.آٹا چینی گھی دالیں 84

وزیر اعظم کا مہنگائی ،اشیائے خوردونوش میں ملاو ٹ کانوٹس

Spread the love

اسلام آ باد ( سٹاف رپورٹر ) وزیراعظم پاکستان عمران خان کی زیر صدارت تمام صوبائی حکومتوں کا اجلاس ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقد ہوا، جس میں تمام صوبوں میں خود ساختہ مہنگائی ، ذخیرہ اندوزوں اور اشیائے خوردو نوش میں ملاوٹ کے خلاف کئے گئے اقدامات پر تفصیلی بریفینگ دی گئی ۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان ، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، چیف سیکرٹری سندھ ، چیف سیکرٹری بلوچستان اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی ۔ وزیراعظم نے خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے کئے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اشیائے خوردونوش میں ملاوٹ ایک قومی مسئلہ ہے جس سے نہ صرف مختلف قسم کی بیماریاں پھیل رہی ہیں بلکہ بچوں کی نشوونما پر بھی مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔اُنہوںنے چاروں صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر اشیائے خوردو نوش میں ملاوٹ کی روک تھام کیلئے تفصیلی حکمت عملی مرتب کریں جس کے بعد مسئلے سے نمٹنے کیلئے ملکی سطح پر حکمت عملی وضع کی جائے گی ۔ وزیرِ اعظم عمران خان نے اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ دودھ، گوشت، دالوں جیسی روزمرہ کی اشیا میں ملاوٹ کسی صورت قابل قبول نہیں، ملاوٹ کرنے والے عناصر عوام اور خصوصاً ہمارے بچوں ،جوکہ ہمارا مستقبل ہیں، کی صحت سے کھیلتے ہیں جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی،

وزیرِ اعظم نے کراچی میں آٹے کی قیمتوں پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کوہدایت کی کہ آٹے کی قیمت پر قابو پانے کے حوالے سے فوری اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوری کے خلاف انتظامی اقدامات کو موثر بنایا جائے ، ملک میں اشیائے ضروریہ مثلاً گندم، چینی و دیگر فصلوں کی طلب و رسد کے تخمینوں اور طلب و رسد کو یقینی بنانے کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی غرض سے قائم کیے جانے والے خصوصی سیل کے قیام کا عمل تیز کیا جائے،بلوچستان میں فوڈ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی فعالی میں وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکنہ معاونت فراہم کی جائے۔ وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق جمعرات کو وزیرِ اعظم عمران خان کی زیر صدارت ملک بھر میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کے جائزے،پرائس کنٹرول، ذخیرہ اندوزی، ناجائز منافع خوری اور ملاوٹ کی روک تھام کے حوالے سے اعلیٰ سطحی اجلاس ہو اجس میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر، وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکورٹی مخدوم خسرو بختیار، مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد، معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور متعلقہ محکموں اور وزارتوں کے سینئر افسران موجود جبکہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب، وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخواہ، صوبہ پنجاب، صوبہ سندھ، صوبہ بلوچستان، صوبہ خیبر پختونخوا کے چیف سیکرٹری صاحبان اور دیگر صوبائی سینئر حکام ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اجلاس میں شرکت کر رہے تھے۔

وزیر اعظم کا مہنگائی 

صوبائی چیف سیکرٹری صاحبان نے وزیرِ اعظم کو اپنے متعلقہ صوبوں میں اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی موجودہ صورتحال کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔وزیر اعظم کو بتایا گیا کہ صوبہ پنجاب، صوبہ خیبر پختونخواہ اور وفاقی دارالحکومت میں مجموعی طور پر آٹے، چینی، چاول و مختلف دیگر اشیاء کی قیمتوں میں استحکام رہا ہے اور بعض اشیاء کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے جبکہ صوبہ سندھ میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ وزیرِ اعظم کو بتایا گیا کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق پاسکو کی جانب سے صوبہ سندھ کو چار لاکھ ٹن گندم کی فراہمی تقریبا مکمل ہو چکی ہے۔ جبکہ ایک لاکھ ٹن مزید گندم کی فراہمی کی درخواست پر اقتصادی رابطہ کمیٹی اپنے اجلاس میں غور کرے گی۔ وزیرِ اعظم نے کراچی میں آٹے کی قیمتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکرٹری سندھ کوہدایت کی کہ آٹے کی قیمت پر قابو پانے کے حوالے سے فوری اقدامات کو یقینی بنایا جائے اور ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوری کے خلاف انتظامی اقدامات کو موثر بنایا جائے۔ وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ ملک میں اشیائے ضروریہ مثلاً گندم، چینی و دیگر فصلوں کی طلب و رسد کے تخمینوں اور طلب و رسد کو یقینی بنانے کے حوالے سے جامع منصوبہ بندی کی غرض سے قائم کیے جانے والے خصوصی سیل کے قیام کا عمل تیز کیا جائے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ وزارتِ نیشنل فوڈ سیکورٹی کی افرادی قوت کے حوالے سے ضروریات کو پورا کیا جائے۔ اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم کو بڑے شہروں میں اسلام آباد کی طرز پر اشیاء ضروریہ کی آن لائن ڈیلیوری، قیمتوں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والی موبائل ایپلیکیشن کے اجراء اور کسانوں کی سہولت کے لئے فارم مارکیٹس کے قیام میں پیش رفت پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیر اعظم کا مہنگائی 

اپنا تبصرہ بھیجیں