suspicios case 161

نقیب اللہ قتل کیس میں پولیس اہلکاروں کی درخواست ضمانت مسترد

Spread the love

ٹرائل کورٹ تین ماہ میں اس مقدمے کا فیصلہ کرے۔ سندھ ہائیکورٹ نے محفوظ فیصلہ سنادیا

کراچی(کورٹ رپورٹر، کرائم رپورٹر)عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں پولیس اہلکاروں کی درخواست ضمانت مسترد کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ٹرائل کورٹ تین ماہ میں اس مقدمے کا فیصلہ کرے۔تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے نقیب اللہ قتل کیس میں ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں پولیس اہلکاروں کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ تین ماہ میں اس مقدمے کا فیصلہ کرے، پولیس اہلکار ملزم اللہ یار، نازک، شکیل فیروز ودیگر نے درخواست دائر کی تھی۔واضح رہے کہ اس کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم 25مارچ 2019 کو عائد کی گئی تھی۔عدالت نے اس مقدمہ قتل میں فرد جرم عائد کی تو سابق پولیس افسر راؤ انوار سمیت دیگر ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا جب کہ عدالت نے آئندہ سماعت پر مدعی مقدمہ اور عینی شاہدین کے بیان ریکارڈ کرنے والے مجسٹریٹ کو طلب کر لیا تھا۔ یاد رہے کہ  اس مقدمہ میں 13 پولیس اہلکار و افسران عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں جب کہ راؤ انوار، ڈی ایس پی قمر سمیت 5 ملزمان ضمانت پر رہا ہیں۔پولیس کے مطابق ملزمان پر اغوا اور قتل سمیت دیگر الزامات ہیں جب کہ ملزمان کے خلاف تھانہ سچل میں محمد خان کی مدعیت میں مقدمہ درج ہے۔ 27سالہ نسیم اللہ عرف نقیب اللہ محسود کو 13 جنوری 2018 کو ملیر کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں مبینہ پولیس مقابلے کے دوران جاں بحق کر دیا گیا تھا جب کہ اس کی لاش کی شناخت 17 جنوری کو ہوئی تھی۔

اس مقدمہ میں سابق ایس پی ملیر راو انوار کافی عرصہ تک روپوش رہے اور عدالت کے سخت احکامات اور ریمارکس کے بعد ایک روز اچانک وہ عدالت میں پیش ہو گیا۔ راو انوار میں عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے جس کے باعث وہ روپوش ہو گیا تھا۔

نقیب اللہ قتل کیس

اپنا تبصرہ بھیجیں