جس میں ہمت ہے کام کرا لے تحصیلداروں کا حکومت اور عوام کو چیلنج

Spread the love

انتقال وراثت کی فیس 30 سے 40 ہزار تک پہنچ گئی تحصیلداروں اور نائب تحصیلداروں نے بھی نئے ریٹ جاری کر دیئے

حکومت بے بس سائل برباد سرکاری اہلکاروں کی پانچوں گھی میں سر کڑاہی اور ٹانگیں پیپے میں

لاہور (کورٹ رپورٹ) ایک سروے کے مطابق لاہور کی تحصیلوں کے اکثرتحصیلدار و نائب تحصیلدار صاحبان نے پرائیویٹ منشی رکھے ہوئے ہیں اور تمام سرکاری ریکارڈ انہی کے قبضہ میں ہے۔یہ لوگوں کے ساتھ معاملات طے کر کے ان سے رقوم وصول کرتے اور افسران کو پہنچا کر اپنا حصہ وصول کرتے ہیں ۔ حکومت ہر طرح سے ناکام نظر آ رہی ہے سوائے زبانی جمع خرچ کے کوئی کام نہیں ہو رہاکرپشن کا یہ عالم ہے کہ پرائیویٹ طور پر مختص کئے گئے اہلکارسائلین سے اپنی مرضی کے مطابق پیسے وصول کرتے ہیں۔

ایک سائل کے مطابق انتقال وراثت کی فیس 30,000 سے,000 40 ہزار روپے کی ڈیمانڈ کی جاتی ہے جو پیسے دے دے اس کا کام جلد سے جلد کر دیا جاتا ہے اور جو کسی مجبوری کے تحت پیسے نہ دے سکے اس کو مہینوں ذلیل کیا جاتا ہے انتقال وراثت اشتہار کی آڑ میں سائلین سے 3000 سے 5000 ہزار روپے بٹورے جاتے ہیںجب کہ اخبارات ان اشتہارات کو عوامی اشتہار کے طور پر شائع کرتے ہیں جن کے نرخ اس سے کہیں کم ہوتے ہیں۔مختلف مراکز دفاتر اور پٹوار خانوں میں سائلین نے ہمارے نمائندے کو بتایا کہ اگر کوئی اپنا اشتہار خود لگوانا چاہے تو اس کو بہت ذلیل کیا جاتا ہے جو تمام ذلت کے باوجود اپنا اشتہار لینے میں کامیاب ہو جائے اس کے شائع شدہ اشتہار کو مسترد کر کے دوبارہ اشتہار لگوانے کے علاوہ مزید کئی مسائل کھڑے کر دیئے جاتے ہیں۔

سائلین نے احتجاج کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے کارروائی کی اپیل کی ہے کینٹ کے تحصیلدار محمد نعیم مونگا ، ماڈل ٹائون کے تحصیلدار اسد رشید بٹ، لاہور سٹی کے تحصیلدار سجاد احمد قریشی اور رانا ندیم احمد ان تحصیلدار صاحبان نے سارے کا سارا کام پرائیویٹ منشیوں کے سپرد کر رکھا ہے منشیوںمیں سے اکثر ان کے رشتہ دار یا عزیز بتائے جاتے ہیں اور ان کے ماتحت پٹواری حضرات جو ان کا حکم نہ مانے ان کے انتقالات پاس نہیں کئے جاتے اور ان کو طرح طرح کے مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے

ایک صاحب نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر بتایا کہ تحصیلدار اور نائب تحصیلدار ہم سے مہینہ طلب کرتے ہیں ایسی صورت میں اگر ہم نے نوکری کرنی ہے تو اس کے لیے سب کرنا پڑتا ہے۔ مذکورہ بالا افسران سے ان کے موقف کے لیے رابطہ کیا گیا تو بعض نے تو سخت رویہ اپنایا اور موقف دینے سے انکار کیا اور بعض دفاتر میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی ملی ہیں۔اس تمام صورت حال سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں کوئی حکومت نہیں اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون چل رہا ہے۔

Leave a Reply