فیاض احمد علیگ ڈاکٹر 201

غزل (ڈاکٹر فیاض احمد علیگ)

Spread the love

ڈاکٹر فیاض احمد علیگ کا تعلق ہندوستان سے ہے اور علمی حلقوں میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے بینا پارہ اعظم گڑھ میں بحثیت استاد اور قریب ہی بطور معالج خدمات انجام دیتے ہیں ڈاکٹر فیاض احمد علیگ ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں انہیں جس قدر دسترس طب و جراحت پر ہے اسی قدر شعر و سخن میں بھی ہے، یہی نہیں وہ تحریر و تحقیق کے فن میں بھی طاق ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا ایک منفرد نام و مقام رکھتے ہیں ہم نے اس سے قبل بھی ڈاکٹر صاحب کے متعدد فن پارے شائع کئے ہیں اور ساتھ ساتھ ان کے تحقیقی مضامین بھی شائع ہوتے رہتے ہیں ہمارے ہاں جن لوگوں کے گذشتہ برس میں سب سے زیادہ پڑھا گیا ہے ان میں پروفیسر شمیم ارشاد اعظمی اور ڈاکٹر فیاض احمد علیگ ہی ہیں۔یہ بھی لکھنا ضروری ہے کہ ان کی غیر حاضری کو ہم تو محسوس کرتے ہیں کہ یہ ہمارے بہت محسن اور اچھے دوست و مشیر ہیں ہمارے ساتھ قارئین کرام بھی یاد کرتے ہیں اور ان کے مضامین سب سے زیادہ تلاش کئے جاتے ہیں۔ ہمارے معاونین میں یہ دونوں وہ احباب ہیں جن کی تحقیق کو ابھی تک کسی نے چیلنج نہیں کیا

پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد علیگ بینا پارہ اعظم گڑھ انڈیا

جب سے اس نے ہمیں کہا اپنا
بھول بیٹھے ہیں خود پتہ اپنا

شاہ ! سن لے ترے ڈرانے سے
کم نہ ہو گا یہ حوصلہ اپنا

داغ چہرے پہ ہیں مگر واعظ
صاف کرتے ہیں آئینہ اپنا

بات زاہد کی مان کر آخر
لٹ گیا پھر سے قافلہ اپنا

آپ کو یہ بھی پسند ہو سکتا ہے

روز اپنی انا سے لڑتے ہیں
خود سے ہوتا ہے معرکہ اپنا

صرف اپنے مرید ہیں ہم تو
عکس اپنا ہے آئینہ اپنا

عقل فیاض ہار جائے جب
دل کو کرتے ہیں رہنما اپنا

فیاض علیگ کی یہ غزل بھی پڑھیں

یہ بھی پڑھیں

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...