بجُوکا – تحریر: ڈاکٹر شاکرہ نندنی

Spread the love

وہ ایک بجُوکا تھا اور بجُوکا کے آنسو بھلا کون دیکھتا ہے۔ وہ بھری دنیا میں بازو پھیلائے کھڑاتھا، اتنا تنہا تھا کہ وہ اب کسی کو بھی تنہا نہیں دیکھ سکتا تھا سو جب وہ آئی اور اُس کو کوئی کندھا نہ مِلا تو بجُوکا  نے اپنا  کندھا آگے کیا اور کہا یہاں تم رو سکتی ہو۔  وہ اُس کے کندھے سے لگ کر روتی رہی حتٰی کہ اُس کا جی ہلکا ہوگیا اور وہ اپنا غم بھول گئی۔


غم  بھلا دینے کے بعد اُسے بجُوکا ایک عجیب وغریب اُداس اور بے مقصد منظر دکھائی دینے لگا جب کہ دنیا بے تحاشا خوبصورت اور رنگین تھی سو وہ آگے بڑھ گئی۔


بجُوکا جو پہلے بھی تنہا تھا اب مزید تنہا ہوگیا، بازو پھیلائے روتا ہے لیکن اُسے کندھا نہیں ملتا کہ بجُوکا کے آنسو بھلا کون دیکھتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں