کراچی: بحیثیت وکیل یا جج کبھی اپنی ذمہ داریوں سے سمجھوتہ نہیں کیا۔ جسٹس گلزار احمد

Spread the love

وکلاء اور عدالتی مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ ڈسٹرکٹ کورٹ کراچی کے حالات دیکھ کر افسوس اور شرمندگی ہوئی

کراچی بار نے اے کے بروہی جیسے قابل وکیل پیدا کیے، میرے والد اور میں خود بھی کراچی بارکا ممبر رہا ہوں

بار سے منسلک تمام مسائل کو21دسمبر کے بعد سے حل کرنا شروع کروں گا۔ کراچی میں خطاب

کراچی(نامہ نگار) سپریم کورٹ کے نامزد چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ میں نے بحیثیت وکیل یا جج کبھی اپنی ذمہ داریوں سے سمجھوتہ نہیں کیا، بار سے منسلک تمام مسائل کو21دسمبر کے بعد سے حل کرنا شروع کروں گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں اپنے اعزاز میں منعقدہ عشائیہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔نامزد چیف جسٹس نے کہا کہ وکلاء اور عدالتی مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا، ڈسٹرکٹ کورٹ کے حالات دیکھ کر افسوس اور شرمندگی ہوئی۔ایک چیمبر میں چار سے پانچ ججز بیٹھے ہیں، اپنے وقت میں ایسی ڈسٹرکٹ کورٹس کی حالت نہیں دیکھی تھی، بار سے منسلک تمام مسائل کو21دسمبر کے بعد سے حل کرنا شروع کروں گا۔

جسٹس گلزارا حمد نے کہا کہ مسائل ہر جگہ ہوتے ہیں پریشانی کی کوئی بات نہیں، ملک بھر کے مسائل دیکھتے ہیں اور حل کی کوششیں کرتے ہیں، کراچی بار ماضی کی روایات کی طرح آئین اور قانون پر کردار ادا کرتی رہے گی۔انہوں نے کہا کہ میرے والد بھی کراچی بار ایسوسی ایشن کے ممبر تھے، کراچی بار نے اے کے بروہی جیسے قابل وکیل پیدا کیے، میں خود بھی کراچی بارکا ممبر رہا ہوں۔ڈسٹرکٹ کورٹ کراچی سے اپنی پریکٹس کا آغاز کیا، ڈسٹرکٹ کورٹ کراچی میں پریکٹس کے دوران بہت کچھ سیکھا، میں نے کبھی بھی وکیل یا جج ہونے کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریوں سے سمجھوتہ نہیں کیا، نئے آنے والے وکلا کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محنت کریں اور اپنے مطالعہ میں اضافہ کریں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈسٹرکٹ کورٹ کراچی کو بڑے چیلنجز در پیش ہیں،17نومبر کو اپنے دورہ میں ججز اور وکلا کی مشکلات کو جانچا ہے، ڈسٹرکٹ کورٹ کراچی اور سینٹرل جیل کو شہر سے باہر منتقل کیا ہوا نہیں معلوم، ڈسٹرکٹ کورٹ کورنگی کی صورتحال بھی تسلی بخش نہیں۔


Notice: Undefined variable: aria_req in /backup/wwwsirfu/public_html/wp-content/themes/upress/comments.php on line 83

Notice: Undefined variable: aria_req in /backup/wwwsirfu/public_html/wp-content/themes/upress/comments.php on line 89

اپنا تبصرہ بھیجیں