کیب، این سی آر اور این پی آر جیسے انسانیت اور خاص طور پر مسلم دشمن قوانین کے خلاف لکھے جانے والے ناول ’’مرگ انبوہ‘‘ کے بارے میں مشرف عالم ذوقی کے ساتھ ایک خصوصی نشست

Spread the love

سمیہ بشیر مشرف عالم ذوقی کے ساتھ خصوصی نشست کے موقعہ پر

مشرف عالم ذوقی کا شمار عصر حاضر کے ان دانشوروں میں ہوتا ہے جنہوں نے انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھائی اور انسانیت کے خلاف ہونے والے مظالم پر کھل کے تنقید کی ان کا ناول ’’مرگِ انبوہ‘‘ ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا ہے جب بھارت میں فسطائی حکومت کی پالیسیوں پر عام طور پر گفتگو کرنا بھی مہنگا پڑ جاتا ہے۔ انہوں نے اس ناول میں مودی حکومت کے انسانیت دشمن قوانین کو ہدف بنایا ہے۔ آنے والے زمانے میں جب مورخ انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے لوگوں کی تاریخ لکھے گا تو مشرف عالم ذوقی کے بجا طور پر قلم کا مجاہد لکھے گا اور جلی حروف میں لکھے گا۔ ان کا یہ انٹرویو ہندوستان میں موجود سمیہ بشیر بھٹ نے کیا ہے۔

جس ملک کا وزیر اعظم اپنی ایم اے کی ڈگری پیش نہیں کر سکتا وہاں کے عوام دستاویزات کہاں سے پیش کریں: مشرف عالم ذوقی

سوال: ان دنوں آپ کا ناول ”مرگِ انبوہ“منظر عام پر آیا ہے؟کیا یہ عنوان آپ کے ذہن میں ناول لکھنے سے
پہلے آیا یا ناول لکھنے کے بعد؟

جواب: ناول کی تخلیق کے آخری مراحل میں یہ نام سامنے آیا اور پھر احساس ہوا کہ اس سے بہتر عنوان کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ میرے سامنے پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دردناک افسانے تھے، تقسیم کی لہولہان کہانیاں بھی تھیں، آہستہ آہستہ سیاست ہمیں کہاں لے آئی، تھذیب یافتہ دنیا میں ہمیں حاشیہ پر لانے کی کارروائی ہوئی، ہم خیموں میں تقسیم ہوئے پھر نفرت کے خوفناک صفحات نے ہمیں ہلاک کرنا شروع کیا، یہی تو جرمنی میں ہوا تھا، جرمن جو آج بھی ہولوکاسٹ کی زیادتیوں کی تاریخ سننا پسند نہیں کرتے، لیکن ہٹلر اور نازی فوج کی ایک تاریخ تو رہی ہے، سچ تو بولنا ہوگا، آدمی کو اپنے عہد کا گواہ تو بننا ہوگا، کچھ اور بھی حقیقتیں تھیں جو آہستہ آہستہ اس ناول کا حصّہ بنتی گئیں، سنو سمیہ، ہم کون تھے ؟ کیا ہو گئے؟ یہ فرق کی سیاست کہاں سے ہمارے درمیان راستہ بناتی ہے؟ ایسے حالات سامنے ہی کیوں آتے ہیں کہ اپنوں، اپنوں کے درمیان دیوار حائل ہو جاتی ہے؟ ایسا کیوں ہوتا ہے کہ صدیوں کی گنگا جمنی تہذیب پر خطرے کے بادل منڈلانے لگتے ہیں؟ اور جب منڈلاتے ہیں تو کئی کہانیاں یاد آتی ہیں۔ ان میں کنور نارائن بھی ہیں عصمت آپا بھی اور منشی جی بھی۔

کنور نارائن نے دنیا کو الوداع کہنے سے قبل ایک نظم لکھی:

میں انگریزوں سے نفرت کرنے چلا
تو سامنے شیکسپیئر آ جاتے ہیں
میں مسلمانوں سے نفرت کرنے چلا
تو سامنے غالب آ جاتے ہیں

کس سے نفرت کیجئے، آج حجمی تشدد ہے، پارلیمنٹ میں سادھوی پرگیا ٹھاکر گوڈسے کی تعریف کرتی ہیں، گاندھی اجنبی ہو گیا، ہم کس جزیرے پر آ گئے؟

کہاں تک نفرت کیجیے گا؟ یہ وہ ملک ہے کہ نانک، شری رام چندر، حضرت محمد مصطفیؐ پر عقیدت کا اظہار کرنے والے ہر مذہب کے ہیں۔ کوئی ہندو شاعر حمد، نعت اور منقبت لکھ رہا ہے، کوئی مسلمان بھگوت گیتا اور رامائن کا منظوم ترجمہ کر رہا ہے۔ عقیدت کیلئے مذہب نہیں جذبہ ہونا چاہیے۔

جب ملک تقسیم کی آگ میں سلگ رہا تھا، ہندوستانی ادیب اس وقت سب سے زیادہ محبت کی کہانیاں لکھ رہے تھے۔ عصمت چغتائی کی کہانی ’’جڑیں‘‘ کا ڈاکڑ روپ چند جو اپنے مرحوم دوست ڈپٹی صاحب کے بچوں کو پاکستان جانے نہیں دیتا اور اس رات جب ڈپٹی صاحب کے بچے پاکستان کی طرف کوچ کرتے ہیں، ڈاکڑ روپ چند دیکھتا ہے کہ مرحوم دوست کی اہلیہ نے جانے سے انکار کر دیا ہے۔ ڈاکٹر روپ چندگھر کے باہر آ کر نفرت پھیلانے والوں کو کوستا ہے، چیختا ہے پھر آدھے راستے سے مرحوم دوست کے بچوں کو واپس گھر لے کر آ جاتا ہے۔،، یہ محبت ’’مرگ انبوہ‘‘ میں دفن ہو گئی، اس ناول کی تخلیق میں پانچ برس لگ گئے۔

سوال: ناول ”مرگ انبوہ“ کا عنوان قاری کو خوفزدہ سا کرتا ہے؟ ناول کی کہانی سے یہ عنوان کس طرح مطابقت رکھتا ہے؟

جواب: ہم خوفزدہ کرنے والے حالات میں جی رہے ہیں، اس لئے میں گل و بلبل کی کہانی نہیں لکھ سکتا،

’’مرگ انبوہ‘‘ جسے انگریزی میں ہولوکاسٹ کہا جاتا ہے دراصل دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کے چانسلر ہٹلر کی نازی افواج کے ہاتھوں مبینہ قتلِ عام کا شکار ہونے والے یہودیوں سے منسوب ہے۔ اس کو یہودیوں کی نسل کشی بھی قرار دیا جاتا ہے۔ ہولوکاسٹ دراصل یونانی لفظ ὁλόκαυστον سے بنا ہے، جس کے معنی ہیں “مکمل جلادینا“۔ اس طرح لاکھوں یہودی مرد، عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے علاوہ اشتراکیت پسندوں، پولینڈ کے مشترکہ قومیت کے حامل باشندے، غلاموں، معذوروں، ہم جنس پرستوں، سیاسی اور مذہبی اقلیتوں کو انتہائی بے دردی سے موت کے گھاٹ اُتار دیا گیا۔ تاہم بیشتر ماہرین دیگر قومیتی و مذہبی افراد کے قتلِ عام کو ’’مرگِ انبوہ‘‘ کا حصہ ماننے سے صریحاً انکار کرتے ہوئے، اس کو یہودیوں کا قتلِ عام قرار دیتے ہیں۔ یا جسے نازیوں نے ’’یہودیوں کے سوال کا حتمی حل“ قراردیا۔ اگر نازی افواج کی بربریت کا شکار ہونے والوں کی تعداد کا اندازہ لگایا جائے تو یہ تعداد تقریباً نو سے گیارہ ملین (90 لاکھ سے ایک کڑور دس لاکھ) تک جا پہنچتی ہے۔ یہ انسانیت سوز مظالم و نسل کشی کی مہم مرحلہ وار انجام دی گئی۔

میں یہ ناول ٢٠١٥ سے لکھ رہا تھا، ملک کی سیاسی صورت حال نے کروٹ لی تو اقلیتوں کی زندگی میں طوفان آ گیا، صرف روہت ویمولہ اور نجیب نہیں، پنساڑے، گوری لنکیش نہیں، پہلو خان اور اخلاق نہیں، ایک پوری تھذیب زد میں آئی، ہلاکتیں بڑھیں، آئین مسلسل ترمیم سے گزرتا رہا، زندگی کے تمام شعبوں پر بی مشن کا قبضہ ہو گیا، یہ بی مشن اس ناول کا خاص حصّہ ہے، اروندھتی رائے نے پوچھا کیا جمہوریت کے خاتمے کے بعد بھی کوئی زندگی رہ جاتی ہے؟ یہ ناول محض سیاسی حالات کے کولاز کا نام نہیں، کچھ سوچنا ہوگا، میں دو ماہ تمام رابطوں سے دور رہا، مجھے اس بات کا خیال ہے، میرے کچھ قریبی دوستوں نے بھی دریافت کیا کہ میں خاموش کیوں ہوں، لیکن میں خاموش نہیں تھا، میں چار سیریز میں ایک بڑے ناول کو پلان کر رہا تھا، اور تین سیریز کو مکمل کرنے میں کامیاب رہا، مشہور ہندی شاعر کیدار ناتھ سنگھ کی ایک چھوٹی سی کویتا ہے

میں پوری طاقت کے ساتھ
لفظوں کو پھینکنا چاہتا ہوں آدمی کی طرف
یہ جانتے بھی کہ آدمی کا کچھ نہیں ہوگا
میں بھری سڑک پر سننا چاہتا ہوں وہ دھماکہ
جو لفظ اور آدمی کی ٹکّر سے پیدا ہوگا
یہ جانتے ہوئے بھی کہ لکھنے سے کچھ نہیں ہوگا
میں لکھنا چاہتا ہوں،

اس لئے سمیہ، میں لکھنا چاہتا ہوں، ان حالات میں خاموش نہیں رہ سکتا

سوال: گذشتہ ناولوں کے برعکس اس ناول میں آپ نے بے باکانہ طور پر موجودہ دور کے سیاسی مسائل کو موضوع بنایا ہے اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب: اب سیاست کو نظر انداز کر کےکوئی بڑا شاہکار وجود میں نہیں آ سکتا، یہ بھی سیاست ہے کہ خزاں رسیدہ نگار بہار کا رقص کچھ اس طرح ہے کہ ہم ہندو اور مسلمان بن گئے ہیں۔ انسان بننے کا عمل کہیں پیچھے رہ گیا ہے۔ خوف کی سیاست کا شکار سب سے زیادہ مسلمان ہیں، اب میری بات سنو سمیہ، 1857 کی بغاوت میں مادر وطن ہندوستان زندہ باد کا نعرہ پہلی بار عظیم اللہ خان نے لگایا تھا، جو اس انقلاب کی ایک مضبوط کڑی تھے۔ اس نعرے کا ترجمہ ہندی میں بھارت ماتا کی جے ہوتا ہے۔ ان متعصب شرپسندوں کو کیا معلوم کہ جس نعرے کی بنا پر ہماری صدیوں پرانی ملت کے شیرازے بکھیرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کے پیچھے بھی ساجھی سنسکرتی کا ایک نمائندہ کھڑا تھا۔ یہ یوسف مہر علی تھے، جنہوں نے پہلی بار انگریزو کوئٹ انڈیا (انگریزو بھارت چھوڑو) کا نعرہ دیا۔ سائمن گو بیک کا نعرہ دینے والے بھی یوسف مہر علی تھے۔ اسی دور میں زین العابدین نے جے ہند کا نعرہ دیا۔ انقلاب زندہ باد کا نعرہ حسرت موہانی نے 1921میں دیا۔ بھگت سنگھ نے انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے یہی نعرہ لگایا تھا۔ مولاتا کو گنگادھر تلک کا نعرہ سوتنتر ہمارا جنم سدھ ادھیکار ہے بہت پسند تھا۔ سرفروشی کی تمنا۔۔۔ کا نغمہ بسمل عظیم آبادی نے سنایا۔ قومی پرچم کا ڈیزائن حیدرآبادی خاتون ثریا طبیب جی نے تیار کیا۔ ہزاروں مثالیں گواہ ہیں کہ گنگا جمنی رشتوں نے اپنی شگفتگی، تازگی اور ہمہ جہتی کی بنیاد پر عالم کاری کے اس عہد میں ہندوستان کے ہر خطے میں اپنے نقوش چھوڑے ہیں، لیکن آج کیا ہو رہا ہے سمیہ؟ مسلمانوں کو ملک میں مکمل نظر انداز کیا جا رہا ہے
ملک کی تعمیر میں مسلمانوں کا بڑا کردار رہا ہے۔ اس سے بڑی مثال اور کیا ہوگی کہ مولوی محمد باقر نے اردو صحافت کے لیے جام شہادت نوش کیا اور دیکھئے تو یہ سلسلہ یہیں نہیں رکا۔ تاریخ گواہ ہے کہ 1857 سے تقسیم ہند تک مسلمان انگریزوں کے خلاف جنگ میں آگے ہی آگے تھے، کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ مسلمانوں کا ہر لفظ انگریزوں کے لیے بغاوت تھا اور پھر تاریخ کی کتابوں میں وہ دن روشن ہوا، جو آزادی سے منسوب ہے اور غور کریں تو اس کے پیچھے بھی مسلمانوں کے ناقابل فراموش کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ قومی یکجہتی ہی تھی کہ منشی پریم چند اور منشی نول کشور جیسے لوگوں نے آگے بڑھ کر حکومت برطانیہ کے خلاف جہاد شروع کیا۔ اور اس ملک کے لیے جہاں صوفی سنتوں کی صداؤں نے وحدت کے گیت گائے ہوں، جس سرزمین کو خواجہ معین الدین چشتی، حضرت نظام الدین اولیا، قطب الدین بختیار کاکی، حضرت امیر خسرو نے اپنے لہو سے سینچا ہو، جہاں دلوں میں گونجنے والی شاعری نے بلاتفریق مذہب و ملت محبت کا درس دیا ہو، اس زمین پر رہنے میں خوف کیوں محسوس ہو؟ ادب سے سیاست کو الگ نہیں کیا جا سکتا

