180

بڑے اہداف کیلئے کشتیاں جلانا پڑتی ہیں ،بتدریج تبدیلی کی طرف بڑھ رہے ہیں، عمران خان

Spread the love

بڑے اہداف کیلئے کشتیاں

ڈیووس (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کامیابی کیلئے پیچھے مڑنے کا کوئی راستہ نہیں، نظریات کے بغیر قومیں تباہ ہو جاتی ہیں، اکثر لوگ مشکل میں ہمت ہارجاتے ہیں، کرکٹ ٹیم سے نکالنے پر واپسی میں تین سال لگے، انسان کی اصل کامیابی برے حالات میں بھی پرامید رہنا ہے۔ بریک فاسٹ میٹ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا عمران خان نے کہا کہ کرپٹ سٹیٹس کو پاکستان کا بھی مسئلہ ہے، کرپٹ افراد اداروں کو تباہ کر دیتے ہیں، ہم آہستہ لیکن بتدریج تبدیلی کی جانب بڑھ رہے ہیں، 40 سال سے تنقید کا سامنا کر رہا ہوں، پاکستان کی ترقی کیلئے بہتر نظام حکومت ہونا نا گزیر ہے، سابقہ حکومتوں نے افرادی قوت، تعلیم و صحت کیلئے کچھ خرچ نہیں کیا۔

عمران خان کا کہنا تھا، کامیابی حاصل کرنے کیلئے کوئی پلان بی نہیں ہوتا، 60 کی دہائی میں پاکستان بھرپور ترقی کر رہا تھا اور ہم رول ماڈل تھے، ہماری ڈگریوں کی پذیرائی ہوتی تھی، میرا یقین ہے گڈ گورننس کے باعث پاکستان ترقی کرے گا۔وزیراعظم نے کہا بھارت پاکستان کے مقابلے میں 7 گنا بڑا ہے، ہم نے کئی بار اسے شکست دی، بڑے ہدف کو پانے کیلئے آپ کو اپنی کشتیاں جلانا پڑتی ہیں، ہم تعلیم اور انسانوں پر پیسہ خرچ نہیں کرتے، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا میرا وڑن ہے، ہم صنعتکاری کو فروغ دے رہے ہیں، غربت میں کمی کیلئے ا حساس پروگرام شروع کر رہے ہیں، حکومت سرمایہ کاروں کو سہولتیں دے رہی ہے۔ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کا مؤقف عالمی قیادت تک پہنچا دیا ،سب سے بڑا چیلنج کرپشن کا خاتمہ ہے ،ترقی صرف گڈگورننس سے ممکن ہے ،اداروں کا غیر مستحکم ہونا ملک کیلئے نقصان دہ ہے ،پا کستان کی ترقی کیلئے نظام حکومت بہتر ہو نا نا گزیر ہے ،

پہلے سال خسارے میں 75 فیصد کمی کی ،صرف سیاحت کے ذریعے ہی پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامز ن کیا جا سکتا ہے ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ڈیووس میں دنیا کی اہم شخصیات سے ملنے کا موقع ملتا ہے، انہوں نے ڈیووس میں پاکستان کا مؤقف عالمی قیادت تک پہنچایا، ڈیووس میں قیام بہت ہی مہنگا ہے، میں حکومت کا پیسا اپنے قیام پر خرچ نہیں کرنا چاہ رہا تھا ڈیووس میں میرے قیام کو اکرام سہگل اور محمد عمران اٹھارہے ہیں ڈیووس آنے والے وزرائے اعظم میں سب سے سستا دورہ میرا ہوگا۔انہو ںنے کہا کہ جب کرکٹ شروع کی تو پہلے ٹیسٹ میچ میں ہی مجھے ڈراپ کر دیا گیا تھا مجھے ٹیم میں واپس آنے کے لئے 3سال لگے ،انسان کی اصل کامیابی مشکل حالات میں پرامید رہنا ہے، آگے بڑھنے کے لیے مشکل حالات میں جینے کا سلیقہ آنا چاہیے، اکثر لوگ برے حالات میں ہمت ہار دیا کرتے ہیں، میں نے وقت سے سیکھا کہ مشکل حالات کا مقابلہ کیسے کرتے ہیں، جب میری والدہ کو کینسر ہوا تو پتہ چلا کہ پاکستان میں کینسر اسپتال ہی نہیں۔

والدہ کی تکلیف دیکھ کر فیصلہ کیا پاکستان میں کینسر اسپتال بناوَں گا کینسر ہسپتال کی تعمیر کے وقت 20بہترین ڈاکٹروں سے مشاورت کی 20میں سے 19ڈاکٹروں نے کہا کہ آپ پاکستان میں کینسر ہسپتال نہیں بنا سکتے آج شوکت خانم میں 75 فیصد غریب لوگوں کا علاج ہورہا ہے اور اسپتال پر سالانہ 10ارب روپے خرچ ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جب میںسیا ست میں آیا تب بھی سب میر امذاق اڑاتے تھے جب سیاست میں آیا تو اس وقت سیا سی جما عتیں باری باری اقتدار میں آتی تھیں 2جما عتوں نے ہی باریاں لگائی ہو ئی تھیں انسان اللہ تعالیٰ کی بہترین تخلیق ہے ترقی کر نے کے لئے پہلے آپ کو بڑئے خواب دیکھنے ہو تے ہیں بڑے اہداف کو پا نے کے لئے آپ کواپنی کشتیا ں جلا نی پڑتی ہیں پا کستان میں ترقی کرنے کی بہت صلا حیت مو جو د ہے 60کی دہا ئی میں ہم نے دیکھا پا کستان ترقی کی دوڑ میں سب سئے آگے تھا پا کستان کی ترقی کیلئے بہتر نظام حکومت ہو نا نا گزیر ہے پا کستان ایک نظریے کے تحت وجو د میں آیا ہمیں وہ کبھی فرامو ش نہیں کر نا چاہیے قائد اعظم پاکستان کو اسلا می فلا حی ریا ست بنا نا چاہتے تھے ۔ انہو ںنے کہا کہ کامیابی کے لیے پیچھے مڑنے کا کوئی راستہ نہیں، کامیابی کے حصول کیلیے جدوجہد میں کبھی پیچھے مڑ کر نہ دیکھیں، اس کے لیے کوئی پلان بی نہیں ہونا چاہیے،
بڑے اہداف کیلئے کشتیاں

اپنا تبصرہ بھیجیں