193

او جی ڈی سی ایل اگلے ماہ سے صوبہ سندھ میں شیل گیس کے ذخائر کی دریافت کے لیے ڈرلنگ شروع کرے گا

Spread the love

اسلام آباد(مہتاب پیرزادہ سے) پاکستان کو اس وقت روزانہ قدرتی گیس کی کی طلب تقریباً 7سے 8بلین کیوبک فٹ کی ضرورت ہوتی ہے اور پاکستان کی پیداوار 4بلین کیوبک فٹ فی یوم ہے، پاکستا ن کو اس وقت 50 فیصد مکس گیس میں شارٹ فال کا سامنا ہے، شیل گیس کی فراہمی سے یہ توازن پور ا کیا جاسکتاہے۔

ای آئی اے شیل گیس اسیسمنٹ رپورٹ 2015 (امریکہ) کے مطابق پاکستان میں شیل گیس کی تقریبا ً 105 ٹریلین کیوبک فٹ کے ذخائر ہیںاور 9.1بلین بیر ل آئل کے ذخائر ہیں، او جی ڈی سی ایل نے M/S Weatherford امریکہ کے ذریعے انڈس بیسن میںشیل گیس کی سٹڈی کروائی ہے ،یہ سٹڈی انڈس بیسن میں ڈرل کیے گئے 117کنووںکے پیٹروفزیکل، جیالوجیکل، جیوفزیکل، جیوکیمیکل، جیومیکینکل، اور ذخائر کے ڈیٹا پر مشتمل ہے، اس سٹڈی میں ترجیحی علاقوں کو شارٹ لسٹڈ کیا گیا ہے، اور پائلٹ ورٹیکل ،افقی سیکشن کے ساتھ جیو ماڈلنگ کی گئی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ فریک ڈیزائن، اور تخمینہ لاگت بھی دیا گیا ہے

اس سٹڈی کی روشنی میں، او جی ڈی سی ایل اپنے پہلے شیل گیس کے کنواں، KU-01کی ڈرل کرنے کی منصوبہ بندی کررہا ہے، اور اس کو ہائیڈروکاربن ذخائر اور پیداوار کے طور پر استعمال کیا جائے گا
یہ ایک تجربایی پائلٹ پراجیکٹ ہے، KU-01پر زیادہ فوکس اور اہمیت اس کے کمرشل مقا صد نہیں ہیں بلکہ اس کے ڈیٹا کے حصول ہے، تاہم اس سے ہمیں سمبر شیلز سے اس کے ذخائر، کوالٹی، پیداوریت، اور دستیاب ٹیکنالوجی اور ایکویپمنٹ وغٰیرہ کے حساب سے بے تحاشا ڈیٹا ملے گا

او جی ڈی سی ایل کی طرف سے شیل ہائیڈروکاربن کے دریافت کے متعلق کچھ میڈیا رپورٹس کے سلسلے میں اب او جی ڈی سی ایل بہت زیادہ احتیاط کرتا ہے۔ دراصل یہ معلومات حقائق کی منافی تھی کیونکہ اوجی ڈی سی ایل نے اس سلسلے میں کوئی معلومات نہ صرف شیئر کی اور نہ کمپنی نے کسی شیل گیس کی ڈرلنگ کی۔ اس لیے اب او جی ڈی سی ایل، شیل پائلٹ پراجیکٹ کے لیے کام کررہا ہے، اس لیے اسٹیک ہولڈرز بشمول پاکستان سٹاک ایکسچینج، اور لندن سٹاک ایکسچینج سے متعلقہ معلومات کو رد کرتا ہے ،اس لیے آپ سے درخواست کی جاتی ہے کہ ایسی کوئی بھی معلومات جو او جی ڈی سی ایل کی طر ف سے جاری کردہ نہ ہو، اس کو نظر انداز کردیں

اپنا تبصرہ بھیجیں