سوال: اس ناول کے ذریعے آپ کیا پیغام دینا چاہتے ہیں، ؟

جواب: ناول کا مطلب کوئی پیغام دینا نہیں ہوتا سمیہ، ناول نگار اپنے عھد سے وابستہ ہو کر ویژن کے کیمرے سے بہت کچھ دیکھ لیتا ہے جو عام لوگ نہیں دیکھ پاتے، یہ سوچنا تو ہوگا کہ ہماری دنیا چلتے چلتے کہاں پہنچ گئی ہے، کیسا پیغام؟ جو ہو رہا ہے، اس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا، ہم اس بات پر بھی غور کریں کہ کہیں انجانے میں ہم آر ایس ایس مشن کی حمایت تو نہیں کر رہے ؟

فسطائی طاقتیں انسانی نفسیات کا مطالعہ رکھتی ہیں۔ ہٹلر کے پاس بھی فدایین تھے، جو اسکے اشاروں پر ایک لمحے میں جان دے دیا کرتے تھے، ملک کے موجودہ حالات مسلمانوں کے لئے بد تر ہوئے جا رہے ہیں، حکومت یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہے کہ مسلمانوں کو زیر کرنے کے لئے کیا کیا تدبیریں کی جا سکتی ہیں، اس موقع پر مزاحمت، احتجاج اور مخالفت کا عام رویہ ہی حکومت کے منصوبوں پر پانی پھیر سکتا ہے، تین طلاق یا مسلم پرسنل لا کی بات ہو ……….. حکومت ہمارے نام نہاد دانشوروں کو اپنے ساتھ ملا لینا چاہتی ہے۔ آپ یہ جنگ ہار گئے تو اسکے بعد یاد رکھیے، حکومت کے پاس مسلمانوں کو زیر کرنے کے لئے ایک لمبی فہرست ہے ……….. پھر ایک کے بعد دوسرا نشانہ لگنا شروع ہو جائے گا۔ بہت ہوشیاری سے اکثریت اور اقلیت کو دو حصّوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ حکومت کی فسطائی منطق کے سامنے آپ بے بس اور مجبور ہونگے۔ ممکن ہے، کہا جائے لاوڈ اسپیکر پر اذان نہ دیں۔ محلے میں ایک مسجد کی جگہ تین مسجدیں کیوں؟ ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی آپکو زیر کیا جائے گا، اور اگر آپ ایک جگہ شکست کھا گئے ،تو آپکو ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آزادی کے بعد کسی فیصلے پر ہمارا نام نہیں لکھا گیا، بابری مسجد فیصلے میں مسلمانوں کے شواہد زیادہ مضبوط تھے، مگر کیا ہوا؟ ابھی مہاراشٹر میں کیا گیم کھیلا گیا، این آر سی بہانہ ہے، حکومت مسلمانوں کا نام تک لینے میں شرم محسوس کرتی ہے، پیغام کیا ہوگا ؟ اس پورے نظام کو سمجھنا ہوگا، میں ناول کے ذریعہ آسانی سے یہ کام کر لیتا ہوں، اب دیکھو ٢٠١٤ میں حکومت بننے کے ساتھ ہی راج ناتھ نے پہلا حملہ ملک کے سیکولر اور لبرل کردار پر کیا تھا، در اصل فسطائی طاقتوں کو ان دو لفظوں سے ڈر محسوس ہوتا ہے۔ اس حملے پر ہندی کے مشہور ادیب اصغر وجاہت نے لکھا کہ وہ ایک مدّت سے راماین پر کام کر رہے، اب انھیں خطرہ ہے کہ کبھی بھی انھیں اس کام سے روکا جا سکتا ہے، دوسرا خطرہ زبان کو ہے، ہو سکتا ہے ،کہا جائے کہ آپ ہندی میں نہ لکھیں ۔ اصغر نے کہا، کہ ہندی ہی اب تک انکی زبان رہی ہے، ان سے ہندی چھین لی گئی تو وہ کیسے جی سکتے ہیں ؟

فسطائی طاقتیں پوری شدّت اور منصوبوں کے ساتھ مذہب ،مشترکہ وراثت اور تہذیب پر حملہ کر رہی ہیں، اس لئے پیغام نہیں، اس فسطائی نظام سے ابھی اور بھی ناول جنم لیں گے،

سوال: آج اس ملک میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے، وہ سب کچھ اس ناول کا حصّہ ہے، کیا آپ نجومی ہیں،

جواب: ادیب کا کام مستقبل پر نظر رکھنا بھی ہے، میں نے یہی کیا ہے، آج پورا ہندوستان سڑکوں پر آ گیا ہے، کیوں؟ لوگ آزادی کا نغمہ گا رہے ہیں، کیوں ؟ سوال اہم ہے کہ آزادی ملنے کے بعد بھی کس سے آزادی چاہیے فسطائی طاقتیں ملک پر حملہ آور ہیں، اور اس صورت میں ایک بار پھر، آزادی کے بہتر برس بعد ملک ہندوستان کو شر پسند طاقتوں سے آزادی کی ضرورت محسوس ہوئی ہے، ایک جمہوری ملک کو مخصوص مذھب کے سانچے میں نہیں ڈھالا جا سکتا، کیب کا قانون ایک مخصوص قوم کے لئے نفرت کا فرمان ہے، لیکن کیب کے ساتھ این آر سی اور این پی آر ( نیشنل پاپولیشن رجسٹر) کا معاملہ ہے، این پی آر کے تحت عام شہری سے بھی دستاویز مانگی جائیں گی، اس میں ہر مذھب اور ذات کے لوگ شامل ہوں گے، غریب کہاں سے دستاویز لایں گے ؟ اور آئین کے مطابق کسی بھی شہری سے دستاویز طلب نہیں کی جا سکتیں، وزیر اعظم اپنے ایم اے کی ڈگری نہیں دکھا سکتے، تو عام شہری سے دستاویز مانگنا کہاں کا انصاف ہے، یہ صحیح ہے کہ این آر سی ابھی نافذ نہیں ہوا لیکن ہندوستان کا عام آدمی حکومت کی نیت سے واقف ہے، کیب، این آر سی کے بہانے ہندوستان کو غلام بنانے کی سازش ہو رہی ہے اس لئے خدا کے لئے اس جنگ کو صرف مسلمانوں کی جنگ نہ بنائیں، یہ ہندوستان کے وقار، جمہوریت کی جنگ ہے، میرا ناول فسطائی طاقتوں کے خلاف اعلان جنگ ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں