a great writer aqila mansoor jadon 31

فوج ایک حقیقت: عقیلہ منصور جدون

Spread the love

کچھ عرصے سے جتنا فوج کو زیر بحث لایا جا رہا ہے اس سے قبل ایسا نہیں تھا۔ حالانکہ فوج کا کردار شروع سے لے کر اب تک وہی ہے۔ تو پھر یہ سب کیا ہے اور کیوں ہے ؟
اسے سمجھنے کے لئے تھوڑا ماضی میں سفر کرنا پڑے گا۔

حضرت موسی (علیہ السلام ) کے دور تک واپس چلتے ہیں۔ فرعون کے خلاف بنی اسرائیل کی مزاحمت حضرت موسی کی قیادت میں شروع ہوئی جو مذہبی لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ فوجی سپہ سالار بھی تھے۔ حقیقتاً مذہبی معاشرتی اور فوجی قیادت میں کوئی واضح تقسیم نہیں تھی۔

بعد میں بنی اسرائیل نے جب مختلف انبیاء کو قتل کرنے کا سلسلہ شروع کیا تو کچھ عرصے کے لئے مذہبی قیادت پر معاشرتی قیادت جو کہ فوجی قیادت بھی تھی غالب آ گئی۔
نبی آخر زمان نے جب مدینہ میں فلاحی مملکت کی بنیاد رکھی تو ایک دفعہ پھر یہ تینوں قوتیں ایک ہی ہستی میں سمٹ گئیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) مذہبی راہنما ہونے کے ساتھ معاشرے کے سردار اور فوجی سپہ سالار بھی تھے۔ یہ صورتحال کافی حد تک خلفائے راشدین تک قائم رہی۔
بعد میں جب مسلمانوں میں ملوکیت کا دور آیا تو آہستہ آہستہ مذہبی لیڈر شپ اس تکون سے نکلنے لگی۔ معاشرے کا حاکم بادشاہ جو فوجی سپہ سالار بھی ہوتا تھا ،زیادہ طاقتور ہو گیا۔ مسلمانوں میں کم و بیش یہی حالات چلتے رہے۔

وہی بادشاہ طاقتور رہا جس کو فوج کی حمایت حاصل رہی یا جس کے ساتھ فوج کی وفاداریاں رہیں۔ اس سارے عمل میں عوام نام کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ عوام کی جگہ رعایا تھی۔ جس کا طاقت کے ان تین ستونوں، مذہبی راہنما، فوج اور بادشاہ کے ساتھ کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا۔

لیکن جب مغرب میں صنعتی انقلاب کے ساتھ حالات بدلے، طاقت کا توازن مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل کر مغرب کے پاس گیا تو نتیجتاً مغربی نظریات حکومت اور مغربی فلسفہ حکمرانی مسلمانوں میں بھی مقبول ہوے۔ مغربی جمہوری حکومتوں کی طرز پر یہاں بھی جمہوری حکومتیں قائم ہونا شروع ہوئیں۔ مگر یہ انداز حکومت مسلمانوں کے لئے اجنبی تھا، یا یوں کہیں مسلم معاشرہ صنعتی ترقی کے اس معیار پر نہ تھا جہاں جمہوری حکومت پنپ سکتی۔

قیام پاکستان کے بعد پہلے دس سالوں میں جب جمہوری حکومت کو استحکام نہ مل سکا، تو جنرل ایوب خان کی فوجی مداخلت کی راہ ہموار ہوئی۔ جسے پھر دس سال بعد ذوالفقار علی بھٹو اور شیخ مجیب رحمان نے عوامی طاقت کے بل بوتے پر للکارا۔ عوام کو پہلی بار اپنی طاقت کا احساس ہوا۔ فوج پیچھے ہٹی اور عوامی جمہوری حکومت قائم ہوئی۔ عوام کی پہلی نمائندہ حکومت کو خود سیاستدانوں نے سبوتاج/sabotage کیا۔ جنرل ضیاالحق کو خود موقع فراہم کیا مداخلت کرنے کا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا۔ عوام کوشش کر کے، قربانیاں دے کر فوجی حکومت کو جمہوریت کی بحالی پر مجبور کرتے اور سیاستدان ملکی مفاد کی بجائے ذاتی مفاد میں ایک دوسرے کے خلاف اس حد تک چلے جاتے کہ فوج کو مداخلت کا جواز مہیا کر دیتے۔

اس وقت حالات اس نہی پر پہنچ چکے ہیں کہ اب سٹیٹ کے تینوں ستون انتظامیہ، پارلیمنٹ، عدلیہ اور فوج طاقت کے حصول کے لئے باہم دست و گریباں ہیں۔

فوج پر سب سے بڑا الزام سول حکومت میں بے جا مداخلت کا ہے۔

آئیے تجزیہ کرتے ہیں کہ یہ الزام کب اور کیسے لگنا شروع ہوا۔

ذوالفقار علی بھٹو کی ساری ایجی ٹیشن میں بائیں بازو عناصر کا غلبہ تھا۔ اس وقت کے لیفٹ کا قبلہ و کعبہ روس اور چین تھے۔ ان کا سارا زورمارکسسٹ اور ماؤسٹ فلاسفی پر تھا۔ طبقاتی تفریق ختم کرنے اور روٹی کپڑا مکان جیسی بنیادی ضروریات کی فراہمی ان کا نعرہ تھا۔ اور مخالفت کے لئے فوج نہیں بلکہ مذہب ان کا ہدف تھا۔ بھٹو کو تمام سیاستدانوں نے جو دائیں بازو یا رائیٹ کی روایتی سیاست کے علمبردار تھے، جنرل ضیاالحق فوج کے ذریعے اپنے رستے سے ہٹایا۔ پھر عدلیہ اور مسلم لیگ جو ان رائیٹسٹ جماعتوں میں سب سے بڑی جماعت تھی نے مل کر اس فوجی مداخلت کو تسلیم کیا اور اس کے ہاتھ مضبوط کیے۔ بھٹو کے اور جمہوریت کے قتل پر مٹھائیاں بانٹی۔

ضیاالحق کے بعد جب سیاسی جماعتوں کو جکومت سازی کا موقع ملا تو مسلم لیگ جو فوج کی حمایتی جماعت تھی دائیں بازو کی نمائندہ بنی اور پیپلز پارٹی جس کو (ضیاالحق) فوج نے دبایا تھا اس میں فوج کے خلاف غم و غصہ بھرا ہوا تھا ،لیفٹ کی نمائندہ نے مذہب کی بجائے فوج کو اپنی مخالفت کا ہدف بنا لیا۔ پیپلز پارٹی کی جو نظریاتی بنیاد تھی آہستہ آہستہ ختم ہو گئی۔

اس سارے عرصے میں فوج کے ساتھ ساتھ عدلیہ کی تشکیل میں بھی دائیں بازو کی جماعتوں کے حمایتی جج نمایاں ہوتے چلے گئے۔ بھٹو کے پانچ سالوں اور اسکے بعد پی پی پی کو کبھی اتنا وقت نہیں ملا یا وہ عدلیہ کے سیاسی کردار کا ادراک ہی نہ کر سکی ،اس طرف کوئی توجہ نہ دی۔

جنرل مشرف کی فوجی حکومت کا ٹکراؤ بیک وقت مسلم لیگ ن، عدلیہ اور بے نظیر کے قتل کے بعد پی پی پی سے ہوا۔ جس کے نتیجے میں زرداری حکومت وجود میں آئی۔ پیپلز پارٹی کا کردار یکسربدل گیا۔ عدلیہ کے ساتھ ٹکراؤ کی صورت میں جو صورتحال سامنے آئی اس میں مسلم لیگ اور پی پی پی کے درمیان نظریاتی تقسیم ختم ہو گئی۔ اب محض اپنی حکومتیں قائم رکھنے اور کرپشن کا بازار گرم کرنے پردونوں متفق ہو گئیں۔

ایسے میں دنیا کے سیاسی افق پر بہت زیادہ تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ امریکہ کے ہاتھوں ساری مسلم ورلڈ تباہی کا شکار ہوئی۔

پاکستان میں جو سیاسی اور نظریاتی خلا پیدا ہوا اسے عمران خان کی حکمران ٹولے کی کرپشن کے خلاف جدوجہد نے پر کیا۔

پاکستان کا وہ لیفٹ جن کا قبلہ و کعبہ روس اور چین تھے وہ خود نظریاتی موت مر چکے تھے، یک دم ان کا قبلہ و کعبہ مغرب ہو گیا۔


مشرف دور میں مغرب کی سر پرستی میں چلنے والی این جی اوز کا جال بچھنا شروع ہو گیا۔ معاشی سماجی تعلیمی آل غرض مختلف اصلاحات کے نام پر مختلف تنظیمیں وجود میں آئیں جن کا سارا دارو مدار بیرونی امداد پر تھا۔ پہلے پہل ان تنظیموں نے پاکستانی معاشرے کے سماجی بندھن کو ٹارگٹ بنایا۔ ”مولوی ہی نکاح کیوں پڑھائے، عورت بھی پڑھا سکتی ہے “،’’جنازہ مولوی کیوں پڑھائے عورت بھی پڑھا سکتی ہے“، عورت کی معاشرے کے خلاف بغاوت ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ اور پھر ’’اقلیتوں کے حقوق“ جو سارے یورپ اور خاص کر امریکہ میں سب سے زیادہ ابتر ہے، جیسے نان ایشو ۔ Non issues کو بڑھا چڑھا کر ایشوز بنا کر پیش کیا گیا۔ جب یہ سب کچھ انکی مرضی کے نتائج نہ دے سکا تو اب یکدم ان کا ٹارگٹ فوج بن گئی۔

عمران مخالفت میں ن لیگ اور پی پی پی کے پاس کوئی سیاسی پروگرام نہ تھا ،ن لیگ نے جھٹ اینٹی فوج کارڈ کھیلنا شروع کردیا۔ جس کو سب سے زیادہ پزیرائی لیفٹ کے دعوی داروں کی طرف سے ملی۔ لیکن جلد ہی ن لیگ نے ان کی خوش فہمیاں دور کر دیں۔

اب جب کے سب محمود و ایاز ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے ہیں تو میری گزارش ہے کہ ملک کے تمام اداروں کو باہم دست و گریباں کرنے اور ملک دشمنوں کے ہاتھ نادانستہ مضبوط کرنے کے عوام کی نظریاتی تعلیم پر توجہ دیں۔ نہ انہیں مارکسسزم پڑھائیں، نہ انہیں مغربی جمہوریت جس کا مقصد مسلم ورلڈ کو معاشی غلام بنائے رکھنا ہے سکھائیں۔ انہیں بتائیں کے اپنا ووٹ ہزار دو ہزار میں نہ بیچیں۔ الیکٹ ایبل کو رد کریں۔ جین ون genuineلوگوں کو بذریعہ ووٹ منتخب کریں جب سیاست دان اور عوام ایک پیج پر آ جائیں گے تو باقی سب ادارے فوج اور عدلیہ خود بخود اپنے مقام پر واپس چلے جائیں گے۔ فوجی اور عدالتی ایکٹوزم Activism ختم ہو جائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں