بھی ہے اور معاشرے کی ننگی سچائی بھی آج کا یہ افسانہ بھی ہوس پرست بوسیدہ لاشوں کی بدبودار ذہنیت کی کہانی ہے جو زندہ لوگوں کی طرح ہی رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں

آج طویل مدت کے بعد رمنی ملی، مجھے دیکھ کر مسکرائی تو میں بھی مسکرائے بغیر رہ نہ سکا، وہ کافی دنوں بعد اپنے گھر سے میکے آئی تھی۔
میں اسکے قریب گیااور پوچھا ۔رمنی! کیا سسرال میں اتنا من لگتا ہے جو تو اتنے دنوں بعد آئی ہے ؟
کیاتجھے اپنی بوڑھی ماں اور بھائیوں کی یاد نہیں آتی ؟
رمنی مسکراتے ہوئے بولی : نہیں بھیا ایسی بات نہیں ہے، ایک تو آپ لوگوں نے میری شادی اتنی دور کروادی اوپر سے اب میری ساس بھی بوڑھی ہوچکی ہے، گھر کی اکلوتی بہو ہونے کے ناطے ذمہ داریاں بھی زیادہ ہے رہی بات ماں اور بھائیوں کی تو فون پر باتیں کر کے مطمئن ہوجاتی ہوں۔

اچھا رمنی ! تو سسرال میں خوش ہے نا، تجھے وہاں کسی بات کی تکلیف تو نہیں ہے ؟ تمہارا جھلسہ ہواچہرہ دیکھ کر کوئی طعنہ تو نہیں کستا؟ نہیں بھیا ! کسی بات کی کوئی پریشانی نہیں ہے سب لوگ اچھے ہیں سب پیار کرتے ہیں ۔میں سب کی خوب سیوا کرتی ہوں
اچھا رمنی ! بڑی بھاگیہ شالی ہے تو بھگوان تجھے ہمیشہ خوش رکھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے میں آگے بڑھ گیا

رمنی کی باتیں سن کرمجھے خوشی تھی کہ اس نے بیتے دنوں میں جو دکھ اٹھا ئے تھے اب اسکا مداوا ہوگیا اور خوش اسلئے بھی تھا کہ اسے ایک ایسا گھر ملا ہے جہاں وہ آج خوش بھی ہے اورسکھی بھی۔

اس وقت رمنی کی عمر یہی کوئی ۱۴ یا ۱۵ برس کی رہی ہوگی، جب وہ اپنے لڑکپن سے قدم باہر نکال کر جوانی کی طرف بڑھ رہی تھی، رمنی خوبصورت تھی کسا ہوا سڈول بدن، خوبصورت لمبے کالے بال، ابھری ہوئی چھاتی اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رنگ سانولا تھا، پر قدرت نے رمنی کے چہرہ پر وہ قوتِ جاذبہ رکھی تھی کہ لوگ اسے بس دیکھنا چاہتے تھے

رمنی اب سیانی ہوچکی تھی اور یہ بات شایدوہ اچھی طرح جانتی تھی کہ گاؤں جوار کے لفنڈر چھوکروں کی ترچھی نظریں اس پر پڑنے لگی ہیں لیکن وہ اس بات سے بالکل انجان تھی کہ کچھ پکے اور تجربہ کار نظریں بھی اسکی جوانی کو ٹٹولتی ہیں۔ بھلا یہ بات وہ کیسے سمجھتی ۔۔۔۔۔۔۔ رمنی ابھی دنیا داری کے رنگ ڈھنگ سے بھی واقف نہ تھی

سنگھیسر کی چار اولاد میں رمنی سنجھلی ہے، بڑا بھائی حلوائی کے دوکان پر کام کرتا ہے اس سے چھوٹا آئس کریم بیچاکرتا ہے اور سب سے چھوٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہاں وہ بھی حلوائی کے یہاں کام کرتا ہے

راما، شیاما، رمنی اور گنپت بس انہیں کے سہارے سنگھیسر کا گھر چلتا ہے، پر وہ اپنی بٹیا کو ہرگز دھندے پہ نہ لگاتا اگر اسکے دونوں بیٹے اپنی گاڑھی کمائی کو دارو میں نہ اڑاتے۔

میرے گاؤں میں وہ واحد گھر ہے جسکا چوڑیوں کا کاروبار ہے، ہر روز شام کو جب ہاٹ کا وقت ہوتا سنگھیسر، اسکی بیوی اور اسکی بیوہ ماں سر پر ٹوکری لئے ہاٹ کی اور جایا کرتے تھے۔

مجھے بہت اچھی طرح یاد ہے جب ۱۹۹۰ء کی دہائی میں عید، بقرعید، شادی بیاہ اور دیگر خاص مواقع پر سنگھیسر کی بوڑھی ماں ہمارے گھر امی اور چاچی کو چوڑیاں پہنانے آیا کرتی تھی، اسکے بعدبھی لمبے عرصے تک انکا یہی کاروبار رواں رہا اور گھر کا چولہا جلتا رہا۔

کبھی کبھی سنگھیسر کا چھوٹا بھائی راجو اپنی بوڑھی اماں کا چوڑیوں سے بھرا ٹوکرا ہاٹ سے اٹھا لایا کرتا تھا اور جانے انجانے اپنی فرمانبرداری کا ثبوت پیش کرتا۔

رمنی کا چاچا ’’راجو‘‘ ۔۔۔ وہی راجو جسکی ساری دنیا رمنی تھی اتنا پیار تو رمنی کو اسکے والد نے نہ دیا ہوگا جتنا کہ راجو نے دیا تھا جب رمنی چھوٹی تھی تو اس کا کوئی دن ایسا نہ گزرتا جس دن وہ رمنی کو سائیکل پر نہ گھماتا اسکے لئے رمنی ہی سب کچھ تھی،پر اب وقت بدل چکا ہے اب راجو کا اپنا کاروبار ہے سنگھیسر کے تینوں بیٹے کماؤ ہیں اور اب نہ تو سنگھیسر ہی چوڑیاں بیچتا ہے اور نہ ہی اسکی بیوی

ہاں: پر وہ اب بھی ہاٹ جاتے ہیں، دونوں میاں بیوی اور ساتھ میں رمنی بھی، اب یہ لوگ بریڈ آملیٹ، پکوڑا اور سموسہ وغیرہ بیچا کرتے ہیں، یوں تو ہاٹ میں اس طرح کی اور بھی دوکانیں سجتی ہیں پر یہ دوکا ن خاص ہے اس دوکان پر جتنی بھیڑ ہوتی ہے اتنی بھیڑ میں نے آسنسول قیام کے دوران رستوگی سویٹس میں بھی نہ دیکھی تھی اس بھیڑ میں دونوں طبقے کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جنکی بھیڑ شام ہونے کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے اور دوسری وہ جنکی بھیڑ شروع میں لگتی ہے اور شام ڈھلنے کے ساتھ ساتھ گھٹتی جاتی ہے

بھیڑ میں ہر ذات، مذہب اور طبقے کے لوگ ہوتے ہیں یعنی کیا عام اور کیا خاص، کیا امیر اور کیا غریب کیا غیرت والے اور کیا بے غیرت، پر ان سب لوگوں میں جو ایک بات یکساں تھی کہ یہ سب لوگ رمنی کا پر کشش چہرہ، بھرے بھرے گال، ابھری ہوئی چھاتی اور مضبوط کثرتی بدن کی ایک جھلک پانے کو بے تاب رہتے تھے، بھیڑ میں کھڑا ہر شخص اس چکر میں ہوتا تھا کہ جب اسکا نمبر آئے تو سامان لینے میں جتنا ہو وقت زیادہ لگے تاکہ جی بھر کر رمنی کا دیدار کر سکیں، ایسی صورت میں زیادہ تر لوگ پیسے دینے میں تاخیر کرتے۔

یہاں کھڑے ہوکر لوگ اپنی اپنی عزت اور مرتبہ سب بھول جایا کرتے تھے، رمنی کی ابھری ہوئی چھاتی میں لوگ اس قدر محو ہوجاتے کہ وہ یہ بھی بھول جاتے تھے کہ انھیں یہاں دیکھنے والے اور بھی لوگ ہیں، ان عزت دارلوگوں کی ترچھی نگاہیں جن میں ہوس اور واسنا کی سوا کچھ نہ ہوتا تھا رمنی کی عزت پر ہر روز حملہ آور ہواکرتی تھی۔

حالانکہ رمنی ایسی لڑکی نہیں تھی، ابھی تک تو وہ صاف ستھری اور پاکیزہ تھی اسکا جسم کورا اور بے داغ تھا، اسکے والد سنگھیسر اور اسکی ماں اس بات سے انجان نہیں تھے پر شاید انکی غربت تھی جو انہیں یہ کڑوے گھونٹ پینے پر مجبور کررہی تھی، اور شاید یہی سبب تھا کہ رمنی ہر روز شام کو اپنے والدین کے ساتھ ہاٹ جایا کرتی تھی اور دوکان پر بیٹھ کر شریف، ان پڑھ گنوار اجڈ اور نکمے لوگوں کے ساتھ ساتھ عزت دار، مہذب، متمدن اور تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے تفریح اور دل بہلانے والا سامان ثابت ہوتی تھی

آج تقریبا دوسال کا عرصہ بیت چکا ہے رمنی کو ٹھیک ہونے میں دو سال بیت گئے۔ وہ ایک انتہائی بھیانک رات تھی جب اکچھ شر پسندوں نے اپنی خباثت، بزدلی، تنگ نظری کا ثبوت رمنی کے چہرہ پر تیزاب پھینک کر کھلے عام دستور کا مذاق اڑایا تھا، ایک ایسی رات تھی جس کے محض یاد سے ہی بدن لرز جاتا ہے اب سنگھیسر واپس اسی حالت میں آگیاجہاں وہ آج سے پانچ سال پہلے تھا اتنا ہی غریب ہوگیا جتنا پہلے تھا، اب سنگھیسر اپنے نیم مردہ اور ایک طرح سے بے جان اور ادھ موئے جسم کی لاش سانسوں کی ڈور سے باندھے اس کو گھسیٹے پھرتا سنگھیسر اسکی بیوی اور رمنی تو ایک طرح سے مر ہی چکے تھے مگر ہمارا تنگ نظر معاشرہ تو ابھی بھی زندہ ہے۔

رمنی کے علاج کے لئے گاؤں والوں نے خوب مدد کی تھی آج رمنی کی شادی ہے گھر پر دعوت نامہ بھی آیا ہے، شام کا وقت تھا میں نے پانچ سو کا ایک نوٹ اپنی جیب میں رکھا اور رمنی کی گھر کی طرف بڑھ گیا۔ گھر کے سامنے ایک بڑا سا پنڈال لگا ہوا تھا جو رات کی اندھیرے میں روشنی سے بقعہ نور بنا ہوا تھا، چاروں طرف کی خوبصورت روشنی سے آس پاس جگ مگا رہا تھا۔ دور کہیں جنریٹر کے چلنے کی آواز آرہی تھی جو گانے اور بینڈ پارٹی کے شور میں مانو گم سا ہوگیا تھا۔ سنگھیسر اور راجو نے ملکر شادی کا بند وبست کیا تھا، رمنی کے بھائی اور چاچا راجو سب پی کر ٹن تھے انکے قدم بہک رہے تھے پر ہوش میں تھے ۔

اسلم آزاد شمسی کا دوسرا افسانہ پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

میں نے راجو سے پوچھا:۔ راجو زیادہ چڑھی تو نہیں ؟
راجو:۔نہیں اتنے میں تھوڑی چڑھتی ہے
پر آج شادی ہے۔ راجو آج سمدھی سے گلے کیسے ملوگے؟ گلے؟ ارے گلے کون ملے گا سالے کو، اسے ایک لاکھ ستر ہزار گن کر دئیے ہیں

سالے نے ایک روپیہ کم نہیں رہنے دیا

سامان بھی چاہئے اور روکڑا بھی کون ملیگا یار ایسے آدمی سے گلے ؟ ہیں؛ آپ ملیں گے؟ آپ ؟

نہیں نہیں میں نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا راجو مسلسل نشے میں اناپ شناپ بکے جارہاتھا ؟

راجو :۔اے ماسٹر صاحب اے ماسٹر صاحب سنئے نا

پی ایس ایل میں کیا ہونے جا رہا ہے

راجو مجھے بھیڑ سے الگ لے گیا آپ جانتے ہیں نا مجھے میں نے پچاس ہزارکا قرض لیا ہے یہ جو دیکھ رہے ہیں نہ آپ یہ جنریٹر، بینڈ باجا اور یہ چمچماتی لائٹ یہ شامیانہ

میں نے۔۔۔۔۔ میں نے لگوایا ہے کہتے ہوئے راجو گھر گیا اور ایک بوتل منہ کو لگاتے ہوئے واپس آگیا

سالے نے ساری جمع پونجی ختم کروادی، ایسے آدمی سے کوئی گلے ملتا ہے؟ ’’ہٹ‘‘کون ملے گا سالہ۔۔۔۔۔۔ بڑبڑاتے ہوئے راجو واپس بھیڑ میں آکر ناچنے لگا

صبح رمنی کی وداعی ہورہی تھی

سب لوگ اسے دعائیں دے رہے تھے اور اسکے سکھی جیون کے لئے آشرواد، رمنی ایک ایک کر سب سے گلے مل رہی تھی اسکی زور زور سے رونے کی آوازیں کئی لوگوں کو رلا رہی تھی۔ پر راجو وہاں نہیں تھا، گنپت راجو کو بلانے دوڑا پر پورے گھر میں وہ کہیں نہ ملا یکا یک گھر کے پیچھے سے کسی کے چیخنے کی آواز آئی اور سب لوگ خاموش ہوگئے، رمنی سب کو دھکا دیتے ہوئے کنوے کی اور بھاگی، بابا جی کے پرانے کنویں میں جو کئی سالوں سے ویران پڑا تھا راجو کی لاش تیر رہی تھی

رمنی اسلم آزاد شمسی

رمنی (افسانہ) اسلم آزاد شمسی

اسلم آزاد شمسی رمنی

افسانہ اسلم آزاد شمسی رمنی

آزاد شمسی اسلم رمنی

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...