دپیکا پڈوکون نے اپنی بیماری کے حوالے سے مداحوں کے نام ایک خط لکھا ہے

Spread the love

بالی ووڈ کی معروف اداکارہ دپیکا پڈوکون نے اپنی بیماری کے حوالے سے مداحوں کے نام ایک خط لکھا ہے جس میں کہا ہے کہ ڈپریشن کے شکار خود کو اکیلا محسوس نہ کریں ان کے لیے مدد موجود ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق دپیکا نے خط میں کہا ہے کہ عزیز قارئین جیسا کہ آپ میں سے بہت سے افراد واقف ہوں گے کہ 2014ء کے موسم گرما میں مجھے بے چینی اور کلینکل ڈپریشن کا مرض تشخیص ہوا تھا، خوش قسمتی سے بروقت پیشہ ورانہ مدد اور آس پاس خیال رکھنے والوں کی وجہ سے مجھے بحالی کی راہ تک جانے کی طاقت ملی۔دپیکا نے بتایا کہ جوں ہی میں نے اس کیفیت کو مزید پڑھنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ میری طرح لاکھوں افراد ایسے ہیں جو خاموشی سے اس مرض کو سہہ رہے ہیں، ڈپریشن پر بات کرنا میرے لیے امر محال تھا لیکن میں نے قومی ٹیلی وڑن پر اپنے اس امید پر اپنے ذاتی تجربے کے بارے میں بات کرنا شروع کی تاکہ دوسروں کو مدد کے لیے اور مدد کرنے کی تحریک ملے۔اداکارہ نے کہا کہ بعد ازاں میں نے جون 2015ء میں لیو، لوو اینڈ لاف فاؤنڈیشن (جیو، پیار کرو اور مسکراؤ) کی بنیاد رکھی۔ اس کا مقصد تناؤ، ڈپریشن اور بے چینی کے بارے میں آگاہی فراہم کرنا اور ذہنی مرض سے وابستہ تاثر کو واضح کرنا تھا جب کہ اب یہ فاؤنڈیشن اس ضمن میں آگاہی اور اس کے خاتمے کی ہراول دستہ بن چکی ہے، ہم ان تنظیموں کی مدد بھی کرتے ہیں جو دماغی صحت کے شعبے میں تحقیق، علاج اور بڑے پیمانے پر ملک گیر سروے کررہے ہیں۔دپیکا پڈوکون کا کہنا تھا کہ چند ہفتوں قبل ہم نے ’ناٹ اشیمڈ‘ (بلا جھجھک) نامی ایک انوکھی مہم شروع کی ہے جس میں ان افراد کا احوال شامل ہے جو حقیقی زندگی میں کسی ذہنی و نفسیاتی مرض کے شکار ہوئے ہیں یا ایسے ہی کسی مرض کے شکار ہیں اور مدد لینے میں طمانیت محسوس کرتے ہیں۔، جس طرح سے یہ مہم کامیاب ہوئی ہے اس سے ہمیں بہت حوصلہ ملا ہے۔دپیکا نے کہا کہ اگر اب بھی کوئی اس تاریکی میں رہ رہا ہے تو اس کے لیے میرا یہ پیغام ہے کہ وہ تنہا نہیں ہے اس کے لیے ہمیشہ مدد موجود ہے، اسٹیفن فرائی کے الفاظ ہیں ’ ایک روز تو سورج کی روشنی والا دن نمودار ہوگا، جیو، پیارکرو، مسکراؤ‘۔اضح رہے کہ دپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ گزشہ ماہ اٹلی کے خوبصورت مقام ’لیک کومو ‘میں شادی کے بندھن میں بندھ گئے تھے۔ دونوں کی شادی کونکنی اور سندھی رواج کے مطابق انجام پائی تھی۔

Please follow and like us:

Leave a Reply