13

دہشت گردی سے بچاؤ اور اس کے انسداد کے لیے وزارت داخلہ اور UNODC کے اشتراک سے 25 ملین ڈالر کے پروگرام کا آغاز

Spread the love

اسلام آباد(مہتاب پیرزادہ سے) اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم (UNODC) کے پاکستان آفس اور وزارت داخلہ کے اشتراک سے چار سالہ تکنیکی معاونت کے فریم ورک کا آغاز آج کیا گیا۔ اس پروگرام کا مقصد دہشت گردی کے موثر انسداد کے لیے پاکستان میں فوجداری انصاف کے نظام کو مضبو ط بنانا ہے۔ UNODC کا یہ مینڈیٹ ہے کہ وہ رکن ریاستوں کو دہشت گردی سے بچاؤ اور اس کے انسداد کے لیے تکنیکی معاونت فراہم کرے اور ہماری تکنیکی معاونت اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی کی عالمی حکمت عملی کے فریم ورک میں آتی ہے، یہ حکمت عملی2006ء میں منظور کی گئی اور اس کے فوری بعد اس کی توثیق کر دی گئی۔ یہ حکمت عملی دراصل رکن ممالک کے درمیان ایک اتفاق رائے ہے کہ مقامی اور عالمی سطح پر دہشت گردی سے بچاؤ اور اس کے انسداد کے لیے ایک متفقہ پالیسی اور سٹرٹیجک اپروچ اختیار کی جائے گی۔

پاکستان دہشت گردی سے بچاؤ کا پروگرام (PTP2) حکومت پاکستان اور UNODC کی مشترکہ کاوش ہے جو وفاقی اور صوبائی سطح پر متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے جامع مشاورت کے بعد تشکیل دیا گیا ہے۔اس فریم ورک کےتحت پراجیکٹس کی تکمیل کے لیے تمام صوبوں کو بلاامتیاز معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ فوجداری نظام انصاف سے منسلک حکام بشمول قانون نافذ کرنے والے اداروں، استغاثہ اور عدلیہ کی صلاحیتوں و علم میں اضافہ کر کے قانون کی بالادستی، گورننس اور انسانی حقوق کے مقاصد کو حاصل کیا جا سکے۔ اپنی افتتاحی تقریر میں UNODC کے ملکی نمائندے ڈاکٹر جیرمی ملسم نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کے بارے میں ابتدائی بحث و مباحثے کے بعد سے ہم نے کافی پیشرفت کی ہے۔اس موقع پر سیکرٹری وزارت داخلہ مسٹر یوسف نعیم نے نئے شروع ہونے والے پروگرام کے مقاصد پر روشنی ڈالی اور پاکستان کو معاونت کی فراہمی کے حوالے سے UNODC کی کوششوں کا اعتراف کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان سرگرمیوں پر عملدرآمد سے عالمی تعاون بڑھے گا، بالخصوص حال ہی میں بننے والے قانون “باہمی قانونی تعاون، فوجداری معاملات کا ایکٹ، 2019ء” کے تحت وزارت داخلہ میں قائم ہونے والی سنٹرل اتھارٹی کے ذریعے دہشت گردی سے متعلقہ مقدمات میں اعانت کو بڑھایا جائے گا۔یہ بات اہم ہے کہ اس فریم ورک کے ذریعے صوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی کہ وہ دہشت گردی سے بچاؤ اور اس کے انسداد کے لیے یکساں اور مشترکہ طریقہ کار اختیارکریں نیز اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے معلومات کا تبادلہ کریں۔

UNODC مندرجہ ذیل موضوعات پر تکنیکی معاونت فراہم کرے گا؛قانون کی بالادستی کے حوالے سے پولیس، استغاثہ اور ججز کی صلاحیت سازیشکار افراد کا تحفظ اور معاونت⦁دہشت گردی کی مالی اعانت کی روک تھام⦁وسیع پیمانے پر رابطہ کاری کے ذریعے نوجوانوں اور کمیونٹی کی شمولیتعالمی تعاون میں اضافہپروگرام کے متوقع نتائج نیشنل ایکشن پلان اور پاکستان کی قومی داخلی سکیورٹی کی پالیسی پر عملدرآمد میں ممدو معاون ہوں گے۔UNODC کے دہشت گردی سے بچاؤ کے شعبے کے سربراہ مسٹر مسعود کریمی پور نے اس موقع پر کہا کہ ” میں حکومت پاکستان کا مشکور ہوں کہ اس پروگرام کی تشکیل کے لیے UNODC کے ساتھ مل کر کام کیا گیا، جو کہ اقوام متحدہ کی انسداد دہشت گردی حکمت عملی پر عملدرآمد کے سلسلے میں ہمارے تعاون کو بڑھائے گا۔”وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز نے اپنے اختتامی کلمات میں دہشت گردی سے بچاؤ کے شعبے کے سربراہ مسٹر مسعود کریمی اور عالمی برادری کے دیگر ارکان کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اس پراجیکٹ کے ذریعے حکومت پاکستان اور انسداد دہشت گردی کے لیے کام کرنے والے اس کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں انتظار ہے کہ آنے والے سالوں میں UNODC کے ساتھ مل کر اس پروگرام پر عملدرآمد کے لیے کام کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں