60

امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا نہیں کررہے،شاہ محمود

Spread the love

نیویارک/واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ اور ایران کے

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاہے کہ ہم امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا نہیں کررہے بلکہ کشید گی میں خاتمے کی کوششیں کر رہے ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیوگوٹیریس، صدر اور سلامتی کونسل کے صدر سے ملاقاتیں کیں جن میں مشرق وسطیٰ اور مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پرتبادلہ خیال کیا گیا۔نیویارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بھارتی خلاف ورزیاں تشویشناک ہیں، عالمی برادری کشمیریوں کو بھارتی جبر سے نجات دلانے کے لیے کردار ادا کرے۔

یہ بھی پڑھیں:اقوام متحدہ میں مقبوضہ کشمیرپراجلاس’ شاہ محمود قریشی تین روزہ دورے پر امریکہ روانہ

انہوں نے کا کہ مسئلہ کشمیر سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر موجود ہے، سلامتی کونسل میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر گفتگو کی گئی، وادی کی صورتحال بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں ہے، کئی ملکوں کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تشویش ہے اورکئی ملک دوطرفہ بات چیت پر زور دے رہے ہیں، دوطرفہ مذاکرات کیلئے پاکستان مخلص ہے، بھارت پیچھے ہٹ رہاہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان مشرق وسطیٰ کے بحران میں فریق نہیں بنے گا،ہم تنازع کا نہیں امن کا حصہ بنناچاہتے ہیں۔ایک ویڈیو بیان میںوزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان خطے ، افغانستان میں امن کا خواہاں ہے پاکستان نے جو مصالحانہ ذمہ داری اٹھائی تھی اسے با عافیت نبھایا ہے ہماری خواہش ہے کہ خطے میں امن قائم ہو اور اس کا فائدہ افغانستان کو بھی ہو اور پاکستان کی عوام کو بھی ہو۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کچھ عرصے سے امریکہ اور افغانستان کے درمیان مذاکرات جاری تھے پاکستان خواہشمند تھا مذاکرات پر کوئی پیش رفت ہوکیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان افغانستان اور اس خطے کو امن و استحکام کی ضرورت ہے اس سلسلے میں ایک اچھی پیش رفت سامنے آئی ہے متشدد رویوں میں کمی کا جو مطالبہ تھا طالبان نے اس پر آمادگی کا اظہار کر دیا ہے ۔اس سے امن معاہدے کی طرف پیش رفت ہوئی ہے خوشی اس بات کی ہے کہ پاکستان نے جو مصالحانہ ذمہ داری اٹھائی تھی اسے با عافیت نبھایا ہے ہماری خواہش ہے کہ خطے میں امن قائم ہو اور اس کا فائدہ افغانستان کو بھی ہو اور پاکستان کی عوام کو بھی ہو۔
امریکہ اور ایران کے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں