saminar 191

عالمی برادری مسئلہ کشمیر پر بھارت پر دبا وڈالے

Spread the love

saminar

وسلو (ویب ڈیسک)ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں کشمیر پر منعقد ہونے والے ایک سیمینار کے مقررین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام پر مظالم ختم کروانے اور مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے بھارت پر دبا وڈالے۔ناروے کے اہم تھنک ٹینک پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اوسلو کے زیراہتمام مسئلہ کشمیر اور جنوبی ایشیا میں اس کے مضمرات کے عنوان سے منعقد ہونے والے سیمینار میں ناروے کے دانشور، سیاسی اور سماجی امور کے متعدد محققین اور اسکالرز نے شرکت کی۔سمینار کے دوران سینٹ آف پاکستان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین سید، جنوبی ایشیا کے بارے میں تحقییقاتی ادارے ساسی کی چیئرپرسن اور وزارت دفاع پاکستان کی مشیر ڈاکٹر ماریہ سلطان نے بطور مہمان سپیکر خطاب کیا جبکہ ڈائریکٹر پیس ری سرچ انسٹی ٹیوٹ اوسلو(پری او) کرستئن برگ ہارپویکن نے مہمانوں کا تعارف کروایا اور سیمینار کا مقصد بیان کیا۔ مشاہد حسین سید سیمینار

پری او کی سینئر ری سرچر مس کایا بورچہ رے وینک اور سابق رکن نارویجن پارلیمنٹ خالد محمود نے سیمنار کے دوسرے میں گفتگو کی۔ ان کے علاوہ ناروے کے سابق وزیراعظم شیل مانگنے بوندے ویک، کشمیر اسکینڈے نوین کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سردار علی شاہنواز خان اور ناروے کی پارلیمنٹ میں ایس وے پارٹی کے رکن پیٹر ایدے نے سیمینار کے دوران سوال و جواب کے سیشن میں اپنے تاثرات بیان کئے۔اپنے خطاب میں سینٹر مشاہد حسین سید نے کہاکہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ تنازعہ ہے۔ کشمیری اپنے حق خودارادیت کی جدوجہد میں ہزاروں جانوں کی قربانی دے چکے ہیں۔ پاکستان مظلوم کشمیریوں کے حق میں طویل عرصے سے آواز بلند کررہا ہے۔ پاکستان جنوب ایشیا میںامن چاہتا ہے اور خطے میں امن کے لیے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق، مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ضروری ہے۔

مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اور کشمیریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی برادری کو بھارت پر دباو ڈالنا پڑے گا،سابق نارویجن وزیر اعظم

مشاہد حسین سید نے کہاکہ جنوب ایشیا ترقی کے حوالے سے ایک ابھرتا ہوا خطہ ہے لیکن جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوجاتا ہے، خطے کی ترقی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا ہے۔ یہ کئی ملین افراد کے حقوق اور ان کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے۔انھوں نے کہاکہ امن کے حوالے سے ناروے کا دنیا میں ایک اہم کردار ہے اور مسئلہ کشمیر پر بھی ناروے سے مذاکرات شروع ہونے چاہیے۔ عالمی برادری کو بھی چاہیے کہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ڈاکٹر ماریہ سلطان نے کہا کہ پانچ اگست سیابتک مقبوضہ کشمیر کی صورتحال بہت ہی خراب ہوگئی ہے، بھارت نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرکے مقبوضہ وادی کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ، مودی حکومت نے شہریت کا متنازعہ بل پیش کرکے پورے ملک میں افراتفری پیدا کردی ہے۔

پورے ہندوستان میں لوگ سراپا احتجاج ہیں۔ڈاکٹر ماریہ نے اپنے خطاب میں تنازعہ کشمیر کے تاریخی پہلووں اور موجودہ صورتحال پر سیمینار کے شرکا کو بریف کیا۔اس سے قبل ڈائریکٹر پیس ری سرچ انسٹی ٹیوٹ اوسلو(پری او)کرستئن برگ ہارپویکن نے مہمان سپیکرز کا تعارف کروایا اور سیمینار کا مقصد بیان کیا۔اس موقع پر پری او کی سینئر ری سرچر مس کایا بورچہ رے وینک نے بھی اپنی گفتگو میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں کہاکہ یہ کوئی علاقائی تنازعہ نہیں اور نہ ہی دوطرفہ مسئلہ ہے بلکہ اس کی حیثیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔سابق رکن نارویجن پارلیمنٹ خالد محمود نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کے سیاسی حقوق کا مسئلہ ہے اور کشمیری طویل عرصے سے اپنے حق خودارادیت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔

ناروے کے سابق وزیراعظم شیل مانگنے بندے ویک نے کہاکہ مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے لیے اور کشمیریوں کے انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے عالمی برادری کو بھارت پر دباو ڈالنا پڑے گا۔ ناروے کے سابق وزیراعظم اس سے قبل مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے کوشاں رہے ہیں اور اس سلسلے میں انھوں نے پچھلے عرصے کے دوران مقبوضہ کشمیر اور آزاد کشمیر کا دورہ بھی کیا ہے۔کشمیر اسکینڈے نیوین کونسل کے سربراہ سردار علی شاہنواز خان جو کافی عرصے سے مسئلہ کشیر کے حوالے سے کوشاں ہیں، نے سیمینار کے دوران اپنے تاثرات بیان کئے اور اس موضوع پر تین سوالات پیش کئے۔علی شاہنواز خان جو آل پارٹیز حریت کانفرنس کے نمائندے بھی ہیں، نے تجویز پیش کی کہ چونکہ بھارت اقوام متحدہ کی سلامتی کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل سے انکاری ہے، اس لئے عالمی ادارے کی انہی قراردادوں کے مطابق پاکستان کو تنازعہ کشمیرکا کیس عالمی عدالت انصاف میں پیش کرنا چاہیے۔

پاکستان جنوب ایشیا میںامن چاہتا ہے اور خطے میں امن کے لیے کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق، مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ضروری ہے۔مشاہد حسین

انھوں نے حالیہ دنوں کشمیری بچوں کو ان کی سوچ بدلنے کے بہانے کیمپوں میں رکھنے کے امکان کے بارے میں بھارتی چیف آف ڈیفنس سٹاف اور مقبوضہ کشمیر کے پولیس چیف کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے سوال کیا کہ بھارت ہٹلر کے راستے پر چل رہا تاکہ کشمیر کے حوصلے کو پست کرسکے۔ انھوں نے کہاکہ عالمی برادری کی طرف سے ایک مشترکہ ردعمل کی ضرورت ہے تاکہ بھارت کو اس طرح ہتھکنڈوں سے روکا جاسکے۔ رکن نارویجن پارلیمنٹ پیٹر ایدے نے کہاکہ ہم نے اس سے پہلے بھی مسئلہ کشمیر پر بات کی ہے اور ہمیں بتایا جائے کہ ہم اس مسئلے کو مزید اجاگر کرنے کے لیے خاص طور وہاں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف کس طرح آواز اٹھا سکتے ہیں اور اس مسئلے کے حل کے لیے کوششوں میںکس طرح کا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ناروے کے امور پر گہری نظر رکھنے والے پاکستانی ریسرچ سکالر سید سبطین شاہ نے بتایاکہ ناروے کے ایک اہم ادارے پری او میں منعقد ہونے والا یہ سیمینار بہت ہی اہمیت کا حامل تھا۔ اس کے مسئلہ کشمیر کے حوالے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔دراین اثنا اوسلو میں سفارتخانہ پاکستان کے زیراہتمام کمیونٹی کی ایک تقریب کے دوران سنیٹر مشاہد حسین اور ڈاکٹر ماریہ سلطان نے مسئلہ کشمیر پر گفتگو کی اور ایک پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

نارویجن پاکستانی کمیونٹی کی چیدہ چیدہ شخصیات نے تقریب میں شرکت کی۔ اس موقع پر ناروے میں پاکستان کے سفیر ظہیر پرویز خان، کمیونٹی ویلفیئر اتاشی خالد محمود اور قونصلر زیب طیب عباسی بھی موجود تھے۔مشاہد حسین سید اور ڈاکٹر ماریہ سلطان نے بتایاکہ ناروے کا عالمی برادری میں امن کے حوالے سے اہم کردار ہے اور انہیں امید ہے کہ ناروے مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کی کوششوں میں اپنا حصہ ڈالے گا۔ ہماری خواہش ہے کہ ناروے سے مسئلہ کشمیر پر ڈائیلاگ کا سلسلہ شروع ہو جس میں ناروے کے اہم حلقے کردار ادا کریں۔

مشاہد حسین سید سیمینار