107

ایک بُدھو(افسانہ) انتون چیخوف

Spread the love

انگلش سے اردو ترجمہ: عقیلہ منصور جدون

کچھ دن قبل میں نے اپنے بچوں کی گورنس جولیا ویسلوینہ کو اپنی سٹڈی میں بلایا ۔”بیٹھ جاؤ جولیا ویسلوینہ !‘‘ میں نے کہا۔
’’آؤ ہم آپس میں حساب کتاب کر لیں،اگرچہ تمھیں پیسوں کی سخت ضرورت ہے لیکن تم تکلفن کو ئی تقاضہ نہیں کرو گی۔۔ ہمارے درمیان تیس روبلز ماہانہ طے پایاتھے۔۔۔۔۔۔‘‘
’’چالیس‘‘
’’نہیں —— تیس میں نے یادداشت کے طور پر لکھ لیا تھا ۔میں ہمیشہ گورنس کو تیس روبلز ہی دیتا ہوں۔۔ تمھیں یہاں دو ماہ ہو چکے ہیں‘‘۔
’’دو ماہ اور پانچ دن۔۔‘‘

’’ٹھیک دو ماہ۔۔ میں نے اسے خاص طور پر لکھا تھا۔ اس کا مطلب ہوا کہ تمھیں ساٹھ روبلز ملنے چاہئیں۔
نو اتوار نکال دو۔۔۔۔۔۔۔ تمھیں معلوم ہے کہ تم اتوار کو کولیا کو نہیں پڑھاتی——تم صرف چہل قدمی کرتی ہو ۔اور تین چھٹیاں ۔۔۔۔۔۔۔‘‘

جولیا ویسلوینا کا چہرہ شرمندگی سے سرخ ہو گیا۔ اس نے اپنے لباس کے دامن کو چھوا، لیکن ایک لفظ بھی نہیں بولی۔
’’تین چھٹیاں ،اس لئے بارہ روبلز نکال دو۔ چار دن کولیا بیمار تھا اور پڑھائی نہیں ہوئی۔ تم صرف وانیا کے ساتھ مصروف رہیں۔ تین دن تمھارے دانت میں درد رہا اور میری بیوی نے تمھیں لنچ کے بعد کام نہ کرنے کی اجازت دئیے رکھی۔ بارہ اور سات منفی کرو تو بچے 41روبلز۔ درست؟ “

جولیا ویسلوینا کی بائیں آنکھ سرخ ہو کر نم ہو گئی۔ اس کی ٹھوڑی کا نپی، مضطرب ہو کر کھانسی، ناک صاف کیا لیکن ایک لفظ نہ بولی۔
’’نئے سال کی تقریبات کے دوران تم نے ایک پرچ اور پیالی توڑ دی ۔دو روبلز نکال دو، اگرچہ پیالی کی قیمت زیادہ بنتی ہے۔ کیونکہ وہ موروثی تھی۔ خیر جانے دو میں نے کب نقصان برداشت نہیں کیا۔؟ تمھاری غفلت کی وجہ سے کولیا درخت پر چڑھا اور اپنی جیکٹ پھاڑ لی۔ دس روبلز نکال دو۔ اور پھر تمھاری لاپرواہی کی وجہ سے نوکرانی نے وانیا کے جوتے چرا لئے۔ تمھیں ہر چیز پر نظر رکھنی چاہیے۔ اس کا مطلب ہوا کہ پانچ روبلز مزید کم ہو گئے۔ دس جنوری کو میں نے تمھیں دس روبلز دئیے ———-“

’’آپ نے نہیں دئیے۔‘‘جولیا ویسلوینا بیچارگی سے بولی‘‘

’’لیکن میرے پاس لکھا ہوا ہے “

’’چلیں ٹھیک ہے “

’’ستائیس روبلز چالیس روبلز سے نکال دو باقی بچے چودہ“

دونوں آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں۔ چھوٹی سی خوبصورت ناک پر پسینہ نمودار ہوا۔ بے چاری لڑکی!
’’ صرف ایک دفعہ مجھے کچھ رقم دی گئی “ اس نے کانپتی آواز میں کہا۔ ‘‘اور وہ بھی آپ کی بیوی نے دی۔تین روبلز۔۔۔ بس۔ اس سے زیادہ نہیں “۔
’’واقعی ؟ دیکھو ۔۔۔۔۔تم ۔۔۔۔یہ تو میں نے لکھا ہی نہیں ۔چودہ میں سے تین روبلز منہا کرو باقی بچے گیارہ۔ یہ رہے گیارہ روبلز‘‘

میں نے اسے گیارہ روبلز پکڑ آ۔اس نے وہ لئیے اور کانپتے ہاتھوں سے انہیں جیب میں ڈالا ۔
’’شکریہ‘‘ وہ آہستہ سے بولی۔
میں اچھل پڑا۔اور کمرے میں ٹہلنے لگا ۔میں غصے سے بھر گیا ۔میں نے پوچھا۔
’’شکریہ۔۔۔؟ ———- کس لئے “؟
’’رقم کے لیے‘‘

’’لیکن تم جانتی ہو میں تمھیں دھوکا دے رہا ہوں ۔اللہ کاواسطہ میں نے تمھیں لوٹا ہے ۔حقیقتن میں تمھارے پیسے چوری کر رہا ہوں ۔
پھر یہ کیسا شکریہ ؟‘‘۔
’’دوسری جگہوں پر جہاں میں نے کام کیا انہوں نے مجھے کبھی کچھ نہیں دیا‘‘
’’انہوں نے تمھیں کچھ نہیں دیا ؟۔کوئی تعجب نہیں “۔

میں نے تم سے مزاق کیا ۔ایک تلخ سبق سکھانے کے لئیے ۔میں تمھیں پورے اسی روبلز دے رہا ہوں ۔ یہ رہے اس لفافہ کے اندر پہلے سے موجود ۔۔۔۔۔۔۔۔کیا کوئی اتنا کمزور اور بزدل بھی ہو سکتا ہے ؟ تم احتجاج کیوں نہیں کرتیں ۔چپ کیوں رہو ۔کیا اس دنیا میں کوئی ایسا بھی ہے ۔جو اپنا دفاع نہ کرے۔
اتنا بدھو

وہ بے چارگی سے مسکرائی اور میں نے اس کے چہرے کے تاثرات پڑھے۔
’’ممکن ہے “

میں نے اس سے اس تلخ مزاق کے لئیے معافی مانگی ۔اسے اسی روبلز دے کر ششدر کر دیا ۔
اس نے بہت دفعہ عاجزانہ شکریہ ۔۔۔شکریہ دہرایا اور باہر نکل گئی ۔میں نے اسے جاتے ہوے دیکھا اور سوچا !
’’اس دنیا میں کمزور کو دبانا کتنا آسان ہے‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں

Captcha loading...