132

ایران میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف احتجاج کے دوران ہلاکتیں 150 ہوگئیں

Spread the love

سجاد کرج اور شہریار اور مدنی کرج اور البرز کرج کے اسپتالوں میں مرنے والوں کی تعداد 118 ہے، ذرائع

ایرانی انٹیلی جنس فورسز نے تہران کے “سوشل انشورنس” اسپتال سے 36 مظاہرین کی لاشیں تدفین کے لیے منتقل کیں

وزارت انٹیلی جنس کی ہر کنبہ کو 40 ملین ایرانی تومان مقتولین کی میت وصول کرنے کے لیے ادا کرنے کی ہدایت

حکومت کی طرف سے تدفین کے معاملات میں بھی سختی برتی جا رہی ہے، جنازوں کے اعلان اور میڈیا سے بات کرنے پربھی پابندی عائد

ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی اصل تعداد سامنے نہیں آئی ، تعداد 200 تک ہو نے کا خدشہ ہے،ایمنسٹی انٹرنیشنل

تہران(انٹرنیشنل ڈیسک)ایران میں پچھلے جمعہ سے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کیخلاف ہونے والے احتجاج کے دوران سیکیورٹی فورسز کے حملوں میں اب تک کم سے کم 150افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ایران انٹرنیشنل کی ویب سائٹ کے مطابق ایرانی انٹیلی جنس فورسز نے گوشت کی ترسیل کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کے ذریعے دارالحکومت تہران کے “سوشل انشورنس” اسپتال سے36مظاہرین کی لاشیں تدفین کے لیے منتقل کیں۔

ذرائع کے مطابق سجاد کرج اور شہریار اور مدنی کرج اور البرز کرج کے اسپتالوں میں مرنے والوں کی تعداد 118 ہے۔مزید برآں وزارت انٹیلی جنس نے ہر کنبہ کو 40 ملین ایرانی تومان مقتولین کی میت وصول کرنے کے لیے ادا کرنے کو کہا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت کی طرف سے مرنے والوں کی تدفین کے معاملات میں بھی سختی برتی جا رہی ہے۔ جنازوں کے اعلان اور میڈیا سے بات کرنے پربھی پابندی لگا دی گئی ہے۔ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اعلان کیا کہ ایسی “معتبر اطلاعات” موصول ہوئی ہیں کہ ایران بھر میں سو سے زیادہ مظاہرین کو ہلاک کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق 21 شہروں میں کم از کم 106 مظاہرین مارے گئے۔ ایمنسٹی کے مطابق ایران میں حالیہ ایام میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی اصل تعداد سامنے نہیں آئی تاہم خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد 200 تک ہوسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں