عمران خان اب استعفیٰ لے کر آو، میں تمہیں این آر او نہیں دونگا: مولانا فضل الرحمن

Spread the love

مولانا فضل الرحمن کا پاک فوج کے غیر جانبدار رہنے کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کا خیر مقدم

آزادی مارچ کے پنڈال میں پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے گئے، پنڈال پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا

ریاستی اداروں کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، استعفیٰ دو حکومت کا گھر چھوڑ دو اب آپ بندگلی میں پہنچ چکے ہیں

الیکشن میں دھاندلی ہوئی پوری قوم گواہ ہے، جمعہ کی نماز یہاں اجتماعی طور پر ہوگی پرسوں سیرت کانفرنس ہوگی

آزادی مارچ کے شرکا سے مولانا فضل الرحمن کا خطاب

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے پاک فوج کے غیر جانبدار رہنے کے بارے میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی اداروں کو سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، استعفیٰ دو حکومت کا گھر چھوڑ دو اب آپ بندگلی میں پہنچ چکے ہیں، مذاکرات بے معنی ہیں اب لانا ہے تو استعفیٰ لے کر آئو، آنیاں جانیاں سے کچھ نہیں بنے گا، الیکشن میں دھاندلی ہوئی پوری قوم گواہ ہے، اب عمران خان کو کوئی این آراو نہیں ملے گا ہمارے اجتماع کو حقارت کی نگاہ سے نہ دیکھا جائے۔ فوج کے حق میں پنڈال میں پاکستان، اسلام، پاک فوج زندہ باد کے نعرے لگائے گئے پنڈال پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔

جمعرات کی شب آزادی مارچ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ہم ایک سال سے میدان میں کھڑے ہیں ہم پوری دنیا میں امن کا پیغام دینا چاہتے ہیں یہ اجتماع صبروتحمل کا مظاہرہ کررہا ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ آپ کے نظم و ضبط نے مظاہرہ مغربی دنیا کا منفی تاثر آج ختم کردیا ہے۔ مغربی ذہنیت کے حامل لوگ انسانیت کی قدر کیا جانیں آج آپ نے ثابت کردیا انسانیت آپ سے مطمئن ہے۔ پاکستان کے خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کیے گئے۔ سیکورٹی کے نام پر خرچ کیے گئے پیسے کا کوئی تو حساب لے۔ خوف کامفروضہ قائم کرکے قوم کو بلیک میل کیا گیا۔

کبھی کہتے ہیںدھاندلی کی تحقیق کیلئے قومی کمیشن بنایا جائے۔ تحقیقات اس چوری کی کی جاتی ہے جس کے گواہ نہ ہوں جس چوری پر پوری قوم گواہ ہے اس کی تحقیق نہیں کی جاتی اس پر حکمران کو رخصت کیا جاتاہے پی ٹی آئی کی فارن فنڈنگ کا کیس الیکشن کمیشن میں ہے۔ آج تک الیکشن کمیشن اس حوالے سے کوئی فیصلہ کیوں نہیں کرسکا ہے جب پوری پارٹی اور پورا ٹبرچور ہے پھر اس کو کیوں تحفظ دیا جارہا ہے اس کو انصاف کے کٹہرے تک لانے کیلئے کیوں تاخیر حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔

مصدقہ صورت حال سامنے آئی ہے کہ ریجیکٹ وزیراعظم کی ہمشیرہ نے دبئی میں 60 ارب کا سرمایہ بینکوں میں کیسے پیدا کیا وہ پیسہ کہاں سے آیا؟۔ تم نے ایمنسٹی کے ذریعے اپنی بہن کے 60 ارب ڈالر کے غبن کو چھپانے کی کوشش کی ہے یہ ہے این آراو جو تم نے اپنی بہن کو دیا ہے جس کیلئے آپ سیاستدانوں کو کہتے ہیں کہ ہم آپ کو این آراو نہیں دیں گے آج پوری قوم کے سامنے کھڑے ہوکر یہ کہنے کا حق مجھے پہنچتا ہے کہ میں آپ سے کہوں کہ اب آپ کو کوئی این آراو نہیں ملے گا۔ وہ کونسی قوت ہے جس نے دھاندلی کے ذریعے اس کو اقتدار تک پہنچایا وہ کونسی لابی ہے جس نے پاکستان کے نوجوان کو گمراہ کیا اور اس نا اہل سے قوم کی امیدیں وابستہ کرائیں۔ بلاوجہ یہ لوگ یہاںنہیں بیٹھے ہوئے۔

مولانا نے کہاکہ میں افواج پاکستان کے ترجمان آئی ایس پی آر کے اس بیان کا خیر مقدم کرتا ہوں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ فوج غیر جانبدار ادارہ ہے اورغیر جانبدار رہنا چاہتا ہے۔ اللہ استقامت نصیب فرمائے۔ افواج پاکستان کیلئے اتنا ہجوم کے ساتھ آمین شاید انہوں نے پہلے نہیں سنا ہوگا۔ اس موقع پر پنڈال پاک فوج زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ جب ہمارے جوانوں نے ہندوستان کا طیارہ گرایا اور ان کے پائلٹ کو پکڑا ہمارے کارکنوں نے پورے ملک کے چوکوں پرکھڑے ہوکر افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کیا انہیں شاباش پیش کی تھی آج یہ وہی لوگ ہیں لیکن گلا اپنوں سے ہوتا ہے پرائیوں سے نہیں ہوا کرتا گلہ شکوہ اپنائیت کی علامت ہوتی ہے دشمنی کی علامت نہیں ہوا کرتی اپنوں سے اپنائیت کے جذبے سے بات کرنا اوراس جذبے کے ساتھ کہ ہم قومی اداروں کو سیاست میں نہ گھسیٹنا چاہتے آپ نے کہہ دیا ہم غیر جانبدار ہم خیر مقدم کرتے ہیں جھگڑا ختم ہو جاتا ہے لیکن میرے محترم دوستو ہمیں اپنی امانت واپس لوٹاو ووٹ قوم کی امانت ہے اور اس اجتماع کو حقارت کی نظر سے مت دیکھو اس کو سنجیدہ لو، ہم وہ لوگ ہیں جب ساری دنیا مذہبی طبقے کو اشتعال دلا رہی تھی اور مذہبی دنیا کا نوجوان اسلحہ اٹھارہا تھا ہم نے اس کے کندھے سے اسلحہ اتارا ہے ہم نے اس کے ہاتھ میں ووٹ کی پرچی پکڑائی ہے ہم نے شدت کے راستے کی بجائے ان کو اعتدال کا راستہ بتایا آئین کا راستہ بتایا اور میں شکر گزار ہوں پورے ملک کے مذہبی طبقے کا جس نے ملک اور آئین کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا جس نے افواج پاکستان کے شانہ بشانہ پاکستان کی بقا کی جنگ لڑنے کیلئے ان کے ساتھ مل کر لڑنے کا عہد کیا۔

لہٰذا پاکستان کے ان شہریوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے ان کے مطالبے کو تسلیم کرو اور ان کو اپناحق دلائو کوئی مذاکرات کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے پاس آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بے معنی آنیاں جانیاں نہیںہونی چاہئیں آئو تو استعفیٰ ساتھ لے کر آئو ، آئو تو اقتدار کو چھوڑ نے کا اعلان کرکے آئو آپ ہمارے بھائی اور پاکستانی شہری ہیں اب تک جتنے فیصلے آئے ہیں جہاں کسی نے انفرادی طورپر عدالتوں سے رجوع کیا ہے ہر جگہ تمہیں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہم نے یہ سفر بڑی جرأت اور غیرت ہمت کے ساتھ استقامت کے ساتھ منزل تک پہنچائی ہے اور اب اس سے کم پر راضی ہونے والے نہیں ہیں۔ ہم قومی اداروں سے کہنا چاہتے ہیں اس قوم کو اپنی قوم سمجھو یہ وہ لوگ ہیں جو آپ کے ساتھ ہوں گے۔ جن کے منہ میں دودھ کے گھونٹ ہیں وہ آپ کے ساتھ نہیںچلیں گے وہ اس ملک کی خدمت نہیںکرسکتے اب ساری چیزیں محاذ کے میدان میں ہونی چاہئیں قوم کو اپنا حق واپس دو استعفیٰ دو حکومت کا گھرچھوڑو عوام کے پاس واپس جائو ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور دوسرا آپشن نہیں۔ اب تم بند دروازے میں ہو بند گلی میں ہو اب آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ اس بند گلی میں تم نے سانس لینی ہے یا آپ نے آکر اس بند گلی سے اس قوم کو اس کا حق دینا ہے۔

بارش ہو یا ہوائیں حوصلے ٹوٹے نہیں حوصلے اور بڑھے ہیں۔ آپ کے جذبات کی گرمی دیکھ کر محسوس کرتا ہوں کہ آپ کے جذبات کی گرمی نے کس طرح اسلام آباد کی ٹھنڈک کو شکست دی ہے اسی طرح آپ کی تحریک حکمرانوں کو شکست دے گی آپ فتح یاب ہوں گے ۔ جمعہ کی نماز یہاں اجتماعی طور پر ہوگی اورپرسوں سیرت کانفرنس ہوگی ۔ہفتہ کا دن ہوگا اور اتوار کی رات ہوگی۔

Leave a Reply