532

رنڈی (افسانہ) شگفتہ مسکین

Spread the love

‎ کچی آبادی اور گندے جوہڑ میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ جوہڑ میں کیڑے مکوڑے پلتے ہیں اور کچی ابادی میں انسان۔ ہاں ایک بات دونوں میں مشترک ہوتی ہے کہ دونوں اپنے حقوق سے بے خبر ہوتے ہیں، کیڑے قانون فطرت کے مطابق اور انسان سماجی جبر کے تحت۔

وہ بھی اسی کچی آبادی کی پیداوار تھی مگر شکل و صورت سے ڈیفنس والے حسد کرتے تھے. شادی کے بعد شوہر نے اوپر تلے چار بچے پیدا کروائے اور اپنا منہ لیکر قبر میں جا گھسا. دو دن تک تو محلے والے کھانا دیتے رہے مگر آخر کب تک اپنا پیٹ کاٹ کر ان کو کھانے میں شراکت دار بناتے، سو وہ بھی بند ہوگیا. دکاندار کا ادھار جب ایک مہینہ سے زیادہ ہوگیا تو اس نے ادھار سے ہاتھ کینھچ لیا مگر تیسرا ہاتھ بڑھانے کی کوشش ضرور کی۔ ایک پرزور ناں کرنے کے بعد وہ سہمی ہوئی جب گھر کے آنگن میں آئی تو بچوں کے بھوک سے اترے ہوئے چہرے اس سے دیکھے نہیں گئے۔ لہذا چادر اوڑھ کر محلے کی مسجد کے پیش امام کے ہاں چلی گئی تاکہ کچھ مدد لے سکے۔ مگر وہ بھی اس لیکچر کے سوا کچھ بھی نہیں دے سکے کہ وہ انکی دوسری منکوحہ بن جائے.

محلے کی ایک آنٹی تھی جو کسی گارمنٹ فیکٹری میں ملازمت کرتی تھی اور سب حالات سے واقف بھی تھی۔ سو اگلے دن وہ بھی اسی آنٹی کے ساتھ گارمنٹ فیکٹری چلی گئی جو بارہ گھنٹے کام کرا کے سو روپے دیتے تھے. گھر کا کچن چلنے لگا اور بچے اب بھوک سے بلبلاتے نہیں تھے۔

فیکٹری کے اندر ایک لڑکی صاعقہ سے اس کی گاڑی چھننے لگی تو ایک دن اس نے بتایا کہ وہ پارٹ ٹائم دھندا بھی کرتی ھے. شاہدہ کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ مگر صاعقہ نے بتایا کہ اسکے ساتھ بھی وہی ہوا ہے جو شاہدہ کے ساتھ ہوا اور مجبوراً اسے یہ سب کرنا پڑتا ہے کہ سو روپے روٹی تو دے دیتے ہیں، بچوں کی فیس نہیں دے سکتے۔ اسے ایک رات کی جسم کی مزدوری کے عوض اتنا مل جاتا ہے کہ بچے سکول بھی جا سکتے ہیں اور کلفٹن کے جھولوں کی عیاشی بھی کرسکتے ہیں۔

آخر ایک دن صاعقہ نے شاہدہ کو بھی مَنا ہی لیا، کیونکہ سو روپے شاہدہ کے بچوں کو روٹی تو دیتے تھے مگر کرایہ وقت پر ادا نہیں کروا پاتے تھے، اور اب بچوں کی عمر سکول جانے کی ہو گئی تھی۔ کچھ حالات بہتر ہوئے مگر اب بھی روز شام کو نکلتے اسے یوں ہی لگتا کہ جان نکل رہی ہے۔ دیکھنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔ اک شام جب وہ بن ٹھن کر شام کے ملگجے اندھیرے میں صاعقہ کیساتھ نکلنے لگی تو پیش امام نے زہر الود ہنسی کے ساتھ اسے رنڈی بولا.

شام کے اندھیرے میں جب وہ شارع فیصل کے کسی ویران اور تاریک گوشے میں کھڑی ہوجاتی تو گاہک کو اسکا نقاب سے چھلکتا چکاچوند حسن تول مول سے بے پرواہ کردیتا تھا. وہ محلے میں رنڈی مشہور ہوگئی، مگر گھر میں نئی واشنگ مشین ٹی وی اور بچوں کے کھلونے آنے شروع ہوگئے۔ یہ سب دیکھ کر غریب محلے کی کچھ عورتیں سنجیدگی سے رنڈی ہونے کی افادیت پر غور کرنے لگتیں مگر پھر توبہ استغفار کرنے لگتیں کہ پیش امام نے جمعہ کے خطبے میں فرمایا تھا کہ بدکار عورتیں جہنم میں جلیں گی ……………

آبادی میں پانی کا شدید بحران تھا لہٰذا واٹر ٹینکرز کا آنا جانا معمول تھا ایک دن پیش امام کا چھوٹا بیٹا ایک ٹینکر کے پچھلے پہیوں میں آگیا اور اپنی ٹانگیں گنوا بیٹھا۔ محلے کے کمپاؤڈر نے انہیں جناح ہسپتال بھیجا مگر جناح والوں نے جب بتایا کہ اس کا آپریشن آغا خان کے علاوہ کہیں اور نہیں ہوسکتا تو پیش امام کی حالت دیدنی تھی۔

آغا خان کے کاؤنٹر پر جب اسے دو لاکھ جمع کرنے کیلئے کہا گیا تو وہ بھاگا بھاگا اپنے محلے واپس آیا کہ پیسوں کا بندوبست کر لے۔ جب محلے کے کونسلر صاحب نے بھی معذرت کرلی تو پیش امام اپنی ہی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے رو رو کر پیسوں کا چندہ مانگنے لگا، مگر شام تک دس ہزار بھی اکھٹے نہیں ہوسکے۔ مرے ہوئے قدموں سے جب اس نے گھر کا دروازہ پار کیا تو بیوی نے اسکی آنکھوں کے بجھتے دئیے دیکھ کر ایک چیخ ماری اور بیہوش ہوگئی.

اچانک گھر کا دروازہ کھلا اور کوئی اندر آیا تو پیش امام نے خالی نظروں سے رنڈی کو دیکھا اور اس کے ہونٹ کپکپا کر بند ہوگئے۔ رنڈی نے اگے بڑھ کر دو لاکھ اس کے پیروں میں رکھے اور چپ چاپ گھر سے نکل گئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں