کیا سیّد پختون ہے؟ تحریر: سیّد عاقب شاہ ہاشمی

Spread the love

یہ آرٹیکل میرے ایک پاکستانی دوست نے لکھا ہے جو کہ محنتی اور پڑھا لکھا ہے۔ صحافت کا اسے جنون ہے۔ پاکستان کی کئی اخبارات میں اس کے کالم شائع ہو چکے ہیں۔ نو عمری میں ہی اس کی تحریروں سے اس کی سوچ کی پختگی کا علم ہوتا ہے۔ معزز سید گھرانے سے اس کا تعلق ہے۔ ضلع شانگلہ، صوبہ خیبر پختونخواہ میں پیدا ہوٸے، پیدائش کے دو سال بعد ہی یتیم ہو گئے، گائوں سے ہی دینی تعلیم کا آغاز کیا، قرآن کریم حفظ کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے کراچی کا رخ کیا پھر وہاں سے مزید تعلیم کے لئی مانسہرہ آگئے، تعلیم کے ساتھ ساتھ نیوز پیپر کے ساتھ وابستہ ہوکر اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے
میری دعا ہے کہ مالک کائنات اسے زندگی کے ہر قدم پر کامیای دے۔

ڈاکٹر شاکرہ نندنی ایگزیکٹو ایڈیٹرشمالی یورپ ریجن

نوجوان کسی بھی معاشرے اور قوم کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جب یہ نوجوان نسل اپنے ابإ،اجداد اور اسلاف کی روایات چھوڑ دیں اور غیروں کے اقدار کو گلے لگاٸیں،ان پر فخر کریں اور اپنی روایات پر عار،شرم محسوس کریں،اپنا تشخص کھوبیٹھے تو ایسی قومیں بہت جلد مٹ جایا کرتی ہے حتی کہ پھر کسی کام کے نہیں رہتی۔


سادات دنیا کی وہ واحد قوم ہے جو ہر ملک میں موجود ہیں اور ہر کسی کو علم ہے کہ سادات کا تعلق خاندان نبوة ﷺ سے ہے جسکو تمام قوموں پر فضیلت حاصل ہے،جن کی محبت واجب قرار دی گئی ہے، ترمذی شریف کی حدیث ہے آپ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے میں آپ میں دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک قرآن دوسرا اپنا اہلبیت، اس سے دو باتیں ثابت ہوئی ہیں ایک قرآن قیامت کے دن تک رہے گا ایسے ہی اہل بیت، نبی ﷺ کا خاندان بھی باقی رہے گا


دوسری بات جیسا قرآن کی تعظیم، اکرام واجب ہے ایسا ہی اہلبیت کی بھی واجب ہے ابن ماجہ کی روایت ہے ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اے بنی عبدالمطلب میں نے اللہ ﷻ سے آپکے لیے تین چیزیں مانگیں، اللہ تمہیں ثابت قدم رکھیں


تمہارے گمراہوں کو ہدایت دیں
تمہارے جاہلوں کو عالم بنادیں


میں نے یہ بھی دعا مانگی تھی کہ اللہ تمہیں سخی، بہادر،رحم دل بنادیں، چنانچہ اگر کوٸی آدمی رکن اور مقام ابراہیم کے درمیان کھڑا ہوکر نماز پڑھ رہا ہو اور روزہ دار بھی ہو پھر وہ فوت ہوجائے لیکن مُحَمَّد ﷺ کے اہلبیت سے بغض رکھتا ہو وہ جہنمی ہے،ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ قیامت کے دن تمام نسب اور رشتے ختم ہو جاٸیں گے لیکن میری دامادی کا رشتہ باقی رہے گا، اس سے اشارہ ہے حضرت علی ؓ کو،اہلبیت کی فضیلت دیکھ کر امام شافعی ؒ فرمانے لگے اگر اہلبیت سے محبت رفض ہے تو میں رافضی ہوں،ایک زمانہ تھا کہ لوگ سادات کرام کی بہت ہی عزت و احترام کرتے تھےاور انہیں اپنے علاقے، بستی میں ٹھہرانا قابل فخر محسوس کرتے، دور دراز سے لوگ ان سے فیض حاصل کرنے اور دعاٸیں لینے آتے تھے یہ وہی زمانہ تھا جب سادات اپنے اسلاف، آبا و اجداد کی طرز زندگی اور اپنی فضیلت و عظمت سے بخوبی واقف تھے، در اصل سادات ایک عربی قوم ہے لیکن دین اسلام کو مخلوق خدا کو پہنچانے کے لیے دنیا کے اطراف و اکناف میں ہجرت کر گیے، یہی وجہ ہے کہ آج ہر ملک میں سادات موجود ہیں، جہاں گئے وہیں پر پڑاو ڈالا تشنگان علوم نبوت کو سیراب کرتے رہے، انکی اولادیں یہی پر ہوٸی اور یہاں مستقلا قیام پذیر ہوئے

دین کی خاطر لوگوں میں گھل مل گیے،انکی زبان، بولی بولنے لگے حتّیٰ کہ انکی اولاد اپنی مادری زبان جوکہ عربی تھی بھول گئی، یہی وجہ ہے کہ سندھ میں رہنے والے سیّد سندھی زبان بولتے ہیں، کشمیر میں رہنے والے سیّد کشمیری زبان بولتے ہیں، ہزارہ میں رہنے والے ہندکو بولتے ہیں اور پختونخواہ کے دوسروں علاقوں میں رہنے والے پشتو بولتے ہیں کسی سیّد کا پشتو بولنے سے مراد یہ نہیں کہ وہ پشتون ہے کیوں کہ سیّد ایک الگ قوم ہے اور پشتون دوسری قوم ہے جیساکہ بیک وقت ایک ایک شخص سندھی، پنجابی (انکی قومیں مراد ہیں) اور پختون نہیں ہوسکتا ایسا ہی سیّد بیک وقت سیّد اور پختون نہیں ہوسکتا

پشتو کے مورخین نے لکھا ہے کہ پشتون بنی اسرائیل میں سے ہیں جبکہ سادات اولاد ہیں آپ ﷺ کی اور یہ اس بات سے ہر شخص بخوبی واقف ہے کہ آپ ﷺ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور بنی اسراٸیل حضرت اسحاق، حضرت یعقوب (علیہما السلام) کی اولاد میں سے ہیں آج کل اپنے سیّد بھاٸیوں کو دیکھتا ہوں جو پختون معاشرے میں پلے، بڑھے وہ اپنے کو پختون کہلوانے میں زیاد فخر محسوس کرتے ہیں اور سیّد ہونے پر عار، شرم محسوس کرتے ہیں، فخر جن باتوں کی بنا پر کیا جاتا ہے ان میں کچھ یوں ہے ”وہ قوم فضیلت و عظمت میں دوسروں سے بڑھ کر ہو یا وہ بہادری میں مشہور ہو“ یہ دونوں صفات سادات سے بڑھ کر کسی دوسری قوم میں موجود نہیں، شجاعت و بہادری کی بنا پر تو حضرت علیؓ کو شیر علی اور شیر خدا بھی کہا جاتا ہے، امام حسین ؓ وقت کے جابر و ظالم حکمران کے سامنے نہ جھکے نہ ڈرے اپنا تن من، سب خاندان قربان کر گئے لیکن پیچھے مڑے نہیں اور دنیا کو پیغام دیا کہ شجاعت و بہادری یوں ہی ہوتی ہے، پختون قوم کی شجاعت و بہادرے کے قصے ماضی قریب کے بعد مشہور ہوٸے قیصر روم نے جب ابوسفیان سے نبیﷺ کے نسب کے متعلق یہ سوال کیا ”کَیفَ نَسَبُہٗ فِیکُم“ انکا نسب کیسا ہے، صحیح بخاری کے یہ الفاظ ہیں کہ ابوسفیان نے یہ جواب دیا وہ ہم میں بڑے نسب والے ہیں، بزار کی روایت میں یہ الفاظ ہیں ”ھُوَ فی حسبِِ مالا یفضل علیہ احدِِ قال ھذہ آیۃ“ یعنی حسب نسب اور خاندانی شرافت میں کوٸی ان سے بڑھ کر نہیں قیصر روم نے یہ کہا یہ بھی ایک علامت ہے۔ (فتح الباری٨/٦٣) یعنی نبی ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ آپکا خاندان سب سے اعلی و اشرف ہے،صحیح بخاری کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ قیصر روم نے ابو سفیان کا جواب سن کر یہ کہا ”وکذٰلک الرُّسل تبعثُ فی احساب قومہا“ پیغمبر ہمیشہ شریف ہی خاندان سے ہوتے ہیں حسب،نسب اور خاندانی شرافت میں سب سے اعلیٰ و اشرف،افضل، فضیلت اور عظمت اتنی ہو کہ جنکی محبت کے بغیر ایمان نامکمل ہو،شجاعت و بہادری،حسن و جمال میں اپنی مثال آپ ہو تو پھر کیوں کر ہم اتنی بڑی اعلیٰ و اشرف نسبت پر شرم،وعار محسوس کریں راقم کی راٸے کے مطابق ہماری نوجوان نسل اپنی عظمت، فضیلت سے لاعلم اور بے خبر ہیں اسکی وجہ ہماری بے رُخی ہے اپنی اور اپنے اسلاف کی تاریخ سے سادات کے نام پر وجود میں آنے والی تنظیمیں اس معاملے میں اپنا بھر پور کردار آدا کرتے ہوٸے سادات کی فضیلت،وعظمت اجاگر کریں اور جو بے راہ روی کے شکار ہیں انکی اصلاح کریں،اپنے نوجوانوں کو بھی درخواست کرتا ہوں خدارا آنکھیں کھولوں، اپنا مرتبہ پہچان لوں اپنے اسلاف، اکابر، آبا و اجداد کی سوانح حیات پر مشتمل رساٸل، جراٸد و کتابوں کا مطالعہ ضرور کریں پھر نہ آپ پر کوٸی انگلی اٹھاسکتا ہے نہ ہی آپکے حسب ونسب پر

گم ہے تیری آنکھ کا وہ منظر تلاش کر
باہر جو کھو گیا ہے وہ اندر تلاش کر
جو تجھ کو تیری جہالت سے باہر نکالے
دشت جنون میں ایسا قلندر تلاش کر

Leave a Reply