سپریم کورٹ رپورٹس مسترد 169

نیب آرڈیننس لا کر نیب کے پر کاٹ دیئے ہیں، تین ماہ میں حکومت نیا نیب قانون لائے: چیف جسٹس گلزار احمد

Spread the love

نیب آرڈیننس لا کر

سپریم کورٹ نے حکومت کو نیا نیب قانون لانے کے لئے تین ماہ کی مہلت دے دی

کیا حکومت چاہتی ہے کہ نیب کے قانون کو فارغ کر دیں؟نیب میں تو 10،10سال کیس پڑے رہتے ہیں

سپریم کورٹ نیب کو پلی بارگین سے روک چکی ہے جب تک پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر لیتی یہ اختیار استعمال نہیں ہو گا

تین ماہ میں مسئلہ حل نہ ہوا تو عدالت قانون اور میرٹ کو دیکھتے ہوئے کیس کا فیصلہ کردے گی

اسلام آباد (کورٹ رپورٹر)سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکومت کو نیا نیب قانون لانے کے لئے تین ماہ کی مہلت دے دی۔ جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ معاملہ کو زیادہ طول نہ دیا جائے۔ حکومت نے نیب آرڈیننس لا کر نیب کے پر کاٹ دیئے ہیں۔ کیا حکومت چاہتی ہے کہ نیب کے قانون کو فارغ کر دیں؟نیب میں تو 10،10سال کیس پڑے رہتے ہیں۔ کسی دفعہ کو غیر آئینی قراردیا تو نیب فارغ ہو جائے گا۔ تین ماہ میں معاملہ حل نہ ہوا تو کیس کا فیصلہ کریں گے۔سپریم کورٹ نیب کو پلی بارگین سے روک چکی ہے جب تک پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر لیتی یہ اختیار استعمال نہیں ہو گا۔ بدھ کو چیف جسٹس گلزار احمدکی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے بینچ نے کرپشن کی رقم کی رضاکارانہ واپسی کے حوالہ سے ازخود نوٹس پر سماعت کی۔

عدالت کا کہنا تھا کہ توقع کرتے ہیں کہ حکام نیب قانون کے حوالہ سے مسئلہ کو حل کر لیں گے اور نیب کے حوالہ سے مناسب قانون پارلیمنٹ سے پاس ہوجائے گا اور اس حوالہ سے پارلیمنٹ ہی مجاز ادارہ ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان انورمنصور خان کے مطابق سینیٹر فاروق حمید نائیک نیب قانون میں ترمیم کابل پارلیمنٹ میں پیش کرچکے ہیں۔ عدالت کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل کے مطابق حکومت نیب قانون میں ترمیم کے لئے تما م سیاسی جماعتوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تین ماہ میں مسئلہ حل نہ ہوا تو عدالت قانون اور میرٹ کو دیکھتے ہوئے کیس کا فیصلہ کردے گی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نیب کی شق 25 اے کے حوالہ سے ترمیم ہو گئی ہے ، کیا یہ معاملہ اب حل ہو گیا ہے۔ جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ نیب آرڈیننس کا سیکشن 25اے ختم ہوا یا اس میں ترمیم ہوئی ۔

اس پر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں میرا نیب آرڈیننس سے متعلق پرائیویٹ ممبرز بل موجود ہے ، کمیٹی سے منظوری کے بعد معاملہ ایوان میں جائے گا۔ فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ بل کے مطابق نیب آرڈیننس کے سیکشن 25اے کو مکمل طور پر ختم کیا جارہا ہے ۔ جبکہ اسد کھرل کا کہنا تھا کہ کیس 2016سے عدالت میں زیر سماعت ہے اور 15تاریخیں ہو چکی ہیں

نیب آرڈیننس لا کر

اپنا تبصرہ بھیجیں