دھرنا سیاسی سرگرمی، دھرنے سے پاک فوج کا کوئی لینا دینا نہیں، میجر جنرل آصف غفور

Spread the love

دھرنا سیاستدانوں کا کام ہے، فوج ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں

فوج حکومت کے احکامات پر عمل کرتی ہے، فوج غیر جانبدار ادارہ ہے، آرمی ملکی دفاع کے کاموں میں مصروف ہے

کرتار پور راہداری کے حوالے سے کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا، شناختی دستاویز اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

کرتار پور راہداری کا کشمیر سے لنک نہیں بنتا۔ مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ کیا اور نہ ہی کبھی ہو گا

اگر فوج کو الیکشن میں نہیں بلایا جائے گا تو نہیں جائے گی،الیکشن کمیشن کی درخواست پر اپنے فرائض انجام دیئے،ترجمان پاک فوج کا انٹرویو

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا مارچ سیاسی سرگرمی ہے اس سے پاک فوج کا کوئی لینا دینا نہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر )کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایک نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دھرنا سیاستدانوں کا کام ہے، فوج ایسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں۔انہوں نے کہاکہ میں جب بھی بولتا ہوں اداروں کیلئے بولتا ہوں اپنی ذات کیلئے نہیں بولتا، جو بھی بیان دیتا ہوں ادارے کی ترجمان کی حیثیت سے دیتا ہوں، 2014 کے دھرنے میں پاک فوج نے حکومت کا ساتھ دیا تھا، لیکن انتخابات میں فوج کا کوئی کردار نہیں، چیف الیکشن کمیشن اور نگران حکومت کی تعیناتی میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوتا، فوج کی خواہش نہیں ہوتی کہ الیکشن میں کوئی کردار ادا کریں۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ فوج حکومت کے احکامات پر عمل کرتی ہے، فوج غیر جانبدار ادارہ ہے، آرمی ملکی دفاع کے کاموں میں مصروف ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمن سینئر سیاستدان ہیں، وہ ملک سے محبت کرتے ہیں۔کرتار پور راہداری کے حوالے سے ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ یہ ون وے راہداری ہے، بھارتی سکھ زائرین صرف حاضری دینے کے لیے آئیں گے، یہ ایک انچ کہیں اور نہیں جا سکتے، یہ لوگ حاضری دے کر واپس چلے جائیں گے۔ دیگر سکھ زائرین ویزے کے حصول کے بعد آئیں گے۔ وہ متعلقہ جگہوں پر جا سکتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں آئی ایس پی آر کے ڈی جی کا کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری کے حوالے سے کوئی کمپرومائز نہیں کیا جائے گا، شناختی دستاویز اور ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

کرتار پور راہداری سکھ کمیونٹی کے لیے ہے، اسے سیاسی معاملہ نہ بنایا جائے۔میجر جنرل آصف غفور کا مزید کہنا تھا کہ کرتار پور راہداری کا کشمیر سے لنک نہیں بنتا۔ مسئلہ کشمیر پر کوئی سمجھوتہ کیا اور نہ ہی کبھی ہو گا۔الیکشن کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر فوج کو الیکشن میں نہیں بلایا جائے گا تو نہیں جائے گی، فوج کی خواہش نہیں کہ الیکشن میں کوئی کردار ادا کرے۔ سیاسی جماعتیں چیف الیکشن کمشنر خود لگاتی ہیں، الیکشن کمیشن کی درخواست پر اپنے فرائض انجام دیئے۔ دوران الیکشن فوج نے صرف سکیورٹی کی ذمہ داریاں ادا کیں،میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ پاک فوج کشمیر کی 70 سالہ جنگ اور 20 سال سے سیکیورٹی کے کاموں میں مصروف ہے اور قربانیاں دے رہی ہے وہ دیگر کاموں پر توجہ نہیں دیتی، حکومت اور فوج نے کشمیر کے معاملے پر کبھی سمجھوتہ کیا ہے اور نہ کرے گی۔

Leave a Reply