77

متنازع شہریت ترمیمی قانون ، احتجاج نے پورے بھارت کو لپیٹ میں لے لیا

Spread the love

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) متنازع شہریت ترمیمی قانون

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف بنائے گئے کالے قانون کے خلاف احتجاج نے پورے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، شاہین باغ میں جہاں خواتین کے احتجاج کو ایک ماہ کا عرصہ گزرچکا ہے، وہیں ریاست کرناٹک کے شہر منگلورو میں ایک لاکھ کے قریب افراد کشتیوں کے ذریعے مظاہرے میں شریک ہوئے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق مسلم مخالف شہریت قانون کے خلاف جگہ جگہ احتجاج، وقت گزرنے کے ساتھ مختلف مقامات پر مظاہرین کی تعداد میں مزید اضافہ ہونے لگا،

دلی کے علاقے شاہین باغ میں مسلم خواتین کا احتجاج مزاحمت کی مثال بن چکا ہے جہاں مظاہرین ایک ماہ سے زائد عرصے سے سراپا احتجاج ہیں، ان خواتین کا جذبہ دیکھ کر ریاست اتر پردیش اور بہار میں بھی خواتین کالے قانون کے خلاف احتجاج کرنے نکل پڑیں۔شاہین باغ میں مسلم خواتین سے اظہار یکجہتی کے لئے بھارتی پنجاب سے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ سیکڑوں سکھ اظہاریکجہتی کیلئے پہنچے جہاں انہوں نے مظاہرین کیلئیلنگر کا اہتمام کیا۔ ادھربھارتی ریاست کرناٹک کے شہر منگلورو میں ایک لاکھ کے قریب افراد نے متنازع قانون کے خلاف احتجاج کیا جس میں دور دراز علاقوں سے لوگ کشتیوں پر سفر کر کے پہنچے۔دوسری جانب جامعہ ملیہ اسلامیہ کے باہر طلبا پر تشدد کے خلاف احتجاج ہوا جس میں سیکڑوں افراد کے ساتھ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے طلبہ نے بھی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:بھارت, پْرتشدد مظاہرے جاری، 14 افراد ہلاک

بھارتی معروف سوشلسٹ لیڈر شرد یادو نے متنازع شہریت ترمیمی قانون کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں جنگل راج سے بھی براحال ہے اور غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے اور پولیس کا اتنا ظلم تو ایمرجنسی میں بھی نہیں ہواتھا۔نشریاتی ادارے کے مطابق سوشلسٹ لیڈر شردیادو نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز لکھنؤمیں گزشتہ دنوں متنازع شہریت ترمیمی قانون کیخلاف پرامن تحریک کے دوران گرفتار کرنے کے بعد ضمانت پر رہا ہوئے

انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس )کے سابق افسر ایس آر داراپوری ،سنسکرت کارکن دیپک کبیر ،صدف ناز اور ریاضی کے ٹیچر رہے پون امبیدکر کی حمایت میں پریس کلب میں منعقدہ پریس کانفرنس میں کیا۔انھوں نے 19دسمبر کے واقعہ کی تفصیل بتائی اور جیل میں اپنے ساتھ غیر انسانی سلوک اوربدترین تشدد کی دردناک داستان سنائی۔
متنازع شہریت ترمیمی قانون

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...