175

اسحاق ڈار رہائش گاہ کیس میں حکم امتناع جاری

Spread the love

یہ بھی دیکھیں

لاہور(صرف اردو کورٹ رپورٹر)لاہور ہائی کورٹ نے لاہور کے علاقہ گلبرگ میں واقع سابق وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے پنجاب حکومت کے اقدام کے خلاف حکم امتناع جاری کر دیا۔پیرکو لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے اسحاق ڈار کی اہلیہ تبسم اسحاق ڈار کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت کی ، دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل رانا مشہود ایڈووکیٹ نے دلائل دیئے۔

عدالت نے اس حوالہ سے پنجاب حکومت سے 10روز میں جواب طلب کر لیا

تبسم اسحاق ڈار کی جانب سے دائر درخواست میں مئوقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت نے اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کو غیر قانونی طور پر پناہ گاہ میں تبدیل کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کی نیلامی کے خلاف حکم امتناع جاری کر رکھا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کا اقدام خلاف آئین اور خلاف قانون ہے۔ پنجاب حکومت نے ہائی کورٹ کے حکم کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت (ن)لیگی رہنمائوں کو انتقام کا نشانہ بنارہی ہے۔

یہ بھی آپ کی پسند ہو سکتی ہے

پنجاب حکومت نے اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کو غیر قانونی طور پر پناہ گاہ میں تبدیل کیا،درخواست

عدالت نے درخواست کو فوری طور سماعت کے لئے منظورکرتے ہوئے پنجاب حکومت کی جانب سے اسحاق ڈار کی رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کرنے کے اقدام کے خلاف حکم امتناع جاری کردیا ہے اور پنجاب حکومت سے اس معاملہ پر 10روز میں جواب طلب کر لیا ہے۔ واضح رہے کہ جمعہ کے روز پنجاب حکومت کی جانب سے اسحاق ڈار کی لاہور میں واقع رہائش گاہ کو پناہ گاہ میں تبدیل کیا تھا اور اس میں 50کے قریب مسافراور بے گھر افراد کی رہائش اور کھانے پینے کا انتظام کیا تھا۔ پنجاب حکومت کے اس اقدام کے خلاف اسحاق دار کے صاحبزادے علی ڈار نے عدالت جانے کا اعلان کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں